Sunday, 21 September 2025

غزہ کی ہجرت: قرآن کی روشنی میں مظلومیت، استقامت اور نئی امید کا سفر

اہل غزہ دوسال کی نسل کشی کے بعد اب غزہ سے کسی ان دیکھی منزل کی طرف ہجرت کرنے پہ مجبور کر دئیے گئے ہیں۔ بھوک پیاس اور بے سروسامانی میں لاکھوں افراد کسی نئے ٹھکانے کی امید میں اپنے بچے کھچے خاندان کے ساتھ عازم سفر ہیں۔ ہجرت محض ایک جغرافیائی نقل مکانی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایمان، صبر اور اللہ پر توکل کا ایک عظیم عمل ہے۔ قرآن مجید ہجرت کو ایمان کی تکمیل اور اجر عظیم کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ" (البقرہ: 218)

"بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، یہی لوگ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔"
اس طرح آج فلسطین، خاص طور پر غزہ کی پٹی، میں جو الم ناک صورت حال ہے وہ اسی ہجرت کے جدید دور کا ایک درد ناک باب ہے۔ جہاں مظلوم عوام کو اپنے ہی وطن میں غیر انسانی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں ہجرت ان کے لیے زندگی کی بازیافت کا واحد ذریعہ بن گئی ہے۔
ہجرت کے ضمن میں تین طرح کے معاشرتی ماڈلز ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ایک مکے کا معاشرتی ماڈل ہے۔ یہ ماڈل ظلم پہ مبنی ہے۔ یہ لوگوں کو اختلاف رائے رکھنے کا حق نہیں دیتا۔ لوگوں سے حق زندگی چھین لیتا ہے اور ان کی املاک پہ ناحق قبضہ بھی کر لیتا ہے۔ یہ معاشرے تادیر قائم نہیں رہتے جلد ہی یہ گر جاتے ہیں۔
قرآن مجید واضح طور پر ان معاشروں کی تباہی کی خبر دیتا ہے جو مظلوموں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرتے اور انہیں جبراً نقل مکانی پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ ایک سنت الہیٰ (اللہ کا نافذ کردہ قانون) ہے۔ ارشاد ہے: "وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَيَّ الْمَصِيرُ" (الحج: 48)
"اور بہت سے ایسے بستی والے تھے جنہیں میں نے (توبہ کی) مہلت دی حالانکہ وہ ظلم کر رہے تھے، پھر میں نے انہیں پکڑ لیا، اور (سب کو) میری ہی طرف پلٹنا ہے۔"
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے ہی لوگوں پر ظلم ڈھایا، انہیں بے گھر کیا، یا مہاجرین کے حقوق پامال کیے، وہ کبھی بھی فلاح اور استحکام سے ہمکنار نہیں ہو سکیں۔ فرعون کی سرزمین، قدیم بابل اور دیگر مظالم کرنے والی تہذیبیں اس کی واضح مثالیں ہیں۔ ان معاشروں کا داخلی اور اخلاقی تانا بانا بکھر گیا اور وہ تاریخ کے صفحات میں محض ایک عبرت ناک داستان بن کر رہ گئیں۔
دوسرا طائف کا معاشرتی ماڈل ہے۔ یہ وہ ماڈل ہے جہاں مظلوم امداد کے لیے جاتے ہیں لیکن وہ اپنے دروازے مظلوموں کے لیے نہیں کھولتے۔ بلکہ ان کو ان کی حالت کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کو اپنے معاشروں سے تذلیل کے بعد نکال دیتے ہیں۔ یہ معاشرے بھی زبردست حفاظتی اقدامات کے باوجود زیادہ دیر قائم نہیں رہتے۔
قرآن مجید اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ اگر کوئی تمہارے پاس پناہ مانگے تو اسے پناہ دو، چاہے وہ تمہارا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ اسے رد کر دینا درحقیقت اللہ کی نعمت (امن اور وسائل) کے ساتھ کفران ہے۔
"وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ" (التوبہ: 6)
"اور اگر مشرکین میں سے کوئی تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دو، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے، پھر اسے اس کی جگہ امن تک پہنچا دو۔"
تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں نے انسانی ہمدردی، رحم اور پناہ گزینی کے فریضے کو نظر انداز کیا، ان کے پاس وسائل اور طاقت کی کمی کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کے اخلاقی اور روحانی بانکپن کی وجہ سے ایسا کیا۔ ایسے معاشرے داخلی طور پر کھوکھلے ہو جاتے ہیں، ان میں انسانی ہمدردی ختم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے ہی ظلم اور خود غرضی کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہ ایک واضح سنتِ الٰہی ہے کہ "جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے"
