Tuesday, 28 October 2025

دو پاکستان — ایک خواب، ایک حقیقت

ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے دو نہایت بلند پایہ کتابیں لکھیں جن میں انہوں نے اسلام اور قرآن کے اصل مقصد سے امت کے انحراف کا تجزیہ کیا ان میں  پہلی کا نام دو اسلام اور دوسری کا نام  دو قرآن تھا ۔ ان  کی فکری روایت میں تضاد محض بیان کا حربہ نہیں بلکہ حقیقت کے دو چہروں کا انکشاف ہے۔ اُنہوں نے دو اسلام میں "قرآن کا اسلام" اور "مُلّا کا اسلام" الگ کر کے فکری بیداری پیدا کی اور دو قرآن میں "الٰہی پیغام" اور "مفہومی تحریفات" کا فرق واضح کیا اسی طرز پر آج پاکستان کی حقیقت بھی دو متضاد وجودوں میں تقسیم نظر آتی ہے ۔ایک وہ  جناح کے تصور میں زندہ ہےاور دوسرا وہ جو حقیقت میں سانس لے رہا ہے مگر روح سے خالی۔

پاکستان کا المیہ یہ نہیں کہ اسے دشمن نے کمزور کیا بلکہ یہ کہ ہم نے اپنے ہی خواب کو مسخ کر دیا۔یہی وہ تضاد ہے جسے ہم "دو پاکستان" کے نام سے شناخت کر سکتے ہیںایک نظریاتی پاکستان جو خواب میں موجود ہےاور ایک حقیقی پاکستان، جو اقتدار کے ایوانوں میں قید ہے۔

مسلمان ِ ہند جب برصغیر میں الگ وطن کے لیے کوشاں تھے  تو اُن کا مقصد ایک علاقہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی معاشرہ تخلیق کرنا تھا۔ جیسا کہ اقبال نے  مسلمانوں کو قومیت، رنگ و نسل سے ماورا کر کے روحانی اخوت اور معاشرتی عدل کی بنیاد پر منظم ہونے کا پیغام دیا۔اسی خواب کی عملی تعبیر محمد علی جناح نے پاکستان کے قیام کی صورت میں پیش کی۔

یہ پاکستان وہ تھا جہاں اسلام عدلِ اجتماعی کا سرچشمہ ہوتا، جہاں علم و عقل کو ایمان کا جزو سمجھا جاتا، جہاں  ریاست مذہب کی محافظ نہیں بلکہ اخلاق کی معمار ہوتی؛ اور ہر شہری کی عزت، قانون کے تحت برابر ہوتی۔

اقبال نے کہا تھا: ''جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔''

اسی اصول پر جناح نے 11 اگست 1947 کو اعلان کیا کہ پاکستان میں ہر شہری کو مذہب، زبان اور ذات سے بالاتر برابر کے حقوق حاصل ہوں گے۔
یہ پاکستان جمہوری روح رکھتا تھا جہاں مذہب انسان کو انصاف سکھاتا نفرت نہیں۔یہ فلاحی ریاست کا نظریہ تھا جو طاقتور کی نہیں بلکہ محروم کی حفاظت کے لیے وجود میں آیا تھا۔یہی "پہلا پاکستان" تھاجہاں آئین، ضمیر، اخلاق اور قانون ایک ہی سمت میں چلتے۔جہاں قرآن محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ ریاستی ضابطۂ عمل بنتا۔جہاں مسجد، اسکول اور اسمبلی — تینوں میں انسانی وقار کا درس دیا جاتا۔

وقت گزرا اور وہ خواب سیاست کی فائلوں میں دفن ہو گیا۔قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ریاستی طاقت کا مرکز عوام سے ہٹ کر اشرافیہ کے ہاتھوں میں چلا گیا۔وہ اشرافیہ جو کبھی انگریز کی انتظامیہ تھی وہی آج ریاستِ مدینہ کے ٹھیکیدار بن بیٹھی۔ یہ "دوسرا پاکستان" ہے
جہاں جاگیردار، سرمایہ دار، اور بیوروکریٹ مل کر قوم کی قسمت لکھتے ہیں۔ جہاں  اسلام کو آئینی شق تو بنایا گیا مگر اس کی روح کو سماجی زندگی سے نکال دیا گیا۔ جہاں تعلیم کاروبار بن گئی، صحت تجارت اور سیاست وراثت۔ جہاں  عدالتیں طاقتور کے سامنے نرم اور غریب کے لیے قہر بن گئیں اور قانون محض کمزور کے لیے لاگو رہ گیا۔

یہ پاکستان قرآن کے معاشرتی اصولوں سے نہیں بلکہ استعماری ڈھانچے سے چلایا جا رہا ہے۔وہی تھانے، وہی کچہری، وہی استحصال — بس پرچم نیا ہے۔یہاں اسلام کے نام پر تحریکیں چلتی ہیں مگر اسلامی نظامِ عدل کہیں نظر نہیں آتا۔ہر حکومت "ریاستِ مدینہ" کا نعرہ لگاتی ہےمگر مدینہ کا وہ عدل، جہاں خلیفہ بھی جواب دہ ہوتا وہ آج کے اسلام آباد میں اجنبی ہے۔یہ پاکستان وہ نہیں بانیاں پاکستان  نے خواب میں دیکھا بلکہ وہ ہے جو اقتدار کے خواب میں بگڑ گیا۔

ان دو پاکستانوں کے درمیان ایک مسلسل جنگ جاری ہے۔ایک طرف جناح کا پاکستان ہے — جو آئین، قانون، اور اخلاق کا متقاضی ہے؛
اور دوسری طرف اقتدار و مفاد کا پاکستان جو سیاست، سرمایہ اور طاقت کا غلام ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے ذہن نہیں نوکر پیدا کرتے ہیں۔ ہمارے سیاست دان منشور نہیں وعدے بیچتے ہیں۔ اور ہمارے مذہبی رہنما اصلاح نہیں تقلید کا کاروبار کرتے ہیں۔

یہ تصادم کسی ایک حکومت کا نہیں، بلکہ نظامی نفاق کا نتیجہ ہے۔ہمارے آئین کی دیباچہ میں "اسلامی جمہوری فلاحی ریاست" لکھا ہے،
مگر بجٹ، پالیسیاں اور قانون نوآبادیاتی نظام کے تابع ہیں۔ریاست کی بنیاد قرآن پر ہے مگر قانون سازی مفادات کے دباؤ پر۔
نتیجہ یہ ہے کہ قوم نظریاتی انتشار میں مبتلا ہے۔شناخت اسلامی مانگتی ہے مگر مغربی نظام پر یقین رکھتی ہے۔

پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ اس کے ادارے دو رخ رکھتے ہیںایک آئینی چہرہ جبکہ  دوسرا عملی چہرہ۔

آئینی چہرے کے مطابقآئین کہتا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے جہاں ریاست عوام کی فلاح و بہبود کی ضامن ہے اور تعلیم، صحت، انصاف اور مساوات ریاست کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔

عملی چہرے کے مطابقعملی طور پرتعلیم چند طبقوں تک محدود ہے۔ صحت کی سہولتیں خریدنے کے قابل نہیں۔ انصاف دولت کے ترازو میں تولتا ہے۔اور مساوات صرف تقریروں تک محدود ہے۔

ریاستی ڈھانچے کا یہ تضاد دو پاکستانوں کی سب سے بڑی علامت ہے۔ایک پاکستان کاغذ پر قائم ہےاور دوسرا زمینی حقیقت میں قابض۔یہ وہی فرق ہے جو غلام جیلانی برق نے "دو اسلام" میں بتایا تھاایک اسلام جو قرآن میں ہےاور دوسرا جو انسانوں نے اپنے مفاد کے لیے بنایا۔
پاکستان بھی دو حصوں میں بٹ گیا ہےایک جو جناح نے لکھا  تھااور ایک جو ہم نے پڑھ دیا۔نظریاتی پاکستان میں معیشت عدلِ عمرانیہ پر قائم ہوتییعنی زکوٰۃ، صدقات اور امانت کے نظام پر۔ مگر موجودہ پاکستان میں معیشت قرض، سود، اور کرپشن پر کھڑی ہے۔

یہاں ٹیکس عوام دیتے ہیں مگر عیاشی طبقہ کرتا ہے۔یہاں مزدور خون پسینہ بہاتا ہے مگر دولت سرمایہ دار سمیٹتا ہے۔یہاں زمین اللہ کی ہے مگر قبضہ چند خاندانوں کا۔یہی وہ معیشتی تضاد ہے جس نے پاکستانی معاشرے کو دو طبقات میں تقسیم کر دیاایک وہ جو پاکستان کے نام پر جیتا ہےاور دوسرا وہ جو پاکستان پر جیتا ہے۔

