دو پاکستان — ایک خواب، ایک حقیقت
ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے دو نہایت بلند پایہ کتابیں لکھیں جن میں انہوں نے اسلام اور قرآن کے اصل مقصد سے امت کے انحراف کا تجزیہ کیا ان میں پہلی کا نام دو اسلام اور دوسری کا نام دو قرآن تھا ۔ ان کی فکری روایت میں تضاد محض بیان کا حربہ نہیں بلکہ حقیقت کے دو چہروں کا انکشاف ہے۔ اُنہوں نے دو اسلام میں "قرآن کا اسلام" اور "مُلّا کا اسلام" الگ کر کے فکری بیداری پیدا کی اور دو قرآن میں "الٰہی پیغام" اور "مفہومی تحریفات" کا فرق واضح کیا اسی طرز پر آج پاکستان کی حقیقت بھی دو متضاد وجودوں میں تقسیم نظر آتی ہے ۔ایک وہ جناح کے تصور میں زندہ ہےاور دوسرا وہ جو حقیقت میں سانس لے رہا ہے مگر روح سے خالی۔
پاکستان کا المیہ یہ نہیں کہ اسے دشمن
نے کمزور کیا بلکہ یہ کہ ہم نے اپنے ہی خواب کو مسخ کر دیا۔یہی وہ تضاد ہے
جسے ہم "دو پاکستان" کے نام سے شناخت کر سکتے ہیں —ایک نظریاتی پاکستان جو خواب
میں موجود ہےاور ایک حقیقی پاکستان، جو اقتدار کے ایوانوں میں قید ہے۔
مسلمان ِ ہند جب برصغیر میں الگ وطن
کے لیے کوشاں تھے تو اُن کا مقصد ایک علاقہ
نہیں بلکہ ایک اخلاقی معاشرہ تخلیق کرنا تھا۔ جیسا کہ اقبال نے مسلمانوں کو قومیت، رنگ و نسل سے ماورا کر کے روحانی
اخوت اور معاشرتی عدل کی بنیاد پر منظم ہونے کا پیغام دیا۔اسی خواب کی عملی
تعبیر محمد علی جناح نے پاکستان کے قیام کی صورت میں پیش کی۔
یہ پاکستان وہ تھا جہاں اسلام عدلِ
اجتماعی کا سرچشمہ ہوتا، جہاں علم و عقل کو ایمان کا جزو سمجھا جاتا،
جہاں ریاست مذہب کی محافظ نہیں
بلکہ اخلاق کی معمار ہوتی؛ اور ہر شہری کی عزت، قانون کے تحت برابر ہوتی۔
اقبال نے کہا تھا: ''جدا ہو دین
سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔''
اسی اصول پر جناح نے 11 اگست 1947 کو
اعلان کیا کہ پاکستان میں ہر شہری کو مذہب، زبان اور ذات سے بالاتر برابر کے
حقوق حاصل ہوں گے۔
یہ پاکستان جمہوری روح رکھتا
تھا جہاں مذہب انسان کو انصاف سکھاتا نفرت نہیں۔یہ فلاحی ریاست کا نظریہ
تھا جو طاقتور کی نہیں بلکہ محروم کی حفاظت کے لیے وجود میں آیا تھا۔یہی
"پہلا پاکستان" تھا —جہاں آئین، ضمیر، اخلاق اور قانون ایک ہی سمت میں چلتے۔جہاں
قرآن محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ ریاستی ضابطۂ عمل بنتا۔جہاں مسجد، اسکول
اور اسمبلی — تینوں میں انسانی وقار کا درس دیا جاتا۔
وقت گزرا اور وہ خواب سیاست کی فائلوں
میں دفن ہو گیا۔قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ریاستی طاقت کا مرکز عوام سے ہٹ کر
اشرافیہ کے ہاتھوں میں چلا گیا۔وہ اشرافیہ جو کبھی انگریز کی انتظامیہ