تیسرا مدینے کا معاشرتی ماڈل ہے۔ یہ وہ ماڈل ہے جو پہلے سے خود کی تقسیم سے نبرد آزما ہوتا ہے مگر مظلوم کو اپنے ہاں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اپنا رزق ان کے ساتھ تقسیم کرتے ہیں۔ انہیں اپنے ہاں پناہ دیتے ہیں ان کے پیچھے آنے والے ظالموں سے ان کی حفاظت میں اپنی جان تک قربان کر دیتے ہیں۔ یہ معاشرے معمولی سے غیر معمولی کی جانب سفر کرتے ہیں۔ یہیں سے دنیا کی بڑی بڑی سلطنتیں ان کے سامنے سرنگوں ہو جاتی ہیں ۔
اس کے ساتھ قرآن مجید ان لوگوں کے لیے رحمت، برکت اور نصرت کی بشارتیں سناتا ہے جو مظلوم مہاجرین کو پناہ دیتے ہیں، ان کی مدد کرتے ہیں اور انہیں معاشرے کا فعال حصہ بناتے ہیں۔ مدینہ منورہ کے انصار نے رسول اللہ ﷺ اور ان کے مہاجر ساتھیوں کو اپنے گھر اور دل دونوں میں جگہ دی۔ اس عمل پر اللہ تعالیٰ نے ان کی بے پناہ تعریف فرمائی: "وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ... وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ" (الحشر: 9)
"اور (انصار) وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس شہر (مدینہ) میں (مہاجرین کے لیے) جگہ بنائی اور ان کے دلوں میں ایمان بھی (جاگزیں تھا)، یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ان کے پاس ہجرت کر کے آئے... اور جو کچھ (مال و متاع) مہاجرین کو دیا جاتا ہے اس پر یہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہیں کرتے، بلکہ انہیں اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ خود انہیں شدید حاجت ہی کیوں نہ ہو۔"
یہی وہ اخلاقی اساس تھی جس پر تعمیر ہونے والا معاشرہ تاریخ کا سب سے کامیاب اور روشن خیر تہذیب بنا۔ جدید دور میں بھی، کینیڈا، جرمنی جیسے ممالک نے مہاجرین کے ذریعے معاشی و ثقافتی ترقی اور استحکام حاصل کیا ہے، جو اس سنت الہیٰ کی ایک جدید تفسیر ہے۔
غزہ کی پٹی کا موجودہ بحران انسانی تاریخ کے تاریک ترین ابواب میں سے ایک ہے۔ بے گناہ مرد، عورتیں اور بچے اپنے ہی گھروں میں قید ہیں، جنہیں بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ایسے میں ہجرت ان کے لیے موت کے پنجے سے نکل کر زندگی کی طرف بھاگنے کے مترادف ہے۔ یہ ہجرت ان کی اپنی مرضی نہیں، بلکہ انتہائی مجبوری ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: "إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ" (النحل: 106)
"سوائے اس کے جو مجبور کر دیا جائے لیکن اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔"
غزہ کے باشندے اپنی زمین، اپنے گھر بار اور اپنی تاریخ سے محبت کرتے ہیں، لیکن جب بقاء کی جنگ ہر روز کی حقیقت بن جائے تو ہجرت ہی واحد راستہ نظر آتا ہے۔ عالمی براداری کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان مہاجرین کو محض ایک عددی بوجھ کے طور پر نہ دیکھے، بلکہ انہیں اس صلاحیت اور عزم کے ساتھ دیکھے جو کسی بھی معاشرے کو خوشحال اور مضبوط بنا سکتا ہے۔
غزہ کی ہجرت محض فلسطینی عوام کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کے امتحان کا مسئلہ ہے۔ ہمیں قرآن مجید کی اس تعلیم کو اپنانا ہوگا کہ مظلوم کی مدد اور مہاجر کی میزبانی ایمان کا تقاضا ہے۔
اہل غزہ کی جانب ہمارے رویے ہمارے مقام اور ہمارے مستقبل کا تعین کریں گے۔ غزہ کے لوگ ظالم کے ظلم سے تنگ آ کر "مکے کے معاشرتی ماڈلی " سے ہجرت کے لیے نکل چکے۔ اب مسلمان ممالک پہ ہے کہ ان کے ساتھ اہل طائف کے معاشرتی ماڈل جیسا سلوک کرتے ہیں یا اہل مدینی کے معاشرتی ماڈل جیسا۔ آئیے، ہم تاریخ کے اس اہم موڑ پر کھڑے ہو کر غزہ کے مظلوم مہاجرین کے لیے آواز بلند کریں۔ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق انسانی امداد پہنچانے میں حصہ ڈالیں۔ اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ ان مہاجرین کے لیے محفوظ راستے کھولیں اور ان کے جبری بے گھر ہونے کے خلاف موقف اختیار کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں ان مظلوم بھائیوں اور بہنوں کے لیے درد پیدا فرمائے اور ہمیں ان کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ اللہ تبارک تعالیٰ ارشاد فرماتا:
"وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ" (المائدہ: 2)
"اور نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو، اور گناہ اور ظلم کے کاموں میں تعاون نہ کرو۔" 