پہلے پاکستان کی سیاست اصولوں پر ہونی تھی جبکہ دوسرے پاکستان کی سیاست شخصیات پر ہو گئی۔یہاں جماعتیں منشور سے نہیں بلکہ وفاداریوں کے سودوں سے بنتی ہیں۔یہاں انتخاب عوام کا نہیں، اشرافیہ کے اتفاق کا نتیجہ ہوتا ہے۔قانون سازی عوامی ضرورت نہیں بلکہ مصلحتی مفاد کے تابع ہے۔یہی وجہ ہے کہ سیاست نے اخلاق کو نگل لیااور اقتدار نے خدمت کا گلا گھونٹ دیا۔

سماجی سطح پر بھی دو دنیائیں ہیں۔ ایک پاکستان، جہاں بچے بھوک سے مرتے ہیں جبکہ دوسرا جہاں طاقتور کے کتے تک خصوصی خوراک پر زندہ ہیں۔ایک پاکستان جہاں عورت حجاب میں بھی غیر محفوظ ہے اوردوسرا، جہاں فحاشی آزادی کے نام پر ترقی بن گئی ہے۔ایک پاکستان جہاں مدرسہ محصور ہے جبکہ دوسرا جہاں یونیورسٹی مغربی غلامی میں سرشار ہے۔یہ سماجی تضاد وہی ہے جو کسی قوم کے زوال کی آخری نشانی ہوتا ہے۔

سوال یہ نہیں کہ پاکستان کیوں بنا؟سوال یہ ہے کہ پاکستان کب بنے گا؟جب تک ریاست اپنے نظریاتی اور عملی چہرے کو ایک نہ کرے،
جب تک سیاست خدمت نہ بنےاور جب تک قانون کمزور کا محافظ نہ ہوتب تک یہ دو پاکستان ساتھ رہیں گے۔ایک خوابوں میں زندہ، دوسرا حقیقت میں مسلط۔

جناح کا پاکستان ابھی پیدا نہیں ہوا۔وہ تب پیدا ہوگا جب تعلیم کا مقصد نوکری نہیں  بلکہ انسان سازی بنے گا جب  مذہب نعرہ نہیں  بلکہ نظامِ عدل بنے گا۔ اور سیاست تجارت نہیں بلکہ  امانت بنے گی۔ڈاکٹر غلام جیلانی برق اگر آج زندہ ہوتے تو شاید لکھتے کہ ''ایک پاکستان وہ جو جناح  نے سوچا اور ایک وہ جو ہم نے بیچا۔'' یہی دو پاکستان ہیںایک ضمیر کا پاکستان اور ایک زمیندار کا پاکستان۔پہلا قرآن کے اصولوں پر کھڑا ہے اور دوسرا کرپشن کے ستونوں پر۔

لیکن قوموں کے مقدر میں تبدیلی ممکن ہےاگر خواب دوبارہ جاگ جائیں۔ اگر نوجوان شعور کو شعار بنائیں اور اگر ہم اس پاکستان کو بنانے نکلیں۔ جو وجود میں تو 1947 میں آیا تھا مگر حقیقت میں ابھی پیدا نہیں ہوا۔

Wednesday, 22 October 2025

کفار کے دلوں کو دہلانے والا کلام الہی ہمارے دل پہ کار گر کیوں نہیں

 قریش مکہ سخت اسلام مخالف تھے مگر وہ قرآن سنتے تو ان کے دل بدل جاتے۔ کسی بھی صحابی کے قبول اسلام کو پڑھ لیں وہ قرآن سے متاثر ہوئے اور اپنے سابقہ عقیدے کو چھوڑ کر اسلام کی آغوش میں آ گئے۔

کفار مکہ نے رسول اللہ ﷺ پر جو الزامات عائد کئے، ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ یہ شخص ساحر (جاودگر) ہے۔ یہ الزام خود بتا رہا ہے کہ لسانِ رسالت سے قرآن مجید سن کر ان کے دل اس طرح بے اختیار اس کی طرف کھنچے چلے جاتے تھے جیسے کسی نے ان پر جادو کردیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے لوگوں سے کہتے :
(ترجمہ)’’تم اِس قرآن کو مت سنا کرو اور اِس (کی قرأت کے اوقات) میں شور و غل مچایا کرو تاکہ تم (اِن کے قرآن پڑھنے پر) غالب رہو۔‘‘ (سورہ فصلت:۲۶)
اور اسی لئے وہ مکہ میں ہر نووارد کو نصیحت کرتے کہ اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لو کیونکہ یہاں محمدؐ نامی ایک شخص اپنے کلام کے زور سے لوگوں پر جادو کردیتا ہے۔
وہ کون سا قرآن تھا جو کفار مکہ کو متاثر دیتا تھا اگر یہی قرآن تھا تو ہمارے کان پہ اس کو سن کر جوں کیوں نہیں رینگتی؟
معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ پانچ سال تک اگر اسلام نہیں لائے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ اپنے آبائی دین میں تصلب (مضبوطی، سختی) کی وجہ سے انہوں نے اپنے کان میں قرآن مجید کی آواز پڑنے ہی نہیں دی۔ جوں ہی اپنی بہن کے گھر میں یہ آواز اُن کے کان میں پڑی، ان کے دل کی دنیا بدل گئی اور وہ جو شمشیر بکف ہوکر گھر سے نکلے تھے کہ آپؐ کا کام تمام کردیں گے، اب گردن بزیر ہوکر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
کفار مکہ کی ایذارسانیوں سے تنگ آکر حضرت ابوبکرؓ مکہ سے باہر جانے لگے تو ابن الدغنہ نے کہا: آپ جیسے شریف انسان کا مکہ سے چلے جانا اہلِ مکہ کی بدنصیبی ہوگی۔ آج سے آپ میری امان میں ہیں۔ پوری آزادی کے ساتھ اپنے دین پر عمل کریں، کسی کو آپ کے درپئے آزار کی جرأت نہ ہوگی۔ روایات میں ہے کہ حضرت ابوبکرؓ جب رات کو نماز کے لئے کھڑے ہوتے اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو پاس سے گزرنے والا ہر شخص اُسے سن کر متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔ یہ دیکھ کر اہل مکہ چیخ اٹھے کہ ابوبکر کی اس تلاوت ِ قرآن سے ہماری عورتیں، بچے اور نوجوان آبائی دین سے منحرف ہوئے جاتے ہیں۔ وہ سب اکٹھے ہوئے اور ابن الدغنہ سے کہا کہ ابوبکر کو ایسا کرنے سے روکو ورنہ پوری قوم صابی (ایک دین سے منحرف ہوکر دوسرے دین کی طرف جانے والا) ہوجائے گی۔ چنانچہ ابن الدغنہ کو حضرت ابوبکرؓ کو دی گئی امان سے دستبردار ہونا پڑا۔