تھی وہی آج ریاستِ مدینہ کے ٹھیکیدار بن بیٹھی۔ یہ "دوسرا
پاکستان" ہے —
جہاں جاگیردار، سرمایہ دار، اور
بیوروکریٹ مل کر قوم کی قسمت لکھتے ہیں۔ جہاں
اسلام کو آئینی شق تو بنایا گیا مگر اس کی روح کو سماجی زندگی سے
نکال دیا گیا۔ جہاں تعلیم کاروبار بن گئی، صحت تجارت اور سیاست
وراثت۔ جہاں عدالتیں طاقتور کے
سامنے نرم اور غریب کے لیے قہر بن گئیں اور قانون محض کمزور کے لیے
لاگو رہ گیا۔
یہ پاکستان قرآن کے معاشرتی اصولوں
سے نہیں بلکہ استعماری ڈھانچے سے چلایا جا رہا ہے۔وہی تھانے، وہی کچہری،
وہی استحصال — بس پرچم نیا ہے۔یہاں اسلام کے نام پر تحریکیں چلتی ہیں مگر اسلامی
نظامِ عدل کہیں نظر نہیں آتا۔ہر حکومت "ریاستِ مدینہ" کا نعرہ لگاتی
ہےمگر مدینہ کا وہ عدل، جہاں خلیفہ بھی جواب دہ ہوتا وہ آج کے اسلام آباد میں
اجنبی ہے۔یہ پاکستان وہ نہیں بانیاں پاکستان نے خواب میں دیکھا بلکہ وہ ہے جو اقتدار
کے خواب میں بگڑ گیا۔
ان دو پاکستانوں کے درمیان ایک مسلسل
جنگ جاری ہے۔ایک طرف جناح کا پاکستان ہے — جو آئین، قانون، اور اخلاق کا
متقاضی ہے؛
اور دوسری طرف اقتدار و مفاد کا
پاکستان — جو سیاست،
سرمایہ اور طاقت کا غلام ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے ذہن نہیں نوکر پیدا
کرتے ہیں۔ ہمارے سیاست دان منشور نہیں وعدے بیچتے ہیں۔ اور ہمارے مذہبی رہنما
اصلاح نہیں تقلید کا کاروبار کرتے ہیں۔
یہ تصادم کسی ایک حکومت کا نہیں، بلکہ
نظامی نفاق کا نتیجہ ہے۔ہمارے آئین کی دیباچہ میں "اسلامی جمہوری
فلاحی ریاست" لکھا ہے،
مگر بجٹ، پالیسیاں اور قانون نوآبادیاتی
نظام کے تابع ہیں۔ریاست کی بنیاد قرآن پر ہے مگر قانون سازی مفادات
کے دباؤ پر۔
نتیجہ یہ ہے کہ قوم نظریاتی انتشار
میں مبتلا ہے۔شناخت اسلامی مانگتی ہے مگر مغربی نظام پر یقین رکھتی ہے۔
پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ اس کے
ادارے دو رخ رکھتے ہیں —ایک آئینی چہرہ جبکہ دوسرا عملی چہرہ۔
آئینی چہرے
کے مطابقآئین کہتا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی
جمہوریہ ہے جہاں ریاست عوام کی فلاح و بہبود کی ضامن ہے اور تعلیم، صحت، انصاف
اور مساوات ریاست کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔
عملی چہرے
کے مطابقعملی طور پرتعلیم چند طبقوں تک محدود
ہے۔ صحت کی سہولتیں خریدنے کے قابل نہیں۔ انصاف دولت کے ترازو میں تولتا ہے۔اور
مساوات صرف تقریروں تک محدود ہے۔
ریاستی ڈھانچے کا یہ تضاد دو
پاکستانوں کی سب سے بڑی علامت ہے۔ایک پاکستان کاغذ پر قائم ہےاور دوسرا
زمینی حقیقت میں قابض۔یہ وہی فرق ہے جو غلام جیلانی برق نے "دو