Monday, 15 September 2025

میلاد النبی کی اور وفات النبی کی درست تاریخ

اس بات میں اختلاف ہے کہ حضورﷺ کی تاریخ ولادت کیا ہے۔ معروف مورخ حافظ ابن کثیرؒالبدایہ االنہایہ میں لکھتے ہیں کہ اس بات پر اتفاق ہے کہ حضورﷺعام الفیل (یعنی جس سال ابرہہ نے ہاتھیوں کے لشکر سے بیت اللہ شریف پر حملہ کیا)میں پیدا ہوئے۔ نیز فرماتے ہیں کہ اس میں بھی اختلاف نہیں کہ آپ ﷺ سوموار کے روز پیدا ہوئے۔ نیز لکھتے ہیں کہ جمہور اہل علم کا مسلک یہ ہے کہ آپﷺ ماہ ربیع الاول میں پیدا ہوئے لیکن یہ کہ آپ ﷺاس ماہ کے اول، آخر یا درمیان یا کس تاریخ کو پیدا ہوئے؟ اس میں مؤرخین اور سیرت نگاروں کے متعدد اقوال ہیں کسی نے ربیع الاول کی دو تاریخ کہا، کسی نے آٹھ، کسی نے دس، کسی نے بارہ، کسی نے سترہ، کسی نے اٹھارہ اور کسی نے بائیس ربیع الاول کہا۔ پھر حافظ ابن کثیر نے ان اقوال میں سے دو کو راجح قرا ردیا، ایک بارہ اور دوسرا آٹھ اور پھر خود ان دو میں سے آٹھ ربیع الاول کے یوم ولادت ہونے کو راجح قرار دیا۔
قسطنطنیہ (استنبول) کے معروف ماہر فلکیات اور مشہورہیئت دان محمود پاشا فلکی نے اپنی کتاب 'التقویم العربي قبل الإسلام' میں ریاضی کے اصول و قواعد کی روشنی میں متعدد جدول بنا کر یہ ثابت کیا ہے کہ ''عام الفیل ماہ ربیع الاول میں بروز سوموار کی صحت کو پیش نظر اور فرزند ِرسول 'حضرت ابراہیم' کے یومِ وفات پرسورج گرہن لگنے کے حساب کو مدنظر رکھا جائے تو آنحضرت ﷺ کی وفات کی صحیح تاریخ 9 ربیع الاول ہی قرار پاتی ہے اور شمسی عیسوی تقویم کے حساب سے یومِ ولادت کا وقت 20 ؍اپریل 571ء بروز پیر کی صبح قرار پاتا ہے۔''
رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے زیر اہتمام سیرت نگاری کے عالمی مقابلہ میں اوّل انعام پانے والی کتاب 'الرحیق المختوم' کے مصنف کے بقول
''رسول اللہ ﷺ مکہ میں شعب بنی ہاشم کے اندر ۹؍ ربیع الاول سن۱، عام الفیل یوم دو شنبہ (سوموار) کو صبح کے وقت پیدا ہوئے۔''
برصغیر کے معروف مؤرخین مثلاً علامہ شبلی نعمانی، قاضی سلیمان منصور پوری، اکبر شاہ نجیب آبادی وغیرہ نے بھی ۹؍ ربیع الاول کے یوم ولادت ہونے کو ازروئے تحقیق ِجدید صحیح ترین تاریخ ولادت قرار دیا ہے۔
ابن سعد اپنی طبقات میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺربیع الاول کی بارہ تاریخ کو فوت ہوئے۔ ذہبی نے بھی اسے اپنی تاریخ اسلام میں نقل کیا ہے ۔حافظ ابن کثیر ابن اسحق کے حوالہ سے رقم طراز ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ۱۲؍ ربیع الاول کو فوت ہوئے۔ مؤرخ ابن اثیر الکامل میں رقم طراز ہیں کہ نبی اکرمﷺ۱۲؍ ربیع الاول بروز سوموار فوت ہوئے۔] حافظ ابن حجرؒ نے بھی فتح الباری میں اسے ہی جمہور کا موقف قرار دیا۔محدث ابن حبان کی السیرۃ النبویۃ میں بھی تاریخ وفات ۱۲ ربیع الاول ہی نقل ہوئی ہے۔امام مسلم کی شرح میں امام نووی نے بھی اس کی تائید کی ہے۔
مؤرخ و مفسر ابن جریر طبری نے بھی ۱۲؍ ربیع الاول کو تاریخ وفات قرار دیا ہے۔دلائل النبوۃ میں امام بیہقی کی بھی یہی رائے ہے۔ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ملا علی قاری کا بھی یہی فیصلہ ہے ۔ برصغیر پاک و ہند کے بہت بڑے سیرت نگار مولانا شبلی نعمانی کا بھی یہی فتویٰ ہے۔ کتاب رحمۃ للعالمین کے مصنف قاضی سلیمان منصور پوری کی بھی یہی رائے ہے۔ ایوارڈ یافتہ کتاب الرحیق المختوم میں صفی الرحمن مبارکپوری کا بھی یہی فیصلہ ہے۔ اپنی کتاب لسیرۃ النبویۃ میں ابوالحسن علی ندوی کی بھی یہی رائے ہے۔ سب سے آخر پہ بریلوی فرقے کے بانی احمد رضا خان بریلوی کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ اللہ کے رسولﷺ۱۲ ربیع الاوّل کو فوت ہوئے۔
درج بالا حوالہ جات سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ ۱۲؍ ربیع الاول یومِ ولادت نہیں بلکہ یوم وفات النبیﷺہے اور برصغیر میں عرصۂ دراز تک اسے '12 وفات' کے نام ہی سے پکارا جاتا رہا ہے۔ اس دن جشن اور خوشی منانے والوں پرجب یہ اعتراض ہونے لگے کہ یہ تو یوم وفات ہے اور تم وفات پر شادیانے بجاتے ہو!... تو اس معقول اعتراض سے بچنے کے لئے کچھ لوگوں نے اس کا نام '12 وفات' کی بجائے 'عیدمیلاد' رکھ دیا جیسا کہ روزنامہ 'مشرق' لاہور کی 24 جولائی 1986ء کی درج ذیل خبر سے یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے :
''اس سے پیشتر یہ یوم بارہ وفات کے نام سے منسوب تھا مگر بعد میں انجمن نعمانیہ ٹکسالی گیٹ کے زیر اہتمام پیر جماعت علی شاہ ، مولانا محمد بخش مسلم، نور بخش توکلی اور دیگرعلما نے ایک قرار داد کے ذریعے اسے 'میلادالنبی ﷺ' کا نام دے دیا۔''

Wednesday, 10 September 2025

اسلام کی امتیازی خسوصیات


 قرآنِ حکیم اور رسولِ اکرم ﷺ کی احادیثِ مبارکہ میں بار بار یہ حقیقت اجاگر کی گئی ہے کہ تمام آسمانی مذاہب کا ماحصل ایک ہی بنیادی پیغام تھا: اللہ کی وحدانیت اور اس کی بندگی بلاشرکتِ غیرے۔

تاریخِ انسانیت میں جتنے بھی انبیاء و رسل مبعوث ہوئے وہ اسی دعوت کے امین تھے۔ ہر نبی اپنی قوم کے سامنے اعلان کرتا کہ اصل حاکم و مالک صرف اللہ ہے اس کے سوا نہ کوئی عبادت کے لائق ہے نہ اطاعت کے۔ حضرت نوحؑ سے لے کر سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک یہ قافلۂ انبیاء اپنی اپنی امتوں کو یہی درس دیتا رہا۔

رسولِ رحمت ﷺ نے ایک نہایت دلنشیں مثال کے ذریعے اپنی بعثت کی وضاحت فرمائی:

"میری اور سابقہ انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک حسین و جمیل محل تعمیر کیا گیا ہو، مگر ایک کونے میں صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی ہو۔ لوگ اس عمارت کا طواف کریں اور تعریف کریں مگر یہ بھی کہیں: کاش وہ ایک اینٹ بھی لگادی جاتی! میں وہ آخری اینٹ ہوں اور میں ہی آخری نبی ہوں۔" [بخاری[