ولید بن مغیرہ نے ایک روز رؤسائے قریش سے کہا: آج رات میں اس شخص (محمدؐ) کا جائزہ لے کر تمہیں بتاؤں گا۔ چنانچہ وہ ایسے وقت پہنچا جب آپﷺ نماز میں قرآن مجید تلاوت فرما رہے تھے ۔ دیر تک کھڑا سنتا رہا۔ واپس لوٹا تو لوگوں سے کہنے لگا :
’’میں نے ایک شیریں، شاداب اور بارآور کلام سنا ہے جو دلوں میں اترتا چلا جاتا ہے۔‘‘
انہوں نے سوال کیا: تو کیا وہ شعر ہے؟
اس نے کہا: ’’مجھ سے بڑھ کر شعر کا شناسا کون ہوسکتا ہے۔ خدا کی قسم !وہ شعر نہیں۔‘‘
انہوں نے پوچھا: تو کیا محمدؐ کاہن ہے اور اس کا یہ کلام کہانت کی کوئی قسم ہے؟
اس نے جواب دیا: ’’ہرگز نہیں، کیونکہ میں کہانت سے بھی خوب واقف ہوں۔‘‘
انہوں نے کہا : تو کیا وہ جادو ہے؟
کہنے لگا: ’’میں نہیں جانتا ، لیکن اگر وہ (مخلوق کے کلام کی قسموں میں سے) کوئی چیز ہوسکتا ہے تو وہ جادو ہی ہے۔‘‘
خالد بن عقبہ نے قرآن مجید سن کر اس پر ان الفاظ میں تبصرہ کیا کہ:
’’خدا کی قسم! اس میں ایک عجیب مٹھاس ہے اور اس میں ایک عجیب تروتازگی ہے۔ اس کی جڑیں شاداب اور اس کی شاخیں پھلوں سے لدی ہوئی ہیں اور ایسا کلام کوئی انسان نہیں کہہ سکتا۔‘‘
کہتے ہیں کہ ایک دفعہ قریش کے تین بے مثال بلیغ خطیب … ولید بن مغیرہ، اخنس بن قیس اور ابوجہل… مختلف مقامات سے رات کے وقت رسول اکرم ﷺ کو اپنے گھر میں قرآن مجید پڑھتے ہوئے سنتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ واپسی پر جب اُن کی باہم ملاقات ہوئی تو انہوں نے ایک دوسرے کو (اس حرکت پر) ملامت کی اور کہا کہ اگر عوام ہمیں ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیں اور وہ بھی قرآن سننے لگیں تو وہ فوراً ایمان لے آئیں گے۔
دوسری شب کو بھی انہوں نے یہی کچھ کیا اور پھر جب باہم ملے تو پہلے سے بھی زیادہ اس حرکت پر شرمسار ہوئے اور قسم کھائی کہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے۔
دن چڑھا تو ولید بن مغیرہ، اخنس بن قیس کے پاس آیا اور کہنے لگا: ’’جو کچھ تم نے محمدؐ سے سنا، اُس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘ اخنس نے کہا: ’’میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ بنوعبدالمطلب نے کہا کہ ہم حاجب ہوں گے، ہم نے تسلیم کرلیا، انہوں نے کہا ہم خانہ ٔ کعبہ کے متولی ہوں گے ،ہم مان گئے ۔ انہوں نے حاجیوں کی سقائی کا کام اپنے ذمے لیا، ہم نے مزاحمت نہ کی۔ اب وہ کہتے ہیں کہ ہم میں نبی بھی آیا ہے جس پر وحی نازل ہوتی ہے۔ خدا کی قسم! میں تو اس پر ہرگز ایمان نہیں لاؤںگا۔‘‘
یہ واقعہ بتارہا ہے کہ رموز سخن سے آشنا ان لوگوں کے دلوں میں قرآن مجید نہ صرف اپنے مضامین بلکہ اپنی فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے بھی اتر چکا تھا ، مگر اُن کی وہ شُعوبی (خاندانی) عصبیت ِ جاہلیہ آڑے آتی رہی جس کے نتیجے میں اور وہ ایمان نہ لائے۔
ثمامہ بن آثال، مخالفین کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر کہا کرتا تھا کہ میرے لئے محمدؐ کے چہرے سے زیادہ مبغوض کوئی چہرہ نہیں اور اس کے شہر (مدینہ) سے بڑھ کر کوئی شہر قابلِ نفرت نہیں، مگر جب گرفتاری کے بعد دو ہی روز تک مسجد نبویؐ میں براہِ راست آنحضرت ﷺ کی زبانِ مبارک سے قرآن مجید سننے کا اتفاق ہوا تو اب یہ کیفیت تھی کہ اس کے لئے حضورﷺ کی ذات ِ مبارکہ سے بڑھ کر کوئی ذات محبوب نہ تھی اور مدینہ منورہ سے بڑھ کر اسے کوئی شہر عزیز نہ تھا۔
ملک الشعراء ولید ، جس کے بعض شعروں پر، کہتے ہیں کہ شاعر اس کے سامنے سر بسجود ہوگئے تھے، قرآن مجید سے اس قدر متاثر تھا کہ ایک ملاقات میں جب حضرت عمرؓ نے اس سے اپنا تازہ کلام سنانے کی فرمائش کی تو کہنے لگا کہ ’’جب سے قرآن سنا ہے ، شعر کہنا چھوڑ چکا ہوں۔‘‘ بالفاظ دیگر ، قرآن مجید کے معجزانہ اسلوب کو دیکھ کر اس عظیم شاعر کو اپنا کلام حقیر دکھائی دینے لگا۔ جنوں کا وہ تاثر بھی یاد رکھئے جس میں غیرمعمولی حقیقت اور گہرائی تھی ’’ بیشک ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے۔‘‘ (سورہ جن:۱)
یہ قرآن وہی ہے لیکن ہم اس سے مرغوب نہیں ہوے کیونکہ ہم نے قرآن براہ راست اہل دین سے موصول نہیں کیا بلکہ ہم اس قرآن کو براہ راست سننے کی بجائے کچھ فلٹر لگا دیے ہیں جن کے باعث قرآن ہم تک پہنچنے سے قبل اپنی تاثیر کھو دیتا ہے۔ خالق کا کلام اگر ہمارے دل میں تغیر پیدا نہیں کر رہا تو ہمیں اپنی پوزیشن کا جائزہ از سر نو لینا چاہیے

