Wednesday, 30 July 2025

گدھے کے گوشت سے زیادہ ضمیر کا گوشت زیادہ شرمناک ہے


اسلام آباد میں گدھوں کے گوشت کی فروخت کی خبر نے جیسے ہی سوشل میڈیا پر سر اُبھارا، عوامی جذبات کا سیلاب امڈ پڑا۔ میمز بننے لگیں، تھو تھو کا شور اٹھا، اور معاشرے کے ٹھیکے داروں نے بیان بازی کی یلغار کر دی۔ حیرت ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں اجتماعی طور پر حرام، ظلم، جھوٹ، فریب اور نفاق کو معمولی بات سمجھا جاتا ہے وہاں گدھے کا گوشت کھا لینے پر اتنا شدید ردعمل کیوں؟ کیا ہم واقعی مذہب، قانون اور اخلاقیات کے وفادار ہیں یا محض نمائشی حساسیت کے خول میں لپٹے ہوئے یا مردہ ضمیر کے پجاری؟

اسلامی تعلیمات کے مطابق گدھے کا گوشت حرام ہے اور اس پر اعتراض شرعی بنیاد رکھتا ہے۔ جی ہاں بالکل درست۔ لیکن وہی قوم جو حلال رزق پر اتنے ناز کرتی ہے حرام کمائی، سود، جھوٹ، بددیانتی، دھوکہ دہی، ظلم اور عورتوں کی حق تلفی کو اپنے معمولات میں شامل کر چکی ہے۔ حدیث مبارکہ ہے: "جسم کا وہ گوشت جو حرام سے پلا ہو، جہنم کی آگ کے سوا اس کے لیے کچھ نہیں۔" پھر وہ لاکھوں کروڑوں لوگ جو سودی بینکوں سے قرضے لیتے ہیں، سرکاری تنخواہیں کھا کر کام نہیں کرتے، جھوٹی رسیدوں سے بجٹ کھاتے ہیں... کیا ان کے گوشت کو حلال سمجھا جائے؟ گدھے کا گوشت کھا کر ہنہنانا برا ہےتو جھوٹ بول کر نماز پڑھنا کیا ٹھیک ہے؟

پاکستانی قوانین میں مخصوص جانوروں کا گوشت فروخت کرنے کی اجازت ہے اور گدھا ان میں شامل نہیں۔ لیکن کیا جھوٹی گواہی دینا قانوناً جرم نہیں؟ کیا سرکاری خزانے میں خرد برد جرم نہیں؟ کیا عورتوں کو وراثت سے محروم رکھنا جرم نہیں؟ پھر یہ جرائم روز پاکستان میں کیوں ہو رہے ہیں؟ کہاں ہیں وہی لوگ جو گدھے کے گوشت پر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں؟ کیا وہ پٹواری کے سامنے رشوت دے کر شرمندہ ہوتے ہیں؟ کیا عدالت میں جھوٹ بول کر ضمیر پر بوجھ محسوس کرتے ہیں؟ قانون صرف گوشت والے قصائی پر لاگو ہوتا ہے، یا ہر اس پر جو اس ملک کا بیٹا ہے؟

برصغیر میں گدھا ذلت کی علامت رہا ہے اس لیے اس کا گوشت کھانا نفسیاتی طور پر ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے کردار کے گدھے پن پر بھی اتنا ہی شرمندہ ہوتے ہیں؟ کیا جعلی ڈگری، نقل، جھوٹی شان و شوکت، زنا، فحاشی، دوغلا پن، منافقت اور فریب کو بھی ایسا ہی ناپسند کرتے ہیں؟ افسوس، ہمارے معاشرے میں جھوٹ بولنا ذہانت، دھوکہ دینا چالاکی، اور حرام کمانا کامیابی کی علامت بن چکی ہے۔

ہر کاروبار جھوٹ پر کھڑا ہے۔ گھی خالص نہیں، دوا میں ملاوٹ، پیمائش میں کمی، رسید میں جھوٹ — سب کچھ چلتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: "لعنت ہے جھوٹوں پر۔" (الزمر 3:61)۔ پاکستانی معیشت سود پر استوار ہے۔ ہر گھر میں سودی قرض، ہر دفتر میں سودی سرمایہ کاری۔ لیکن کوئی بینکر کو گدھا نہیں کہتا۔ "اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان ہے اُن لوگوں کے لیے جو سود کھاتے ہیں۔" (البقرہ 2:279)۔ پٹواری سے لے کر سپریم کورٹ تک کرپشن ہی نظام ہے۔ لیکن یہ سب "قابلِ قبول" ہے، بس گدھا نہ ہو! حدیث ہے: "رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔" (ابوداؤد)