یوں سلسلۂ نبوت آپ ﷺ پر آکر مکمل ہوا۔ اب کوئی نبی یا رسول مبعوث نہ ہوگا۔ تمام انبیاء کی دعوت کا مرکزی نکتہ یہی تھا کہ اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کیا جائے اور شرک سے اجتناب کیا جائے۔ انہوں نے اللہ کی پاکیزگی، بے نیازی اور کامل صفات کو بیان کیا۔ اپنی امتوں کو واسطوں اور شریکوں سے ہٹاکر براہِ راست اللہ کی عبادت پر آمادہ کیا۔ اسی دعوت کے ذریعے انسانیت کو حقیقی فلاح کے راستے پر لگایا گیا تاکہ دنیا میں سکون اور آخرت میں نجات میسر ہو۔

قرآن گواہی دیتا ہے:

"اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا جس کا حکم نوحؑ کو دیا اور جس کی وحی ہم نے آپ ﷺ کی طرف کی اور جس کا حکم ہم نے ابراہیمؑ، موسیٰؑ اور عیسیٰؑ کو دیا کہ دین قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔" [42:13[

اسلام تمام پچھلے مذاہب پر خطِ نسخ کھینچتا ہے اور وہ آخری دین ہے جسے اللہ نے بنی نوعِ انسان کے لیے پسند فرمایا۔ اب اللہ تعالیٰ کے حضور کوئی اور دین قابلِ قبول نہیں۔ ارشادِ ربانی ہے:

"اور ہم نے آپ ﷺ پر حق کے ساتھ یہ کتاب نازل کی جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی اور ان پر نگران ہے۔" [5:48[

یہ دین چونکہ آخری ہے، اس لیے اس کی حفاظت کا ذمہ خود ربِ کائنات نے لیا ہے:

"بیشک ہم نے ہی یہ ذکر (قرآن) نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔" [15:9[

قرآن نے صراحت کے ساتھ فرمایا:

"محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔" [33:40]

اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ پچھلے انبیاء اور آسمانی صحیفے سب قابلِ احترام ہیں۔ حضرت موسیٰؑ اور عیسیٰؑ نے بھی اپنی اپنی امتوں کو وہی پیغام دیا جو رسولِ اکرم ﷺ نے دیا: اللہ کی بندگی اور شرک سے اجتناب۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان تمام انبیاء و کتب پر ایمان لاتے ہیں۔ اگر کوئی کسی ایک نبی یا کتاب کا انکار کرے تو وہ ایمان سے محروم ہو جاتا ہے۔ قرآن اعلان کرتا ہے:

"جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کچھ پر ایمان لائیں اور کچھ کا انکار کریں اور درمیان کا راستہ اختیار کریں وہی حقیقت میں کافر ہیں۔" [4:150-151[

اسلام ایک عالمگیر دین ہے۔ یہ کسی مخصوص نسل، زبان یا علاقے کے لیے محدود نہیں۔ اس میں نہ رنگ کی تخصیص ہے نہ نسب کی تفریق۔ اسلام سب کو ایک ہی کلمے کے تحت جوڑ دیتا ہے: اللہ واحد ہے محمد ﷺ اس کے آخری رسول ہیں۔ جو اس حقیقت کو مان لے وہ چاہے کسی بھی نسل یا قوم سے ہو، مسلمان ہے۔

قرآن کہتا ہے:
"
اور ہم نے آپ ﷺ کو نہیں بھیجا مگر تمام انسانیت کے لیے بشیر و نذیر بنا کر۔" [34:28[

اس کے برعکس سابقہ انبیاء مخصوص اقوام کی طرف مبعوث کیے گئے تھے۔ چنانچہ حضرت نوحؑ کے بارے میں فرمایا:
"
بیشک ہم نے نوحؑ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔" [7:59[
حضرت ہودؑ کے بارے میں فرمایا:
"
اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ہودؑ کو بھیجا۔" [7:65[
حضرت صالحؑ کے بارے میں فرمایا:
"
اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالحؑ کو بھیجا۔" [7:73[
حضرت شعیبؑ کے بارے میں فرمایا:
"
اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا۔" [7:85[
حضرت موسیٰؑ کے بارے میں فرمایا:
"
پھر ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا۔" [7:103[
اور حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں فرمایا:
"
اور جب عیسیٰؑ بن مریم نے کہا: اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں جو میرے سے پہلے آئی ہوئی تورات کی تصدیق کرتا ہوں۔" [61:6[

چونکہ اسلام ایک آفاقی پیغام ہے، اس لیے امتِ مسلمہ کو اس پیغام کے ابلاغ کا حکم دیا گیا۔ قرآن نے فرمایا:
"
اور اسی طرح ہم نے تمہیں بہترین اور معتدل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ رہو اور رسول تم پر گواہ رہیں۔" [2:143[

یوں اسلام کی امتیازی شان یہ ہے کہ یہ دینِ فطرت ہے، دینِ عدل ہے اور دینِ وحدت ہے جس نے کائنات کی ہر قوم کو ایک ہی حقیقت کے رشتے میں پرو دیا۔

Saturday, 6 September 2025

مواخاتِ مدینہ: ریفیوجی ریسٹلمنٹ سے نیشن بلڈنگ تک:


مواخاتِ مدینہ اسلامی تاریخ کا وہ انقلابی واقعہ ہے جسے صرف ایک مذہبی یا روحانی واقعہ سمجھنا حقیقت کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ یہ دراصل ایک ایسا سماجی اور سیاسی تجربہ تھا جس نے دنیا کو یہ بتا دیا کہ معاشرت میں پائیدار اتحاد صرف نظریاتی بنیادوں پر قائم کیا جا سکتا ہے اور یہ کہ انسانی رشتوں میں اخوت و مساوات کی بنیاد پر ہی ایک نئی دنیا تعمیر کی جا سکتی ہے۔
 رسول اللہ ﷺ نے مکہ سے ہجرت کے بعد مدینہ میں پہنچتے ہی سب سے پہلا قدم یہی اٹھایا کہ مہاجرین اور انصار کے درمیان رشتۂ مواخات قائم کیا۔ طبری، ابن ہشام، ابن سعد اور دیگر مؤرخین نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پینتالیس مہاجرین کو پینتالیس انصار کے ساتھ بھائی بنایا اور انہیں صرف مذہبی بھائی نہیں کہا بلکہ یہ تعلق اس درجہ مضبوط قرار پایا کہ بعض اوقات وراثت بھی ایک دوسرے سے ملنے لگی ۔اس تعلق کی نوعیت اتنی گہری تھی کہ مدینہ میں آنے والے اجنبی مہاجرین کو فوری طور پر ایک خاندان، ایک گھر، ایک کاروباری سہارا اور ایک سماجی دائرہ فراہم ہو گیا۔
اگر اس عمل کو جدید سماجی تصورات کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ کسی "سوشل انٹیگریشن پالیسی" سے کم نہیں تھا۔ جدید معاشروں کو سب سے بڑا مسئلہ یہ درپیش ہوتا ہے کہ مختلف نسلوں، مختلف علاقوں اور مختلف ثقافتوں سے آنے والے لوگوں کو کیسے ایک اکائی میں ضم کیا جائے۔ یورپ اور امریکہ جیسے ممالک میں مہاجرین اور پناہ گزینوں کی آبادکاری کے پروگرام موجود ہیں لیکن اکثر ان میں مسائل کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مہاجرین اکثر "مارجنلائزڈ کمیونٹیز" میں رہ جاتے ہیں۔ ان کا سماجی و معاشی درجہ کمزور رہتا ہے۔ ان میں اور مقامی لوگوں میں دوری پیدا ہو جاتی ہے۔ مدینہ میں رسول اللہ ﷺ نے اس مسئلے کو نہایت سادہ مگر انقلابی طریقے سے حل کیا۔ انصار کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ صرف خیرخواہی نہ کریں بلکہ اپنے وسائل میں انہیں برابر کا شریک بنائیں۔ اس کا عملی مظاہرہ اس وقت ہوا جب حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کو حضرت سعد بن ربیعؓ نے آدھا گھر اور آدھا مال دینے کی پیشکش کی۔ عبد الرحمن بن عوفؓ نے اس پیشکش سے صرف یہ کہا کہ مجھے بازار کا راستہ دکھا دیں تاکہ میں اپنی محنت سے کما سکوں۔ یہ منظر دراصل "ریفیوجی ریسٹلمنٹ" اور "ہوسٹ کمیونٹی پارٹنرشپ" کی بہترین مثال تھا۔
یہاں ایک اور پہلو قابل غور ہے کہ مہاجرین کو صرف رہائش اور کھانے کی سہولت نہیں دی گئی بلکہ انہیں عزتِ نفس کے ساتھ کھڑا ہونے کا موقع دیا گیا۔ اس عمل نے ایک "سوشل کیپیٹل نیٹ ورک" قائم کر دیا جس کی بدولت مہاجرین فوراً مدینہ کی معاشرت میں ضم ہو گئے۔ جدید سماجیات میں "سوشل کیپیٹل" سے مراد وہ روابط اور تعلقات ہیں جو انسان کو ترقی کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک اجنبی کے لیے نیا شہر ہمیشہ اجنبیت اور بےسہارا پن لے کر آتا ہے، لیکن مدینہ میں یہ اجنبیت اخوت کی بنیاد پر ختم کر دی گئی۔ مواخات نے مہاجرین کو فوری طور پر تعلقات، کاروبار، عزت اور تعاون کا ایک ایسا دائرہ فراہم کیا جو کسی بھی جدید "کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروگرام" سے زیادہ مؤثر تھا۔
اس منظر کو ہم "ویلفیئر اسٹیٹ" کے تصور سے بھی جوڑ سکتے ہیں۔ جدید ریاستیں اپنے کمزور اور ضرورت مند شہریوں کو معاشرتی تحفظ دیتی ہیں۔ انہیں روزگار، رہائش، خوراک اور علاج فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی فلاحی پالیسی نافذ کی جو اس وقت کی ریاست کے وجود سے بھی پہلے کی تھی۔ مواخاتِ مدینہ میں ایک پالیسی یہ بھی تھی کہ انصار اپنے گھروں کو مہاجرین کے لیے کھولیں، انہیں اپنے کاروبار اور زمینوں میں شریک کریں، اور کسی بھی سطح پر انہیں اجنبی یا بوجھ نہ سمجھیں۔ قرآن مجید نے انصار کے کردار کو یوں بیان کیا: "وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ" (الحشر:۹) یعنی وہ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ خود کتنی ہی ضرورت میں ہوں۔ یہ وہی آیت ہے جو انصار کی ایثار پسندی اور اس سماجی انقلاب کو بیان کرتی ہے جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں مشکل سے ملے گی۔
اس اقدام میں ایک پہلو "ملٹی کلچرلزم" یعنی مختلف ثقافتوں اور طبقات کے درمیان ہم آہنگی بھی تھا۔ مدینہ میں اس وقت صرف انصار اور مہاجرین ہی نہ تھے بلکہ یہود، مشرکین اور دیگر قبائل بھی بستے تھے۔ مہاجرین کا پس منظر مکہ کا تھا، وہ زیادہ تر تجارت پیشہ اور قریشی کلچر کے نمائندہ تھے۔ انصار زیادہ تر کھیتی باڑی سے وابستہ تھے اور اوس و خزرج کے قبائلی کلچر کے حامل تھے۔ عام طور پر مختلف ثقافتوں کے ٹکراؤ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، لیکن رسول اللہ ﷺ نے انہیں "اخوت" کی بنیاد پر ایک ایسے رشتے میں پرو دیا کہ وہ فرق مٹ گیا۔ یہ اس وقت کا سب سے کامیاب "ملٹی کلچرل انٹیگریشن ماڈل" تھا۔