امام ابن رجب حنبلی کی کتاب The difference between Advising and Shaming ایک شاندار گائیڈ

اسلامی اخلاقیات میں نصیحت اور خیر خواہی کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ دینِ اسلام نے جہاں برائی سے روکنے اور نیکی کا حکم دینے کی تلقین کی ہے، وہیں اس عمل کے آداب بھی واضح کیے ہیں۔ انہی آداب کی گہری تشریح امام ابن رجب حنبلیؒ نے اپنی مختصر مگر نہایت بصیرت افروز کتاب The difference between Advising and Shaming (نصیحت کرنے اور شرم دلانے میں فرق) میں کی ہے۔ یہ رسالہ بظاہر چھوٹا ہے مگر اپنے اندر اخلاقی اصلاح اور روحانی تہذیب کا ایک وسیع جہان سموئے ہوئے ہے۔ ابن رجبؒ فقہ و حدیث کے جلیل القدر عالم اور امام ابن تیمیہؒ کے فکری وارث ہیں۔ ان کی تصانیف میں ’’جامع العلوم والحکم‘‘، ’’لطائف المعارف‘‘ اور ’’ذیل طبقات الحنابلہ‘‘ جیسے علمی شاہکار شامل ہیں، مگر یہ مختصر کتاب اپنی نوعیت کے اعتبار سے دلوں کی اصلاح کا بیش قیمت نسخہ ہے۔

اس رسالے کا محرک وہ سماجی رویہ تھا جس میں لوگ اصلاح کے نام پر دوسروں کو شرمندہ کرنے، ان کی غلطیوں کو نمایاں کرنے اور اپنی علمی یا اخلاقی برتری جتانے کا رجحان رکھتے ہیں۔ امام ابن رجبؒ نے اس فکر کو قرآن و سنت کے تناظر میں پرکھتے ہوئے بتایا کہ نصیحت اور تعییر بظاہر ایک جیسے دکھائی دینے والے مگر حقیقت میں بالکل مختلف رویے ہیں۔ نصیحت کا سرچشمہ خیر خواہی ہے، جب کہ تعییر کا ماخذ نفس کی آلائش ہے۔ نصیحت وہ عمل ہے جو کسی بھائی کی اصلاح، عزت اور بہتری کے لیے کیا جائے، جبکہ تعییر کا مقصد اسے نیچا دکھانا یا رسوا کرنا ہوتا ہے۔ امامؒ فرماتے ہیں کہ جو اپنے بھائی کو خفیہ طور پر نصیحت کرے وہ دراصل اس کی عزت کی حفاظت کرتا ہے لیکن جو سرِعام تنقید کرتا ہے وہ خیر خواہی نہیں بلکہ رسوائی چاہتا ہے۔ اس ایک نکتے میں امام ابن رجبؒ نے اخلاقِ اسلامی کا وہ جوہر بیان کر دیا ہے جو آج کے شور انگیز دور میں مفقود ہوتا جا رہا ہے۔

ابن رجبؒ کے نزدیک نصیحت اور عیب جوئی کے درمیان اصل فرق نیت کا ہے۔ اگر نیت خالص ہو تو سخت ترین بات بھی نصیحت بن جاتی ہے، لیکن اگر نیت میں خودنمائی یا تکبر شامل ہو تو نرم سے نرم جملہ بھی تعییر بن جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مؤمن اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرتا ہے جو اپنے لیے کرتا ہے، اس لیے نصیحت کا محرک ہمدردی اور محبت ہونا چاہیے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ "دین خیر خواہی کا نام ہے"، اور یہی حدیث ابن رجبؒ کی پوری فکر کی بنیاد ہے۔ وہ سمجھاتے ہیں کہ نصیحت صرف الفاظ کا تبادلہ نہیں بلکہ دلوں کا رشتہ ہے اور اس کی قبولیت اس بات پر موقوف ہے کہ نصیحت کرنے والا خود کتنی دردمندی رکھتا ہے۔

کتاب کا اسلوب نہایت سادہ مگر اثر انگیز ہے۔ ابن رجبؒ قرآن کی آیات، احادیث اور اقوالِ سلف کو اس ترتیب سے پیش کرتے ہیں کہ ہر دلیل اگلی دلیل کے ساتھ مربوط دکھائی دیتی ہے۔ ان کی نثر میں ایک صوفیانہ نرمی اور فقیہانہ گہرائی کا حسین امتزاج ہے۔ کتاب پڑھنے والا محسوس کرتا ہے کہ امامؒ قاری سے خطاب نہیں کر رہے بلکہ اس کے دل میں اتار رہے ہیں۔ وہ ہر اس شخص کو مخاطب بناتے ہیں جو کسی کی اصلاح کا داعی ہے— چاہے وہ عالمِ دین ہو، استاد، والدین یا کوئی دوست۔