غیبت ایسا ہے جیسے تم اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاؤ۔ (الحجرات 49:12)۔ سوشل میڈیا پر کسی کی عزت اچھالنا، جھوٹے الزامات لگانا، کردار کشی کرنا — یہ سب تفریح بن چکا ہے۔ فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک پر مذہب کے نام پر منافرت، عالموں کی غیبت، سیاسی بہتان — ضمیر کا قتل روز ہو رہا ہے۔

قرآن کہتا ہے: "زنا کے قریب نہ جاؤ، بے شک یہ بے حیائی ہے۔" (الاسراء 17:32)۔ لیکن کیا واقعی ہم زنا سے دور ہیں؟ ہمارے کالجز، دفاتر، سوشل میڈیا، ٹی وی ڈرامے، فلمیں — سب جنس، رومانس اور فحاشی کا گڑھ بن چکے ہیں۔ جنسی ہراسانی، شادی سے پہلے تعلق، ہم جنس پرستی کے دفاعی بیانات... سب کچھ عام ہے۔ مگر گدھے کا گوشت؟ ناقابلِ معافی!

نقل عام ہے، جعلی ڈگریاں مارکیٹ میں دستیاب، ٹیچرز حاضری لگا کر غائب۔ علم فروشی کا یہ حال ہے کہ ایک نسل بغیر علم کے ڈگری ہولڈر ہے۔ مگر ضمیر پر بوجھ نہیں۔ بس پلیٹ میں گدھے کا گوشت نہ ہو!

قرآن کہتا ہے: "عورتوں کو ان کے حصے دو، چاہے وہ کم ہوں یا زیادہ۔" (النساء 4:7)۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں لاکھوں عورتیں آج بھی اپنے باپ کی زمین سے محروم ہیں۔ بھائی، چچا، ماموں سب مل کر حقدار کو دھتکار دیتے ہیں۔ کیا یہ بھی گدھے کا گوشت نہیں؟

نبی ﷺ نے فرمایا: "تم سے پہلی قومیں اسی لیے تباہ ہوئیں کہ وہ طاقتور کو چھوڑ دیتیں اور کمزور پر حد قائم کرتیں۔" پاکستان میں میرٹ ایک مذاق ہے۔ نوکری، اسکالرشپ، ٹرانسفر — ہر چیز تعلق، سفارش، یا "نظرانے" سے طے پاتی ہے۔

یہ وہ گوشت ہے جو جھوٹ سے کٹتا ہے، ظلم سے بھنتا ہے، منافقت سے چبایا جاتا ہے، اور لاشعور میں ہضم ہوتا ہے۔ ہم روز ضمیر کا گوشت کھاتے ہیں، مگر نخرہ گدھے پر کرتے ہیں۔

گدھے کا گوشت کھانے والے پر تھو تھو کرنے سے پہلے ہمیں اپنی جھوٹی گواہیوں پر، اپنی حرام کمائی پر، اپنی غیبت اور بہتان پر، اپنی فحاشی اور منافقت پر، اپنی سود خوری اور وراثت کی چوری پر شرم آنی چاہیے۔ یہی معاشرہ ہے جو رات بھر حرام کما کر صبح جمعہ کی نماز پڑھتا ہے، جو بیٹیوں کو وراثت سے محروم کر کے "ولیمہ" میں بریانی بانٹتا ہے، جو غریب سے چھینتا ہے اور ٹی وی پر صدقہ دیتا ہے۔

اگر واقعی غیرت ہے تو سودی اکاؤنٹ بند کرو، عورت کو اس کا حق دو، رشوت نہ لو، جھوٹ نہ بولو، فحاشی کی حمایت بند کرو، مذہب کو دکان نہ بناؤ۔ ورنہ یاد رکھو: "جس قوم کا ضمیر مر جائے، وہ گوشت کے فرق سے نہیں، فہم کے فالج سے مرتی ہے۔"

لہٰذا ہمیں گدھے کے گوشت سے زیادہ، ضمیر کے گوشت پر شرم آنی چاہیے۔ 

چوہدری خلیق الزماں کی "شاہراہِ پاکستان": پاکستانی ریاست کے نظریاتی قتل کی دستاویزی تفصیلات