اس سارے منظر کو جدید ریاستوں کے تناظر میں دیکھیں تو مواخات مدینہ محض ایک مذہبی جذبے کا مظہر نہیں تھا بلکہ ایک عملی "سوشیالوجیکل ماڈل" تھا۔ مہاجرین کی مالی اور سماجی کفالت کو یقینی بنایا گیا، لیکن ساتھ ہی انہیں محنت کے مواقع دیے گئے تاکہ وہ مستقل طور پر بوجھ نہ رہیں۔ آج کے "ریفیوجی پالیسی ڈسکورس" میں بار بار یہ بات اٹھتی ہے کہ پناہ گزینوں کو محض راشن یا سرکاری امداد دینے کے بجائے انہیں محنت کرنے اور معیشت میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ معاشرے کے فعال رکن بن سکیں۔ مواخات مدینہ اسی اصول کی سب سے پہلی عملی مثال تھی۔
یہاں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ مواخات نے صرف انفرادی زندگی نہیں بدلی بلکہ ایک اجتماعی نظام کو جنم دیا۔ اس سے پہلے مدینہ ایک قبائلی معاشرت تھی جہاں اوس اور خزرج کی دشمنی کی طویل تاریخ موجود تھی۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین کو انصار کے ساتھ جوڑ کر ایک نئی "امتی شناخت" قائم کر دی۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں پر "tribal identity" ختم ہو کر "ummah identity" کی بنیاد پڑی۔ سوشیالوجی کی زبان میں یہ عمل "collective identity transformation" کہلاتا ہے۔ یہ وہی چیز تھی جس نے ایک کمزور اور منتشر معاشرت کو ایک منظم اور مضبوط امت میں بدل دیا۔
مؤرخین نے لکھا ہے کہ مواخات کے بعد مہاجرین اور انصار کے درمیان جو تعلق قائم ہوا، اس نے مستقبل کے بڑے بڑے معرکوں جیسے بدر، احد اور خندق میں عملی کردار ادا کیا۔ مہاجرین کے پاس اگر مدینہ میں انصار کی یہ پشت پناہی نہ ہوتی تو وہ دشمن کے مقابلے میں کھڑے نہ ہو پاتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مواخات نے نہ صرف سماجی مسائل حل کیے بلکہ ایک "سٹریٹجک یونٹی" بھی پیدا کی جو سیاسی اور عسکری کامیابیوں کی بنیاد بنی۔ اس زاویے سے دیکھیں تو یہ کسی جدید "نیشن بلڈنگ پالیسی" سے کم نہیں تھا۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس وقت دنیا کے دوسرے معاشروں میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ فاتح یا غالب گروہ، اجنبیوں یا کمزوروں کو اپنے ساتھ برابر کا شریک بنائے۔ رومی سلطنت میں غلامی کا نظام تھا، ایرانیوں میں طبقاتی تفریق عروج پر تھی، ہندو معاشرت میں جاتی پر مبنی درجہ بندی تھی۔ اس ماحول میں مدینہ کا یہ ماڈل گویا ایک "سوشیالوجیکل بریک تھرو" تھا جس نے برابری، مساوات اور اخوت کی بنیاد پر ایک نئی تہذیبی روح پیدا کی۔
اس واقعے سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ انسانی رشتے خون اور نسل سے زیادہ نظریہ اور مقصد کی بنیاد پر مضبوط ہو سکتے ہیں۔ جدید سیاسی تھیوری میں "سوشل کنٹریکٹ" کی بحث کی جاتی ہے کہ معاشرت کو قائم رکھنے کے لیے انسان معاہدہ کرتے ہیں۔ مواخات مدینہ ایک زندہ مثال تھی کہ یہ "سوشل کنٹریکٹ" محض قانونی دستاویز نہیں بلکہ حقیقی اخوت اور ایثار پر قائم ہو تو ایک ایسی قوم وجود میں آتی ہے جو دنیا کا نقشہ بدل دیتی ہے۔
الغرض، مواخات مدینہ کو اگر آج کی زبان میں بیان کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ "Integration Model + Refugee Resettlement Program + Welfare Policy + Social Capital Building + Multicultural Cohesion + Nation Building Strategy" سب کچھ تھا۔ اس میں فرد کی عزت نفس کا تحفظ تھا، کمیونٹی کی ترقی تھی، اور ریاست کے قیام سے پہلے ہی فلاحی پالیسی کا نفاذ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ واقعہ آج بھی سماجی سائنسدانوں اور ماہرینِ سیاست کے لیے ایک "کیس اسٹڈی" کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ مواخات مدینہ صرف تاریخ کا ایک روشن باب نہیں بلکہ آج کی دنیا کے لیے بھی ایک رہنما اصول ہے۔ اگر آج کی عالمی برادری مہاجرین کے مسئلے، غربت کے خاتمے، اور مختلف ثقافتوں کے انضمام کے لیے کوئی پائیدار ماڈل چاہتی ہے تو اسے مدینہ کی اس اخوت سے سبق لینا ہوگا جو قرآن نے "إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ" کہہ کر دائمی اصول کے طور پر محفوظ کر دیا۔ یہ ماڈل آج بھی ہر اس سماج کے لیے امید کی کرن ہے جو عدل، مساوات اور بھائی چارے پر کھڑا ہونا چاہتا ہے۔
مواخاتِ مدینہ دراصل انسانی تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جس میں ہجرت کرنے والے مہاجرین کے دکھوں کو انصار کی ایثار پسندی نے خوشی میں بدل دیا، اجنبیت کو اپنائیت نے شکست دی اور کمزوری کو اتحاد نے طاقت میں بدل ڈالا۔ اگر جدید دنیا کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ عمل صرف ایک مذہبی جذبہ نہیں تھا بلکہ ایک عملی سماجی ماڈل تھا جس نے ریفیوجی ریسٹلمنٹ کو فلاحی پالیسی کے ساتھ جوڑا، اجنبیوں کو سوشل نیٹ ورک دیا، اور ایک نئی اجتماعی شناخت کی بنیاد رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ چند سالوں میں وہ بکھری ہوئی امت ایک ایسی منظم قوم میں بدل گئی جس نے عالمی تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ آج جب دنیا مہاجرین کے بحران، نسلی تقسیم اور معاشرتی انتشار کا شکار ہے تو مواخاتِ مدینہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی نیشن بلڈنگ اسی وقت ممکن ہے جب معاشرت اپنی بنیاد اخوت، مساوات اور ایثار پر رکھے۔ یہی وہ لازوال پیغام ہے جو اس عنوان میں جھلکتا ہے:
"مواخاتِ مدینہ: ریفیوجی ریسٹلمنٹ سے نیشن بلڈنگ تک"
یہ نتیجہ آج بھی ہر اس معاشرے کے لیے چراغِ راہ ہے جو انسانیت کو تقسیم کے بجائے وحدت اور نفرت کے بجائے محبت پر قائم کرنا چاہتا ہے۔