اس رسالے کی اہمیت آج کے زمانے میں دوچند ہو جاتی ہے، خصوصاً سوشل میڈیا کے اس عہد میں جہاں نصیحت کے بجائے شرمندگی، تمسخر اور کردار کشی کا کلچر عام ہو چکا ہے۔ لوگ اصلاح کے بجائے شہرت کے لیے دوسروں کی غلطیوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ابن رجبؒ کی یہ تعلیم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصلاح صرف علم سے نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر نیت درست نہ ہو تو نصیحت بھی فتنہ بن جاتی ہے۔

یہ کتاب اپنی اختصار کے باوجود اخلاقی نفسیات پر ایک جامع درس ہے۔ اس میں ابن رجبؒ نے بتایا کہ حقیقی مصلح وہ ہے جو دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نصیحت کا عمل نرم لہجے، خیر خواہانہ جذبے اور تنہائی میں ہونا چاہیے تاکہ مخاطب کے دل میں ضد نہیں بلکہ شکر اور ندامت پیدا ہو۔ یہی وہ انداز ہے جو نبی اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ میں جھلکتا ہے۔

"نصیحت کرنے اور شرم دلانے میں فرق" دراصل دعوت و اصلاح کے فن کی بنیاد ہے۔ یہ کتاب ہمیں یہ شعور دیتی ہے کہ قولِ حق کا حق اس وقت ادا ہوتا ہے جب وہ دل سے نکلے اور دل تک پہنچے۔ ابن رجبؒ نے اپنی تحریر کے ذریعے یہ ابدی اصول دیا کہ مصلح اور معلم کا سب سے بڑا ہتھیار علم نہیں بلکہ خلوص ہے۔ یہ کتاب ہر اُس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہے جو خیر پھیلانا چاہتا ہے مگر اس خیر کو تکبر، طنز یا خودنمائی سے آلودہ نہیں کرنا چاہتا۔ ابن رجبؒ کی یہ مختصر مگر ہمہ گیر تصنیف ہمیں یاد دلاتی ہے کہ نصیحت کا حق ادا کرنا زبان سے نہیں، دل سے ممکن ہے — اور جب دل خالص ہو تو نصیحت الفاظ سے بڑھ کر دعا بن جاتی ہے۔

Monday, 13 October 2025

نوبل انعام نہ ملنے پہ ٹرمپ کا ممکنہ اقدام کیا ہونا چاہیے؟


سولہویں صدی کے آغاز تک انگلستان رومن کیتھولک چرچ کے تحت تھا، اور پوپ (Pope) مذہبی طور پر سب سے بڑا اختیار رکھتا تھا۔بادشاہ ہنری ہشتم (Henry VIII) بھی بظاہر پوپ کا وفادار مانا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ اس نے 1521ء میں مارٹن لوتھر کے خلاف ایک کتاب لکھی تھی جس پر پوپ نے اسے )"Defender of the Faith" ایمان کا محافظ( کا لقب دیا۔
ہنری ہشتم کی شادی کیترین آف آراگون (Catherine of Aragon) سے ہوئی تھی، مگر کئی سال بعد بھی ان کے ہاں کوئی بیٹا پیدا نہ ہوا۔ صرف ایک بیٹی، میر ٹو"ڈر (Mary Tudor) پیدا ہوئی۔ہنری کو اپنے بعد تخت کے لیے نر وارث کی شدید خواہش تھی۔ اس نے پوپ کلیمنٹ ہفتم (Pope Clement VII) سے کیتھرین کو طلاق دینے اور این بولین (Anne Boleyn) سے شادی کی اجازت مانگی۔لیکن پوپ نے اس اجازت سے انکار کر دیا کیونکہ کیتھرین اسپین کے بادشاہ کی رشتہ دار تھی اور اسپین اُس وقت پوپ کا طاقتور اتحادی تھا۔
ہنری ہشتم نے اس انکار کو اپنی شاہی خودمختاری پر حملہ سمجھا۔1529ء سے 1534ء کے درمیان اس نے ایک ایک کرکے ایسے قوانین منظور کروائے جن سے چرچ کے معاملات میں پوپ کا اثر ختم ہوتا گیا۔آخرکار 1534ء میں “Act of Supremacy” کے تحت بادشاہ ہنری ہشتم کو “Supreme Head of the Church of England” چرچ آف انگلینڈ کا اعلیٰ ترین سربراہقرار دیا گیا۔یوں انگلینڈ نے رومن کیتھولک چرچ سے علیحدگی اختیار کر لی، اور ایک قومی چرچ وجود میں آیا جو بادشاہ کے ماتحت تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف آئیے۔ انہوں ے دعوی کیا کہ انہوں گزشتہ ایک سال میں آٹھ جنگوں کو رکوایا ہے۔ انہوں ے خود کو نوبل پیس پرائز کے لیے موضوع ترین شخص قرار دیا۔ ان کے علاوہ پاکستان کے فیلڈ مارشل ، اسرائیل کے وزیر اعظم نتین یاہو اور بیلاروس کے صدر جیسے سربراہان نے بھی ٹرمپ کو نامزد کیا تھا۔ لیکن نوبل پیس پرائز کمیٹٰی نے ٹرمپ کو نظر انداز کر دیا۔ اس پہ ٹرمپ نے نہایت مایوسی کا اظہار بھی کیااور فیصلے پہ تنقید کی۔
ٹرمپ صاحب کو ہنری ہشتم کی طرز پہ سوچنا چاہیے۔ وہ امریکی صدر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑے بزنس مین بھی ہیں ۔ وہ اس فیصلے کو اپنی توہین سمجھیں اور متبادل کے طور پہ ٹرمپ پرائز کا اعلان کریں۔ ٹرمپ پرائز کے لیے کچھ تجاویز میرے پاس ہیں میں وہ شئیر کیے دیتا ہوں ۔ ذیل میں میں چند جامع اور تعمیری تجاویز پیش کرتا ہوں جن سے “Trump Prize” نہ صرف منفرد پہچان حاصل کر سکتا ہے بلکہ وقت کے ساتھ ایک باوقار ادارہ بھی بن سکتا ہے
سب سے پہلے ایج جاندار قسم کی ٹیگ لائن بنائیں تاکہ یہ ایک مقصد کوشش نظر آئے
"Rewarding bold vision, transformative leadership, and practical achievements that shape a better world."
یعنی: “وہ جرات مند وژن، انقلابی قیادت، اور عملی کامیابیاں جنہوں نے دنیا کا رخ بہتر سمت میں موڑا
نوبل انعام زیادہ تر علمی یا نظریاتی خدمات پر توجہ دیتا ہے، جبکہ “Trump Prize” عملی اثر (real-world impact) پر مبنی ہو سکتا ہے۔
“Trump Prize” کو متعدد زمروں میں بانٹا جا سکتا ہے، تاکہ مختلف میدانوں میں برتری کو تسلیم کیا جا سکے:
1. Trump Prize for Global Leadership
ایسے رہنماؤں کے لیے جنہوں نے امن، معیشت یا سفارتکاری میں نئی راہیں کھولیں۔
2. Trump Prize for Innovation & Enterprise
کاروبار، ٹیکنالوجی یا انڈسٹری میں غیر معمولی اختراع کرنے والوں کے لیے۔
3. Trump Prize for Courage & Freedom
آزادیِ اظہار، قومی خودمختاری یا انسانی وقار کے تحفظ کے لیے کھڑے ہونے والوں کے لیے۔
4. Trump Prize for Peace through Strength
طاقت، دفاع، اور امن کے متوازن فلسفے کو فروغ دینے والے عالمی اقدامات کے لیے۔
5. Trump Lifetime Achievement Award
ایسے عالمی رہنماؤں یا ماہرین کے لیے جنہوں نے کئی دہائیوں تک عملی اثرات مرتب کیے۔
ٹرمپ فاونڈیشن فار گلوبل اچیومنٹ کے تحت ایک خودمختار بورڈ آف ٹرسٹیز قائم کیا جائے، جس میں معیشت، بین الاقوامی تعلقات، سائنس، ثقافت، اور میڈیا کے غیرسیاسی ماہرین شامل ہوں۔ہر زمرے کے لیے بین الاقوامی جیوری ہو — انتخابی شفافیت کے ساتھ۔
ہر سال نیویارک یا میامی میں ایک عالمی تقریب منعقد ہو۔تقریب میں دنیا بھر کے میڈیا، یونیورسٹیوں اور تھنک ٹینکس کے نمائندے شریک ہوں۔انعام یافتگان کو صرف رقم نہیں بلکہ ایک علامتی مجسمہ (مثلاً سنہری عقاب یا مینارِ قیادت) دیا جائے۔
انعام کی مالی قدر نوبل سے زیادہ رکھی جائے مثلاً 2 ملین امریکی ڈالرتاکہ عالمی سطح پر توجہ حاصل ہو۔انعام یافتگان کو اپنی جیتی ہوئی رقم کے کچھ حصے سے کسی سماجی یا تحقیقی منصوبے کی تکمیل کی شرط دی جائے۔
یہ انعام اپنے تصور میں اس نکتے پر زور دے کہ امن کمزوری سے نہیں بلکہ منصفانہ طاقت سے پیدا ہوتا ہے۔یعنی یہ “نوبل” کے مثالی امنیاتی (idealistic) تصور کے مقابل ایک “عملی امن” (realistic peace) کی ترجمانی کرے۔
ایک سالانہ “Trump Global Forum” منعقد کیا جائے جس میں معاشی، سفارتی، اور تکنیکی رہنما اپنی کامیابیاں پیش کریں۔اس کے نتائج کو ایک سالانہ رپورٹ یا میگزین (Trump Review of Global Achievements) کی شکل میں شائع کیا جائے۔یوں یہ انعام صرف اعزاز نہیں بلکہ ایک علمی و فکری پلیٹ فارم بن جائے گا۔
ابتدا میں چند منتخب زمروں سے آغاز کیا جائے۔پہلے پانچ سال شفافیت اور وقار کی بنیاد بنانے میں صرف کیے جائیں۔انعام کو شخصیات سے زیادہ اصولوں کے ساتھ جوڑا جائے
Vision, Courage, Innovation, Strength, Impact
باقاعدہ طور پہ نوبل انعام سے مختلف نعرہ لگایا جائے یعنی "طاقت کو اخراج؛ نتائج کو انعام Celebrating Strength, Rewarding Result
یا اس کے علاوہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ
“Building a Better Future, One Bold Step at a Time.”
نوبل ایک صدی پرانا ادارہ ہے — اس کی حیثیت “مقدس” نہیں بلکہ تاریخی ہے۔“Trump Prize” اگر جدید دور کی اقدار — قیادت، اثر، خودمختاری، اور عملی کامیابی — کو محور بنائے، تو یہ بتدریج نوبل سے زیادہ عصری (contemporary) اور اثر انگیز بن سکتا ہے۔
میرا کام ٹرمپ صاحب کو ایک مشورہ دیا ہے کہ وہ مایوس ہونے کی بجائے متبادل اقدام اٹھائے باقی اگر اس نے صبر شکر کے ساتھ کڑوہ گھونٹ بھر لیا ہے تو پھر چپ کر کے جو کر رہا ہے وہ کرتا رہے۔