اسلام" میں بتایا تھا —ایک اسلام جو قرآن میں ہےاور دوسرا جو انسانوں نے
اپنے مفاد کے لیے بنایا۔
پاکستان بھی دو حصوں میں بٹ گیا ہے —ایک جو جناح نے لکھا تھااور ایک جو ہم نے پڑھ دیا۔نظریاتی
پاکستان میں معیشت عدلِ عمرانیہ پر قائم ہوتی —یعنی زکوٰۃ، صدقات اور امانت کے نظام
پر۔ مگر موجودہ پاکستان میں معیشت قرض، سود، اور کرپشن پر کھڑی ہے۔
یہاں ٹیکس عوام دیتے ہیں مگر عیاشی
طبقہ کرتا ہے۔یہاں مزدور خون پسینہ بہاتا ہے مگر دولت سرمایہ دار سمیٹتا ہے۔یہاں
زمین اللہ کی ہے مگر قبضہ چند خاندانوں کا۔یہی وہ معیشتی تضاد ہے جس نے پاکستانی
معاشرے کو دو طبقات میں تقسیم کر دیا —ایک وہ جو پاکستان کے نام پر جیتا
ہےاور دوسرا وہ جو پاکستان پر جیتا ہے۔
پہلے پاکستان کی سیاست اصولوں
پر ہونی تھی جبکہ دوسرے پاکستان کی سیاست شخصیات پر ہو گئی۔یہاں جماعتیں
منشور سے نہیں بلکہ وفاداریوں کے سودوں سے بنتی ہیں۔یہاں انتخاب عوام کا
نہیں، اشرافیہ کے اتفاق کا نتیجہ ہوتا ہے۔قانون سازی عوامی ضرورت نہیں بلکہ
مصلحتی مفاد کے تابع ہے۔یہی وجہ ہے کہ سیاست نے اخلاق کو نگل لیااور اقتدار
نے خدمت کا گلا گھونٹ دیا۔
سماجی سطح پر بھی دو دنیائیں ہیں۔ ایک
پاکستان، جہاں بچے بھوک سے مرتے ہیں جبکہ دوسرا جہاں طاقتور کے کتے تک خصوصی خوراک
پر زندہ ہیں۔ایک پاکستان جہاں عورت حجاب میں بھی غیر محفوظ ہے اوردوسرا، جہاں
فحاشی آزادی کے نام پر ترقی بن گئی ہے۔ایک پاکستان جہاں مدرسہ محصور ہے جبکہ دوسرا
جہاں یونیورسٹی مغربی غلامی میں سرشار ہے۔یہ سماجی تضاد وہی ہے جو کسی قوم کے زوال
کی آخری نشانی ہوتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ پاکستان کیوں بنا؟سوال
یہ ہے کہ پاکستان کب بنے گا؟جب تک ریاست اپنے نظریاتی اور عملی چہرے کو ایک
نہ کرے،
جب تک سیاست خدمت نہ بنےاور جب تک
قانون کمزور کا محافظ نہ ہو —تب تک یہ دو پاکستان ساتھ رہیں گے۔ایک خوابوں میں زندہ، دوسرا
حقیقت میں مسلط۔
جناح کا پاکستان ابھی پیدا نہیں
ہوا۔وہ تب پیدا ہوگا جب تعلیم کا مقصد نوکری نہیں بلکہ انسان سازی بنے گا جب مذہب نعرہ نہیں بلکہ نظامِ عدل بنے گا۔ اور سیاست تجارت نہیں
بلکہ امانت بنے گی۔ڈاکٹر غلام جیلانی برق
اگر آج زندہ ہوتے تو شاید لکھتے کہ ''ایک پاکستان وہ جو جناح نے سوچا اور ایک وہ جو ہم نے بیچا۔'' یہی دو
پاکستان ہیں —ایک ضمیر
کا پاکستان اور ایک زمیندار کا پاکستان۔پہلا قرآن کے اصولوں پر کھڑا
ہے اور دوسرا کرپشن کے ستونوں پر۔
لیکن قوموں کے مقدر میں تبدیلی ممکن
ہے —اگر خواب
دوبارہ جاگ جائیں۔ اگر نوجوان شعور کو شعار بنائیں اور اگر ہم اس پاکستان کو بنانے
نکلیں۔ جو وجود میں تو 1947 میں آیا تھا مگر حقیقت میں ابھی پیدا نہیں ہوا۔