 

Monday, 1 September 2025

"From Medina to Modernity: میثاقِ مدینہ اور آج کی دنیا کے سیاسی اصول"

 اسلامی تاریخ میں میثاقِ مدینہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب نبی اکرم ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کا معاشرتی ڈھانچہ نہایت پیچیدہ اور متنوع تھا۔ مدینہ میں اوس اور خزرج کے دو بڑے قبائل صدیوں سے ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار تھے، یہودی قبائل اپنی الگ مذہبی اور سماجی حیثیت رکھتے تھے، اور مہاجرین مکہ بھی وہاں آ کر آباد ہوئے۔ اس تنوع کے باوجود امن و سکون اور ایک متحدہ سیاسی ڈھانچے کی ضرورت شدید تھی۔ ایسے وقت میں رسول اللہ ﷺ نے جو معاہدہ ترتیب دیا اسے تاریخ اسلام میں ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دستاویز نہ صرف عرب بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک انقلابی ماڈل تھی کیونکہ اس نے پہلی مرتبہ مختلف مذاہب، قبائل اور طبقات کو ایک مشترکہ آئینی اور سیاسی فریم ورک میں شامل کیا۔ مشہور مستشرق مونٹگمری واٹ اپنی کتاب Muhammad at Medina میں لکھتے ہیں کہ ’’یہ انسانی تاریخ کا پہلا تحریری سوشل کنٹریکٹ تھا جس نے متنوع گروہوں کو ایک وحدت میں پرو دیا۔‘‘ اسی طرح ممتاز محقق ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے اپنی مشہور تصنیف The First Written Constitution of the World میں یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا کی آئینی تاریخ میثاقِ مدینہ سے ہی شروع ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے انسانی سماج میں کوئی ایسا جامع اور تحریری معاہدہ نہیں ملتا جو شہری حقوق، مذہبی آزادی، اجتماعی سلامتی اور عدل و انصاف کو بیک وقت یقینی بناتا ہو۔

اس معاہدے میں سب سے پہلا اصول یہ تھا کہ مدینہ کے تمام باشندے خواہ وہ مسلمان ہوں، یہودی ہوں یا دیگر قبائل، سب کو ’’امّت واحدہ‘‘ یعنی ایک سیاسی قوم قرار دیا گیا۔ ابن ہشام نے اپنی السیرۃ النبویہ میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: وَإِنَّہُم أُمَّةٌ وَاحِدَةٌ مِنْ دُونِ النَّاس یعنی وہ سب دوسرے انسانوں سے ہٹ کر ایک ہی امت ہیں۔ یہ اعلان اس لحاظ سے انقلابی تھا کہ اس نے پہلی بار قبائلی اور نسلی بنیادوں کو پس پشت ڈال کر شہری قومیت کا تصور دیا۔ آج کے زمانے میں جب ’’قومیت‘‘ (Nationhood) کو جدید ریاستوں کی بنیاد مانا جاتا ہے تو اس کی اولین جھلک ہمیں اسی میثاق میں دکھائی دیتی ہے۔

دوسرا نمایاں پہلو مذہبی آزادی کا تھا۔ معاہدے میں واضح طور پر درج ہے: للیہود دینہم وللمسلمین دینہم یعنی یہودی اپنے دین پر اور مسلمان اپنے دین پر قائم رہیں گے۔ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں اس شق کو نقل کیا ہے اور اسے اس دور کی ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا ہے کیونکہ اس وقت دنیا کے بیشتر خطوں میں مذہبی جبر عام تھا۔ روم اور فارس کی سلطنتوں میں مذہبِ ریاست کے سوا کسی کو آزادی حاصل نہ تھی۔ لیکن مدینہ میں مسلمانوں نے ایک ایسا معاہدہ کیا جس نے مذہبی آزادی کو بنیادی حق تسلیم کیا۔ یہ اصول آج کے جدید انسانی حقوق کے عالمی منشور میں بھی موجود ہے، خاص طور پر اقوام متحدہ کے Universal Declaration of Human Rights (1948ء) کے آرٹیکل 18 میں مذہبی آزادی کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔

میثاقِ مدینہ میں عدل و انصاف کے قیام پر بھی خاص زور دیا گیا۔ تنازعات کی صورت میں فیصلہ اللہ اور رسول ﷺ کی طرف رجوع کر کے کیا جانا طے پایا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ معاشرے میں کوئی فرد یا گروہ قانون سے بالاتر نہیں ہوگا۔ یہی تصور آج کی دنیا میں ’’Rule of Law‘‘ کہلاتا ہے، یعنی قانون کی بالادستی جو طاقتور اور کمزور سب پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔ یہ اصول اس وقت کے عرب معاشرے کے لیے بالکل نیا تھا جہاں طاقت اور قبیلے کے زور پر فیصلے کیے جاتے تھے۔

اس معاہدے کی ایک اور اہم شق اجتماعی دفاع سے متعلق تھی۔ اگر مدینہ پر کوئی بیرونی حملہ ہوتا تو سب گروہ مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔ ابن ہشام نے نقل کیا ہے کہ ’’وہ سب اس بات پر متفق تھے کہ دشمن کے خلاف مل جل کر کھڑے ہوں گے اور مدینہ کا دفاع سب کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔‘‘ یہ اصول آج کے دفاعی معاہدوں جیسے NATO کے بالکل مشابہ ہے جہاں ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس طرح میثاقِ مدینہ نے ساتویں صدی میں اجتماعی سلامتی کا ایسا نظام فراہم کیا جسے آج کی جدید ریاستیں بھی بنیادی اصول کے طور پر اختیار کرتی ہیں۔