حصہ دوم: ڈاکٹر امبیڈکر کی پاکستان کے بارے پیش گوئیاں

ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے اپنی مشہور کتاب “Pakistan or the Partition of India” (پہلی اشاعت: 1940ء) میں نہ صرف برصغیر کی مذہبی، سیاسی اور معاشرتی تقسیم کا تجزیہ کیا بلکہ پاکستان کے ممکنہ قیام کے بعد پیش آنے والے حالات کے بارے میں کئی ایسی پیش گوئیاں کیں جو بعد میں بڑی حد تک درست ثابت ہوئیں۔
امبیڈکر نے فوجی قوت کی مرکزیت کو برسوں پہلے محسوس کیا۔انہوں نے برطانوی فوج میں پنجابی اور پٹھان افواج کے تناسب کو ان کی آبادی سے زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ لکھا کہ فوج پر پنجابی اور پٹھان غلبہ رہے گا۔انہوں نے لکھا:
“The Muslims of Punjab and the North-West Frontier Province will dominate the army of Pakistan, and through the army, they will dominate Pakistan itself.”
“پنجاب اور شمال مغربی سرحد کے مسلمان پاکستان کی فوج پر غالب ہوں گے، اور فوج کے ذریعے وہ پورے پاکستان پر تسلط حاصل کر لیں گے۔”
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو1947 کے بعد پاکستان کی فوج میں پنجابی اور پٹھان اکثریت رہی۔سیاسی طاقت بھی فوج کے ہاتھ میں آ گئی — ایوب خان (1958)، ضیاء الحق (1977) اور پرویز مشرف (1999) کے مارشل لاز اسی پیش گوئی کی تصدیق کرتے ہیں۔آج بھی ملک میں عسکری اداروں کا اثر و نفوذ اسی ساخت کی علامت ہے۔
امبیڈکر نے کہا کہ چونکہ پاکستان کے معاشرتی ڈھانچے میں جاگیردارانہ اور قبائلی سوچ غالب ہے اس لیے وہاں جمہوری ادارے کمزور ہوں گے اور بالآخر ملک فوجی یا شخصی آمریت کی طرف جائے گا۔
“In Pakistan, democracy is likely to fail. The social structure of the Muslims is essentially feudal and militaristic; it will not sustain parliamentary democracy.”
''پاکستان میں جمہوریت کے ناکام ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ مسلمانوں کا سماجی ڈھانچہ بنیادی طور پر جاگیردارانہ اور عسکری ہے، جو پارلیمانی جمہوریت کو سنبھال نہیں سکے گا۔''
امبیڈکر نے درست پیش گوئی کی۔کیوں کہ پاکستان میں جمہوری تسلسل 1947 سے آج تک بار بار ٹوٹا — 1958، 1977، 1999 میں فوجی اقتدار، اور ہر بار پارلیمانی ادارے کمزور۔جاگیردارانہ ذہنیت اور خاندانی سیاست نے جمہوریت کو مزید کھوکھلا کر دیا۔
ڈاکٹر امبیڈکر نے قیامِ پاکستان سے کئی سال قبل یہ بھی کہا کہ اگر پاکستان بنا تو مشرقی بنگال کے بنگالی مسلمان اور مغربی پاکستان کے پنجابی و پٹھان مسلمان ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں رہ سکیں گے۔
“There will be no common bond of language, culture or economic interest between the Muslims of Bengal and those of Punjab and the Frontier.”
''بنگال کے مسلمانوں اور پنجاب و سرحد کے مسلمانوں کے درمیان نہ زبان، نہ ثقافت، اور نہ ہی معاشی مفادات کا کوئی رشتہ ہوگا۔''
یہ جملہ تاریخ کے سب سے بڑے سانحے — 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی مکمل پیش گوئی تھا۔امبیڈکر نے زبان، ثقافت اور معیشت کے فرق کو "ریاستی عدمِ توازن" کہا تھا، جو بعد میں ڈھاکہ کے سقوط کا بنیادی سبب بنا۔
ڈاکٹر امبیڈکر نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان مذہب کی بنیاد پر قائم ہوا تو وہاں ہندو، سکھ اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جائے گا۔
“A State based on religion is bound to persecute those who do not belong to that religion.”
''ایک مذہب پر قائم ریاست لازماً اُن لوگوں پر ظلم کرے گی جو اس مذہب سے تعلق نہیں رکھتے۔''
امبیڈکر کا یہ خدشہ پاکستان کی تاریخ میں متعدد بار ظاہر ہوا۔1947–50 کے فسادات، 1953 کی احمدیہ مخالف تحریک، 1974 میں آئینی ترمیم، اور بعد میں توہینِ مذہب قوانین اور ان قوانین کا غیر مسلمانوں پہ استعمال سب نے یہ ثابت کیا کہ مذہب پر مبنی ریاست کو مذہبی رواداری برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آئیں۔
امبیڈکر نے لکھا کہ چونکہ پاکستان کے پاس صنعتی ڈھانچہ، تجارتی سرمایہ اور بندرگاہی کنٹرول نہیں ہوگا (کیونکہ یہ سب ہندوستان کے حصے میں جائیں گے)، لہٰذا اسے معاشی طور پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
“Economically, Pakistan will be a poor country. It will have no industries worth the name. It will be dependent on India for trade and supplies.”
اقتصادی طور پر پاکستان ایک غریب ملک ہوگا۔ اس کے پاس کوئی قابل ذکر صنعت نہیں ہوگی اور اسے تجارت و سپلائی کے لیے بھارت پر انحصار کرنا پڑے گا۔”
قیامِ پاکستان کے وقت زیادہ تر صنعتیں، بندرگاہیں اور تجارتی مراکز بھارت میں تھے۔پاکستان نے جلد ہی غیر ملکی امداد، قرضوں اور درآمدات پر انحصار شروع کیا۔یہ انحصار آج تک ختم نہیں ہوا — آئی ایم ایف پروگرامز اسی کمزور بنیاد کی علامت ہیں۔
امبیڈکر نے لکھا تھا کہ چونکہ پاکستان ہندوستان کے مقابلے میں کمزور ہوگا، اس لیے وہ اپنی سلامتی کے لیے کسی بڑی طاقت (امریکہ یا برطانیہ) پر انحصار کرے گا۔
“Pakistan will be militarily weak and will have to depend upon some foreign power for its defence.”
“پاکستان عسکری لحاظ سے کمزور ہوگا اور اپنی دفاعی سلامتی کے لیے کسی غیر ملکی طاقت پر انحصار کرے گا۔”
امبیڈکر کی یہ بات بالکل درست نکلی۔1954 میں پاکستان نے SEATO اور CENTO میں شمولیت کی، پھر امریکی امداد پر دفاعی بجٹ قائم کیا۔
بعد میں چین پر انحصار بڑھا۔یعنی دفاعی حکمتِ عملی ہمیشہ خارجی سہارے پر کھڑی رہی۔
امبیڈکر نے یہ نکتہ اٹھایا کہ مسلمان ایک مذہب رکھتے ہیں، مگر ان کے اندر لسانی، علاقائی اور طبقاتی تقسیمیں گہری ہیں۔
“Islam may unite them in theology but not in sociology or economics.”
''اسلام انہیں عقیدے میں تو متحد رکھ سکتا ہے، مگر سماجی اور معاشی لحاظ سے نہیں۔''
پاکستان کے اندر مختلف لسانی و صوبائی شناختیں — پنجابی، سندھی، بلوچ، پشتون، سرائیکی — بار بار سیاسی اور عسکری تصادم کا سبب بنیں۔اسلامی شعائر کی وحدت کے باوجود معاشرتی و معاشی تفاوت برقرار رہا۔
ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ امبیڈکر نے ہندو نقطۂ نظر سے کہا کہ پاکستان کا قیام ہندوستان کے لیے سیاسی طور پر مفید ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے ہندو اکثریت مضبوط اور متحد ہو جائے گی۔
“Partition will be a blessing in disguise for Hindus; it will remove the eternal Muslim veto on national progress.”
امبیڈکر نے یہ نتیجہ سیاسی نفسیات کی بنیاد پر اخذ کیا۔پاکستان کے قیام کے بعد بھارت میں مسلم ووٹ اور شناخت کی سیاسی کمزوری بڑھ گئی، جبکہ ہندو اکثریت مضبوط تر ہو گئی۔نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت نے صنعتی اور سائنسی ترقی میں نمایاں برتری حاصل کی۔
امبیڈکر نے ان تحریک پاکستان کو قریب سے دیکھا تھا انہوں نے جان لیا تھا کہ اگرچہ مذہبی سیاسی جماعتیں قیام پاکستان کی مخالف ہیں لیکن قیام پاکستان کے بعد انہیں اقتدار کے ایوانوں سے دور رکھنا ممکن نہیں رہے گا اور یہ جدت پسند طبقوں کی مخالفت میں لازمی آئیں گی۔
“In Pakistan, there will arise a bitter conflict between the Mullahs who want a theocracy and the educated classes who want a modern state.”
پاکستان میں ایک تلخ تصادم پیدا ہوگا — ایک طرف وہ ملا ہوں گے جو مذہبی حکومت چاہتے ہیں، اور دوسری طرف تعلیم یافتہ طبقہ جو ایک جدید ریاست کا خواہاں ہوگا۔”
“Once religion becomes the basis of the State, it will divide the State itself on sectarian lines.”
“جب مذہب ریاست کی بنیاد بن جائے تو خود ریاست فرقہ واریت کی بنیاد پر بٹ جاتی ہے۔”
یہ تصادم پاکستان کی فکری تاریخ کا مستقل حصہ رہا۔1950–60 میں سر سید کے پیروکار طبقے اور مذہبی جماعتوں کے اختلافات،1977 میں بھٹو حکومت کے خلاف اسلامائزیشن تحریک،اور 1980–90 کی دہائی میں ضیاء الحق کی مذہبی پالیسیوں نے اس کشمکش کو گہرا کیا۔آج بھی لبرل ازم بمقابلہ مذہبی ریاست کا سوال پاکستان کی فکری سیاست کا محور ہے۔
قیام پاکستان کا منصوبہ پنجاب کے اردگرد تشکیل دیا جا رہا تھا جہاں کے کلچر کو انگریز نے ختم کر دیا تھا لیکن پاکستان میں شامل دیگر متوقع اکائیاں اپنے کلچر سے شدت سے جڑ ی ہیں اسی بنیاد پہ امبیڈکر نے مستقبل میں اس مسئلہ کو بھی پیش کیا ۔ انہوں نے لکھا:
“In the absence of a strong unifying principle other than religion, Pakistan will face tribalism and provincial rivalries.”
“مذہب کے علاوہ کوئی مضبوط متحد کرنے والا اصول نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کو قبائلیت اور صوبائی رقابتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔”
امبیڈکر کی یہ پیشن گوئی بلوچستان کی شورش، سندھ کارڈ، پشتون تحفظ موومنٹ اور دیگر لسانی سیاستوں میں پوری طرح نظر آتی ہے۔پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں صوبائی خودمختاری کا سوال آج بھی حل طلب ہے۔
پاکستان کو بطور سیکیورٹی اسٹیٹ رہنا پڑے گا ۔ اس امر کی پیش گوئی بھی کی تھی ۔ انہوں نے پاکستان کے متوقع محل وقوع کی بنیاد پہ کہا :
“Its strategic position will be vulnerable. Surrounded by India on three sides, Pakistan will never feel secure.”
''پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے ہمیشہ غیر محفوظ رکھے گا۔ بھارت سے تین طرف سے گھرا ہونے کے باعث وہ کبھی خود کو محفوظ نہیں سمجھ پائے گا۔''
1947 کے بعد سے پاکستان کی دفاعی پالیسی بھارت کے خوف کے گرد گھومتی رہی۔1956، 1965، 1971 اور 1999 کی جنگیں اسی عدمِ تحفظ کے مظاہر ہیں۔
آج بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور یہی جغرافیائی خدشہ ہے۔
یہ تمام اقتباسات اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ امبیڈکر کی نگاہ صرف اُس وقت کے سیاسی مطالبات تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک فکری آئینہ چھوڑ گئے۔اس سے ایک اور پہلو کی طرف بھی اشارہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے قیام کے وقت موجود قیادت نہ یا تو ان مسائل کو صرف نظر کر دیا تھا اور اگر یہ ان کی نظر میں تھے تو انہوں نے ان کے سد باب کے لیے کچھ نہیں کیا دونوں صورتوں میں ناکامی کے ذمہ دار وہی ہیں ۔

