خاموشیوں کا نوحہ گر
خاموشیوں کا نوحہ گر
تحریر: ابوبکر صدیق
ہماری زندگی کے سب سے گہرے، سب سے تلخ اور سب سے خوبصورت فیصلے وہ ہوتے ہیں جن کے گواہ صرف ہم خود ہوتے ہیں۔ دنیا عدالتوں، مجلسوں اور اخبارات میں لکھی جانے والی باتوں کو تاریخ سمجھتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسانی تاریخ کا اصل اور بڑا حصہ وہ ہے جو کبھی زبان پر آ ہی نہیں سکا۔ وہ آنسو جو پلکوں کی سرحد پار نہ کر سکے، وہ شکوے جو لبوں پر آ کر دم توڑ گئے، اور وہ قربانیاں جن کا کوئی اشتہار نہیں چھپا—یہ سب کہاں جاتے ہیں؟ یہ سب انسان کے اندر خاموشی کی تہہ بن کر جمتے چلے جاتے ہیں۔
کرن کور کی کتاب Silent Author پر نظر پڑی تو یوں لگا جیسے کسی نے انسانی وجود کی اسی غیر تحریری تاریخ پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔
ہم سب بنیادی طور پر مصنف ہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے شاہکار کاغذ پر نہیں، اپنے سینے میں دفن کرتے ہیں۔ لفظوں کی ایک مجبوری ہے۔ لفظ حدیں مانگتے ہیں، گرامر کے پابند ہوتے ہیں اور سماج کی مصلحتوں کے اسیر۔ مگر انسان کے دکھ اور اس کے سچے تجربات ان پیمانوں سے بہت بڑے ہیں۔ جب دکھ بہت گہرا ہو جائے تو زبان گنگ ہو جاتی ہے، اور جب سفر تنہائی کا ہو تو آواز ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ کرن کور اس کتاب میں ہمیں بتاتی ہیں کہ خاموشی محض آواز کی عدم موجودگی کا نام نہیں، بلکہ خاموشی بذاتِ خود ایک مکمل زبان ہے—ایسی زبان جسے صرف وہی پڑھ سکتا ہے جس نے خود کبھی ضبط کا زہر پیا ہو۔
اس کتاب کے صفحات سے گزرتے ہوئے قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی اس کے ساتھ چلتے چلتے رک گیا ہو اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھ رہا ہو، ”تم تھک تو نہیں گئے؟“
ہماری اجتماعی زندگی کا المیہ یہ ہے کہ ہم سب بولنے کی جلدی میں ہیں۔ کوئی سننا نہیں چاہتا۔ سوشل میڈیا کے اس غلغلے اور شور کے دور میں، جہاں ہر شخص اپنی رائے کی نمائش میں ہلکان ہو رہا ہے، وہاں خاموشی کی وقعت کو سمجھنا کسی نعمت سے کم نہیں۔ کرن کور نے کمال مہارت سے ان نازک رشتوں، بکھرتے خوابوں اور صدموں کے بعد دوبارہ سنبھلنے کی اس طویل اور کٹھن مشقت کو قلمبند کیا ہے جسے دنیا اکثر نظر انداز کر دیتی ہے۔ وہ قاری کو بیرونی دنیا کی چکاچوند سے کھینچ کر اس کے اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتی ہیں۔
Silent Author پڑھتے ہوئے انسان کو بار بار یہ احساس کچوکے لگاتا ہے کہ ہم جن باتوں کو اپنی کمزوری سمجھ کر چھپاتے رہے، وہی دراصل ہماری اصل طاقت تھیں۔ یہ کتاب روایتی نصیحتوں یا گھسے پٹے فلسفوں کا پلندہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر حساس شخص کو اپنا اندرونی وجود بے نقاب نظر آتا ہے۔
کرن کور نے ثابت کیا ہے کہ زندگی کا سب سے بڑا لکھاری انسان کا قلم نہیں، بلکہ اس کا وہ صدمہ، وہ تنہائی اور وہ ضبط ہوتا ہے جو خاموشی سے دل کے اوراق پر داستانیں رقم کرتا رہتا ہے۔ یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے ایک خاموش مرہم ہے جو دنیا کے ہجوم میں خود کو اکیلا پاتا ہے اور جس کے پاس اپنے دکھ کا کوئی گواہ نہیں سوائے اس کے اپنے وجود کے