سماجی انصاف اور معاشی برابری بھی میثاق کا حصہ تھے۔ یتیموں، بیواؤں اور محتاجوں کی مدد سب پر لازم قرار دی گئی۔ یہ وہی اصول ہیں جو آج کی فلاحی ریاستوں کی بنیاد ہیں۔ ناروے، سویڈن اور ڈنمارک جیسے ممالک اپنی ویلفیئر اسٹیٹ پالیسیوں پر فخر کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ فلاحی ریاست کا تصور سب سے پہلے ریاست مدینہ میں عملاً قائم کیا گیا۔ علامہ اقبال نے بھی اپنی تحریروں میں بارہا اس نکتے پر زور دیا کہ اگر مسلم دنیا اپنی اصل کو سمجھ لے تو وہ دنیا کو ایک مثالی ویلفیئر ماڈل فراہم کر سکتی ہے۔

میثاقِ مدینہ میں اقلیتوں کے حقوق کو جس طرح تحفظ دیا گیا وہ بھی تاریخ میں بے مثال ہے۔ یہودیوں اور دیگر گروہوں کو نہ صرف مذہبی آزادی دی گئی بلکہ ان کی جان و مال کی حفاظت کو بھی اجتماعی ذمہ داری قرار دیا گیا۔ مشہور مؤرخ ول ڈیورانٹ اپنی شہرۂ آفاق تصنیف The Story of Civilization میں لکھتے ہیں کہ ’’مدینہ میں اقلیتوں کے ساتھ جو حسنِ سلوک کیا گیا وہ قرون وسطیٰ کے یورپ کے لیے خواب سے کم نہ تھا۔‘‘ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق اور Pluralism کا جو تصور آج مغربی دنیا میں زیر بحث آتا ہے، اس کی عملی بنیاد ساتویں صدی میں مدینہ میں رکھی گئی تھی۔

میثاقِ مدینہ کی ایک نمایاں خصوصیت مشاورت تھی۔ تمام بڑے فیصلے رسول اللہ ﷺ کی قیادت اور باہمی مشاورت سے ہوتے تھے۔ یہ ماڈل آج کے Participatory Governance اور Democracy سے قریب تر ہے۔ اگرچہ جدید جمہوریت کا نظام اس وقت موجود نہ تھا لیکن مشاورت اور اجتماعی فیصلے سازی کی بنیاد مدینہ میں ہی ڈالی گئی۔

جدید سیاسی فلسفے میں جان لاک، روسو اور ہابز نے ’’Social Contract Theory‘‘ پیش کی جس کے مطابق ریاست دراصل شہریوں کے درمیان ایک معاہدہ ہے تاکہ امن و انصاف قائم رہ سکے۔ لیکن ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے مطابق میثاقِ مدینہ اس نظریے کی عملی شکل ایک ہزار سال پہلے پیش کر چکا تھا۔ اس معاہدے نے یہ واضح کیا کہ شہریوں کے باہمی حقوق و فرائض تحریری طور پر طے ہونے چاہییں تاکہ معاشرتی امن قائم رہ سکے۔

جدید قومیت (Nation-State) کا اصول بھی میثاقِ مدینہ سے مماثلت رکھتا ہے۔ آج دنیا میں ریاستیں شہری قومیت پر مبنی ہیں نہ کہ صرف نسلی یا قبائلی بنیادوں پر۔ میثاقِ مدینہ نے مختلف نسلوں اور مذاہب کو ایک سیاسی وحدت میں پرو کر اس ماڈل کی ابتدائی مثال فراہم کی۔

اسی طرح مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کی جو بات آج عالمی ادارے کرتے ہیں، وہ مدینہ میں پہلے ہی طے ہو چکی تھی۔ اقوام متحدہ کے چارٹر آف ہیومن رائٹس میں جو اصول بیان کیے گئے ہیں ان میں سے بیشتر اصول پہلے ہی میثاقِ مدینہ میں شامل تھے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ میثاقِ مدینہ صرف ایک مذہبی یا تاریخی دستاویز نہیں بلکہ ایک آفاقی آئین ہے جو آج کی دنیا کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

اگر آج کی مسلم دنیا اس ماڈل کو اپنالے تو داخلی انتشار اور فرقہ واریت کا خاتمہ ممکن ہے۔ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جا سکتی ہے، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ممکن ہے اور ایک ایسی ویلفیئر اسٹیٹ قائم کی جا سکتی ہے جو جدید دنیا کے فلاحی ماڈلوں سے بھی آگے بڑھ کر ہو۔ میثاقِ مدینہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ مذہبی تنوع اور سیاسی وحدت ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔

بین المذاہب تعلقات کے حوالے سے بھی میثاقِ مدینہ ایک واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آج دنیا مذہبی بنیادوں پر تقسیم اور نفرت کا شکار ہے۔ لیکن ساتویں صدی میں رسول اکرم ﷺ نے ایک ایسا ماڈل پیش کیا جس میں یہودی، مسلمان اور دیگر گروہ ایک ہی ریاستی ڈھانچے میں پرامن طور پر رہ سکتے تھے۔ یہی پیغام آج کی عالمی سیاست کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ میثاقِ مدینہ کو محض ایک قدیم معاہدہ سمجھنا ناانصافی ہے۔ یہ دراصل ایک ایسا آفاقی ماڈل ہے جس میں مساوات، عدل، مذہبی آزادی، اجتماعی سلامتی اور اقلیتوں کے حقوق جیسے اصول شامل ہیں۔ یہ وہی اصول ہیں جو آج کے جدید آئینوں اور عالمی معاہدات میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن ان کی عملی بنیاد سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ نے رکھی۔ اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ ’’From Medina to Modernity‘‘ کا سفر دراصل انسانی تاریخ کے ارتقاء کا سفر ہے اور میثاقِ مدینہ محض ماضی کی یادگار نہیں بلکہ مستقبل کا منشور ہے۔