Thursday, 9 October 2025

خواتین کی مخصوص نشستیں خزانے پہ بوجھ۔۔۔ ان کا متبادل کیاہے؟

یہ آرٹیکل لکھنے کا آئیڈیا مجھے اس تصویر سے آیا جس کا سکرین شارٹ اس آرٹیکل کے ساتھ دیا جا رہا ہے۔ اور اس پوسٹ کے مصنف سے تحریر اجازت لینے کے بعد ان کے آئیڈیا پہ تفصیلی کالم لکھنے آغاز کیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں خواتین کو قومی دھارے میں لانے کے لیے پارلیمنٹ میں مخصوص نشستیں مقرر کی گئیں۔ جس کے بعد ایک بڑی تعداد قومی اور صوبائی پارلیمان کا حصہ بن گئیں۔ یہ فیصلہ جو خواتین کی موثر نمائیندگی کے لیے کیا گیا تھا اسے سیاسی جماعتوں نے اپنے رشتہ دار خواتین یا تعلق واسطے کی بنیاد پہ تقسیم کرنا شروع کر دیا گیا۔ جس سے عام پولیٹیکل ورکر کے لیے سیاسی اور سماجی سطح پہ کام کرنے کی بجائے سیاسی رہنماوں کی خوشامد زیادہ کارگر ثابت ہونا شروع ہوئی۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مخصوص نشستیں مقرر کرنے کے علاوہ بھی کوئی طریقہ ہے جس سے خواتین کو قومی دھارے میں لایا جا سکے اور قومی خزانے پہ کوئی اضافی بوجھ بھی نہ بنے؟دنیا میں سب سے کمزور اور گھٹیا حالت میں جمہوریت ہمارے ہاں پائی جاتی ہے۔ اگر ہم دنیا میں ایک نظر دوڑائیں تو کئی ایسے ماڈلز نظر آتے ہیں جہاں خواتین کو برابری کی سطح پہ سیاسی نمائیندگی کے اہل بنایا گیا ہے۔ اس ضمن میں چند تجاویز ذیل میں دی جا رہی ہیں ۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کے تحت قانون سازی کی جائے کہ"ہر رجسٹرڈ سیاسی جماعت عام نشستوں پر کم از کم 20 فیصد انتخابی ٹکٹس خواتین امیدواروں کو لازمی جاری کرے۔"یہ شرط پارٹی رجسٹریشن، انتخابی نشان کے اجرا اور پارٹی فنڈنگ سے منسلک کی جائے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان تمام جماعتوں سے انتخاب سے قبل ایک "ٹکٹ تقسیم رپورٹ" طلب کرے جس میں مرد و خواتین امیدواروں کی تفصیلات ہوں۔ رپورٹ شائع کرنے پر ہی پارٹی کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت ملے۔
ریاستی یا انتخابی اخراجات کی سبسڈی یا پارٹی فنڈنگ )جہاں لاگو ہو) کو خواتین ٹکٹ دینے کی شرح سے منسلک کیا جائے۔یعنی جتنی زیادہ خواتین امیدوار، ا تنی زیادہ ری فنڈ یا مالی رعایت۔
تمام سیاسی جماعتوں کے آئین میں لازمی شق شامل کی جائے کہ“پارٹی کے مرکزی، صوبائی، اور ضلعی سطح کے عہدوں میں کم از کم 25 فیصد خواتین ہوں گی۔”
یہ قدم قیادت کے اندر سے نمائندگی مضبوط کرے گا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان یا وزارتِ خواتین ترقی کے تحت ایک "Women Political Support Fund" قائم کیا جائے جو مالی کمزوری رکھنے والی امیدواروں کو تربیت، اشتہارات، اور انتخابی مواد میں معاونت دے۔
عبوری دور کے لیے چند دوہری نشستیں (dual constituencies) متعارف کی جا سکتی ہیں — جہاں ایک ہی حلقے سے ایک مرد اور ایک عورت امیدوار کھڑے ہو سکیں۔ جس کے زیادہ ووٹ ہوں وہ نمائندہ ہو، مگر دونوں کے ووٹ اور اعداد عوامی سطح پر شائع کیے جائیں تاکہ عوامی قبولیت کا رجحان سامنے آئے۔
ابھی خواتین ونگز اکثر علامتی ہوتی ہیں۔ پالیسی میں طے کیا جائے کہ خواتین ونگ کے صدر کو مرکزی ورکنگ کمیٹی یا پارلیمانی بورڈ کا مستقل رکن بنایا جائے تاکہ ٹکٹ کے فیصلوں میں براہِ راست اثر ہو۔
ایک آئینی ٹائم لائن طے کی جائے کہ مثلاً2035 تک خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کا نظام ختم کر دیا جائے گا اور اس دوران پارٹیوں پر ٹکٹ کوٹہ نظام سختی سے لاگو ہوگا تاکہ تبدیلی بتدریج، مگر پائیدار ہو۔
ہر انتخابی حلقے میں پارٹی دو نامزدگیاں کرےایک مرکزی امیدوار (Primary Candidate) اور ایک متبادل امیدوار (Alternate Candidate)۔
شرط یہ ہو کہ اگر مرکزی امیدوار مرد ہے تو متبادل لازمی خاتون ہوگی اور اگر مرکزی امیدوار خاتون ہے تو متبادل مرد ہو سکتا ہے۔اس کا طریقہ کار یہ ہو گا کہ دونوں کے نام بیلٹ پیپر پر درج ہوں۔اگر مرکزی امیدوار نااہل، فوت یا کسی وجہ سے مستعفی ہو تو متبادل امیدوار خودبخود نشست سنبھالے۔اس سے خواتین امیدوار عملی تربیت اور سیاسی شہرت دونوں حاصل کریں گی۔اس پہ عمل کرنے سے ضمنی الیکشن کی مد میں قومی کزانے کو پہنچنے والی خطیر نقصان کا اندیشہ بھی نہیں ہوگا۔ اگر کوئی ایک سے زیادہ حلقوں سے منتخب ہونے کے بعد جن جن حلقوں سے سیٹ خالی کرے گا وہاں سے متبادل امیدوار کو کامیاب قرار دیا جائے گا۔
"شیئرڈ مہم" ماڈل ایک اور طریقہ ہے جس میں پارٹیاں ایک حلقے میں دو امیدواروں کی مشترکہ انتخابی مہم چلائیں — ایک مرد اور ایک خاتون۔ دونوں مل کر ووٹ مانگیں مگر پارٹی فیصلہ کرے گی کہ کامیابی کے بعد کون قومی اسمبلی میں جائے گا دوسرا پارلیمانی مشیر کے طور پر مقرر ہو گا۔یوں خواتین انتخابی سیاست میں براہِ راست میدان میں رہیں گی اور پارلیمانی ماحول کا تجربہ حاصل کریں گی۔
نشستیں متبادل خواتین کو ٹرانسفر کرنا ایک اور طریقہ ہے ۔ جس میں ہر پارٹی اپنے کل کامیاب امیدواروں میں سے 10–15 فیصد نشستیں خواتین متبادل امیدواروں کو منتقل کرے ۔یعنی اگر کسی جماعت نے 100 عام نشستیں جیتیں تو وہ 10 یا 15 نشستیں اپنی فہرست میں شامل خواتین امیدواروں کو دے۔یہ “reserved seats” نہیں بلکہ منتقلی کی بنیاد پر منتخب نشستیں ہوں گی، کیونکہ ان خواتین نے پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا تھا۔
جوائنٹ ٹکٹ کوٹہ سسٹم بھی ایک طریقہ ہو سکتا ہے جس میں پارٹی جب کسی حلقے کے لیے امیدوار منتخب کرے تو ٹکٹ فارم میں دو نام لازمی درج کرےپہلا مرکزی امیدوار اور دوسرا معاون امیدوار (جو لازمی خاتون ہو) اگر پارٹی جیتتی ہے تو معاون امیدوار کو ضلع یا صوبائی سطح پر انتظامی و پارلیمانی ذمہ داری دی جائے — جیسے ڈسٹرکٹ پارلیمانی افسر، سماجی ترقی کی مشیر یا انتخابی نمائندہ۔اس طرح خواتین براہِ راست نمائندہ سیاست سے جڑی رہیں گی، نہ کہ صرف مخصوص نشستوں پر۔
ایک اور طریقہ جو ماڈل جرمنی، ناروے، اور سوئیڈن میں کامیاب ہے۔اس میں پارٹیاں امیدواروں کی فہرست (Candidate List) جمع کرواتی ہیں اور ہر مرد امیدوار کے بعد ایک خاتون امیدوار درج ہوتی ہے۔پارٹی کو جتنے ووٹ ملیں گے اتنی نشستیں اسی ترتیب سے ملیں گی — یعنی فہرست میں شامل خواتین خودبخود عام نشستوں پر اسمبلی میں پہنچیں گی۔
ایک طریقہ Placement Mandate ہے جس کا مطلب ہے کہ سیاسی جماعتوں کو محض یہ نہیں کہا جائے کہ وہ "40٪ خواتین کو ٹکٹ دیں" بلکہ یہ لازمی کیا جائے کہ خواتین کو جیتنے کے قابل (winnable) حلقوں یا فہرستوں میں مخصوص ترتیب سے رکھا جائے۔یہی ترتیب Zipper System کہلاتی ہے —یعنی امیدواروں کی فہرست یا ٹکٹ تقسیم میں مرد و عورت باری باری ہوں۔ جیسے:مرد – عورت – مرد – عورت – مرد – عورت (اسی لیے اسے “zipper” کہا جاتا ہے — جیسے زپ کے دانت برابر لگے ہوتے ہیں۔)
پاکستان کے تناظر میں “Zipper Lite” کہا جائے گا کیوں پاکستان کا نظام فِرسٹ پاسٹ دی پوسٹ (FPTP) ہے، یعنی ہر حلقے سے ایک ہی امیدوار جیتتا ہے۔ اس لیے مکمل “zipper list” ممکن نہیں۔لہٰذا یہاں ہم “Zipper Lite” تجویز کرتے ہیں ۔ یعنی جماعتوں کو ٹکٹوں کی تقسیم میں یہ لازمی کیا جائے کہ: "ہر پانچ عام نشستوں میں کم از کم دو خواتین کو ٹکٹ دیے جائیں اور یہ خواتین ایسے حلقوں میں ہوں جہاں پارٹی کو جیتنے کے حقیقی امکانات ہوں (مثلاً گزشتہ الیکشن میں 30% سے زیادہ ووٹ ملے ہوں)۔''
سوال یہ ہے کہ یہ کیسے کام کرے گا —پارٹی سطح پرالیکشن کمیشن یہ قاعدہ بنائے کہ“کوئی سیاسی جماعت الیکشن میں اس وقت تک حصہ نہیں لے سکتی جب تک وہ کم از کم 20٪ خواتین امیدواروں کو ‘وِنیبل’ نشستوں پر ٹکٹ نہ دے۔'' حلقہ کی سطح پر ہر جماعت کو "Women Winnable Distribution Plan" جمع کرانا ہوگاجس میں دکھایا جائے گا کہ خواتین کو کس کس حلقے میں ٹکٹ دی گئی ہے۔یہ رپورٹ عوامی طور پر ECP کی ویب سائٹ پر شائع ہوگی۔
اگر کوئی جماعت اس اصول پر عمل نہ کرے تو اس کے انتخابی نشان کی توثیق عارضی طور پر معطل کی جا سکتی ہو یا فنڈنگ میں کمی کی جا سکتی ہو یا نامکمل امیدوار فہرست مسترد کی جا سکتی ہو۔
ان تجاویز سے ممکنہ فائدہ یہ ہوگا کہ خواتین کی مخصوص نشستیں قومی خزانے پہ بوجھ نہیں ہوں گی۔بلکہ سیاسی جماعتیں اپنے خرچ پہ خواتین کو سیاست میں لائیں گی۔ ساتھ ہی مخصوص نشستوں کے خاتمے کے باوجود خواتین کی موجودگی برقرار رہے گی۔امیدواروں کی سیاسی تربیت حقیقی میدان میں ہوگی۔نا صرف عوامی سطح پر خواتین کے انتخابی چہرے زیادہ نمایاں ہوں گے۔بلکہ انتخابی عمل میں توازن اور شفافیت بڑھے گی۔

Sunday, 5 October 2025

ڈاکٹرامبیڈکر کی قیام پاکستان سے قبل پاکستان کے بارے پیش گوئیاں (حصہ اول)

جب برصغیر کی سیاست 1930 کی دہائی میں مذہبی تقسیم کی طرف بڑھ رہی تھی تو چند ہی لوگ ایسے تھے جنہوں نے حالات کو جذبات کے بجائے سماجی سائنس کے عدسے سے دیکھا۔ ان میں سب سے نمایاں نام ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا تھا — وہی امبیڈکر جنہوں نے بعد ازاں ہندوستان کا آئین مرتب کیا مگر اس سے پہلے وہ برصغیر کے مذہبی، معاشی اور سیاسی تضادات پر نہایت گہرا تجزیہ کر چکے تھے۔

1930 کے عشرے میں مسلم لیگ کی "دو قومی نظریے" کی تحریک زور پکڑ رہی تھی جبکہ دوسری طرف کانگریس ایک متحدہ ہندوستان کا خواب پیش کر رہی تھی۔ ان دونوں کے درمیان امبیڈکر ایک تیسرے فکری زاویے سے سوچ رہے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہندو اور مسلمان دونوں برصغیر میں صدیوں سے اکٹھے تو رہے ہیں مگر ان کی سماجی نفسیات، معاشی مفادات اور تاریخی شعور الگ الگ سانچوں میں ڈھلے ہوئے ہیں۔

ان ہی حالات میں امبیڈکر نے 1940 میں اپنی شہرۂ آفاق کتاب "Pakistan or the Partition of India" لکھی۔ یہ کتاب محض سیاسی دستاویز نہیں بلکہ سماجی مطالعہ، تاریخی مشاہدہ اور منطقی استدلال کا حسین امتزاج ہے۔امبیڈکر نے اس کتاب میں مسلمانوں کے موقف کو رد کرنے یا ان کا مذاق اڑانے کے بجائے اسے سنجیدگی سے سمجھنے اور پرکھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مسلم لیگ کے دلائل کا تجزیہ کیا مگر ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر واقعی پاکستان وجود میں آیا تو اس کے داخلی، عسکری، معاشی، تعلیمی اور نظریاتی مسائل کیا ہوں گے؟

ڈاکٹر امبیڈکر کا اندازِ فکر محض قوم پرستانہ نہیں تھا۔ وہ پیش گوئی کرنے سے پہلے اعداد و شمار، مردم شماری، فوجی تناسب، تعلیمی اعداد، جاگیرداری کے اثرات اور تاریخی تمثیلات کا سہارا لیتے ہیں۔مثلاً انہوں نے برطانوی ہند کی فوج میں مسلمانوں کی شرح، ان کے علاقوں کی تعلیمی پسماندگی، جاگیردارانہ رشتوں اور طبقاتی ساخت کا مفصل تجزیہ پیش کیا۔وہ ایک ماہرِ عمرانیات (Sociologist) کی طرح دیکھتے ہیں کہ اگر ایک ملک کا معاشرہ خود اندر سے طبقات میں بٹا ہوا ہو تو وہاں جمہوری ادارے پنپ نہیں سکتے۔اسی لیے وہ بار بار لکھتے ہیں کہ پاکستان کی ساخت "feudal and militaristic" یعنی جاگیردارانہ اور عسکری ہے — اور یہی دو عناصر کسی بھی ابھرتی ہوئی ریاست کے لیے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔

جب امبیڈکر یہ کتاب لکھ رہے تھے اس وقت نہ پاکستان بنا تھا نہ تقسیم کا کوئی حتمی فیصلہ ہوا تھا۔اس کے باوجود انہوں نے اس امکان کو نہ صرف سنجیدگی سے لیا بلکہ اس کے نتائج و اثرات کو بڑے سائنسی انداز میں بیان کیا۔یہ کتاب 13 ابواب پر مشتمل ہے جن میں وہ مختلف پہلوؤںجیسے مسلم سیاست، ہندو اکثریت کا رویہ، فوجی ڈھانچہ، معیشت، مذہب، تعلیم اور اقلیتوں کے حقوق — کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

1940 میں شائع ہونے والی یہ کتاب اُس وقت زیادہ نہیں پڑھی گئی کیونکہ کانگریس اور مسلم لیگ دونوں اپنی اپنی سیاسی کشمکش میں الجھی ہوئی تھیں۔
مگر آزادی کے بعد، خصوصاً 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد محققین نے جب اس کتاب کو دوبارہ پڑھا تو حیرت ہوئی کہ امبیڈکر نے جو کچھ لکھا تھا، وہ تاریخ کے صفحات پر لفظ بہ لفظ سچ ثابت ہوا۔

امبیڈکر نے مسلمانوں کو دشمن نہیں بلکہ ایک سماجی حقیقت کے طور پر دیکھا۔وہ لکھتے ہیں کہ اسلام نے برصغیر میں برابری، اخوت اور عدل کا پیغام دیا مگر ساتھ ہی مسلم معاشروں میں طبقاتی اور قبائلی روایتیں باقی رہ گئیں جنہوں نے اسلامی مساوات کے اصول کو عملی شکل میں ماند کر دیا۔
ان کے مطابق، اگر پاکستان بنا تو وہ اسلامی نظریے کی بجائے قبائلی و علاقائی نفسیات کے تابع ہوگا۔

ایک جگہ وہ لکھتے ہیں:

“Islam may unite them in theology but not in sociology.”

یعنی “اسلام انہیں مذہبی لحاظ سے تو متحد رکھ سکتا ہے، مگر سماجی لحاظ سے نہیں۔''

یہی وہ جملہ ہے جو پاکستان کی بعد از قیام تاریخ کے لیے ایک مرکزی تشخیص (diagnosis) بن گیا — مذہب کی وحدت کے باوجود معاشرہ لسانی، طبقاتی اور صوبائی بنیادوں پر بٹ گیا۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ امبیڈکر نے مسلمانوں کے حقِ علیحدگی کی مخالفت نہیں کی۔وہ کہتے ہیں:

“If the Muslims want Pakistan, let them have it.”

''اگر مسلمان پاکستان چاہتے ہیں، تو انہیں دے دیا جائے۔''

لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس فیصلے کے سماجی و معاشی نتائج پر ضرور غور کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کسی تعصب کے بغیر یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ایک مذہب پر مبنی ریاست کو چلانے کے لیے صرف ایمان نہیں بلکہ انتظامی نظم، تعلیم، اور صنعتی خود کفالت بھی ضروری ہیں — اور اگر یہ عناصر نہ ہوں تو ریاست جلد یا بدیر کمزور ہو جائے گی۔

ڈاکٹر امبیڈکر کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنی تحریر میں کسی قوم کے خلاف نفرت نہیں پھیلائی بلکہ فکر کی بنیاد پر تنبیہ کی۔ان کا لہجہ قنوطی نہیں بلکہ تحقیقی اور اصلاحی ہے۔وہ نہ تو ہندو بالادستی کے حامی تھے اور نہ ہی مسلمانوں کے مخالف بلکہ وہ چاہتے تھے کہ برصغیر کے لوگ تاریخی حقیقتوں کا سامنا کریں۔اسی لیے اُن کی پیش گوئیاں آج بھی محض "سیاسی تبصرے" نہیں بلکہ علمِ اجتماع، سیاسی نفسیات اور ریاستی نظریات کا کلاسیکی مطالعہ سمجھی جاتی ہیں۔

امبیڈکر نے جو کچھ لکھا، وہ اُس وقت کی سیاست سے بہت آگے کی بات تھی۔ان کا مقصد کسی کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ یہ بتانا تھا کہ ریاستیں صرف جذبات سے نہیں اداروں سے چلتی ہیں۔پاکستان کے بارے میں ان کی بصیرت ہمیں اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ بعض اوقات ایک غیر متعلق فرد بھی قوموں کے مقدر کی جھلک دیکھ لیتا ہے — بشرطیکہ وہ حقیقت پسندی سے سوچے۔