چوہدری خلیق الزماں کا شمار قائد اعظم محمد علی جنا ح کے نہایت قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ اپنے کالج کے زمانے سے ہی عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ 1946 کے الیکشن میں مرکزی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ ہجرت کر کے پاکستان تشریف لائے اور  مسلم لیگ  (پاکستان ) کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔  1961 میں ان کی شائع ہونے والی کتاب Pathway to Pakistan جس کا ترجمہ  "شاہراہِ پاکستان" کے نام سے ہوا پاکستان کی نظریاتی تاریخ کا وہ کرب ناک آئینہ ہے جسے سرکاری تاریخ نگاری نے دانستہ طور پر نظرانداز  کر کے کہیں دفن کر دیا ۔ محض تین سال بعد ہی خلیق الزماں نے اُس بنیادی غداری کی بے لاگ اور بے خوف تشریح پیش کی جو پاکستان کی بنیادی روح میں زہر گھولنے والی تھی۔ یہ کتاب کوئی سادہ سی سیاسی یادداشت نہیں بلکہ ریاستی جرم کی پہلی جامع اور مدلل دستاویز ہے جس میں یہ ثابت کیا گیا کہ پاکستان کی تحریکِ آزادی کے اصل مقاصد اور خوابوں کو تحریک پاکستان کے ہی نام نہاد "سپوتوں" نے پامال کیا۔ جیسا کہ کینیڈین مورخ ڈاکٹر عاصم جعفری نے اپنے تجزیے Overcoming the Religious-Secular Divide میں واضح کیا: "خلیق الزماں واحد مسلم لیگی رہنما تھے جنہوں نے قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی اُس نظریاتی ڈکٹیٹرشپ کی شناخت کر لی جس نے ریاست کو اپنے مخصوص مفادات کے لیے یرغمال بنانا تھا۔ ان کا یہ بصیرت افروز کام نہ صرف ماضی کا احتساب ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک خطرناک پیش گوئی بھی، جو بدقسمتی سے حرف بحرف پوری ہوئی۔"

خلیق الزماں کا سب سے بنیادی اور شدید الزام یہ تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح کے 11 اگست 1947 کے تاریخی خطاب — جس میں دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا گیا تھا کہ "مذہب کا ریاست کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہوگا" اور تمام شہریوں کو برابر حقوق دیے جانے کی بات کی گئی تھی — کو تحریک پاکستان کے نئے اشرافیہ نے جان بوجھ کر دفن کرنے کی مہم چلائی۔ ان کا استدلال تھا کہ پاکستان کا قیام برصغیر کے مسلمانوں کو ہندو بالادستی سے بچانے اور انہیں سیاسی، معاشی اور تہذیبی خودمختاری دلانے کے لیے تھا نہ کہ کسی "مذہبی ریاست" یا "اسلامی جمہوریہ" کے قیام کے لیے جیسا کہ بعد میں پیش کیا گیا۔ وہ قراردادِ لاہور 1940 کی اصل روح کی طرف لوٹتے ہیں جس میں واضح طور پر "خودمختار اکائیوں" (Sovereign Units) پر زور دیا گیا تھا اور مذہبی ریاست کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ مگر مارچ 1949 میں جب لیاقت علی خان کی حکومت نے قومی اسمبلی میں قراردادِ مقاصد منظور کی جس میں "اللہ کی حاکمیتِ اعلیٰ" جیسے مبہم مذہبی تصورات کو آئینی حیثیت دی گئی تو خلیق الزماں نے اسے کھلے الفاظ میں "نظریہ پاکستان کی اجتماعی بددیانتی" قرار دیا ۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ ایک چالاکی سے بھرا ہوا قدم تھا جو قائداعظم کے واضح سیکولر جمہوری وژن کو مسخ کرنے کے لیے اٹھایا گیا۔ برطانوی مورخ اور ساؤتھ ایشین اسٹڈیز کی  ماہر ڈاکٹر فرزانہ شیخ اپنی معتبر کتاب "میکنگ سینس آف پاکستان"  میں اس خیال کی تائید کرتے ہوئے لکھتی ہیں: "قراردادِ مقاصد درحقیقت جناح کے سیکولر وژن کے خلاف ایک منظم بغاوت تھی جسے مذہبی جماعتوں (خاص طور پر جماعت اسلامی) اور فوجی بیوروکریسی کے گٹھ جوڑ نے مل کر مسلط کیا"۔ یہ وہ نظریاتی موڑ تھا جہاں سے ریاست کا مذہبی تشخص مسلط کرنے اور سیکولر قوتوں کو دھکیلنے کا باقاعدہ عمل شروع ہوا۔

خلیق الزماں نے اپنی کتاب میں 1961 میں ہی وہ المناک پیش گوئی کر دی تھی جو دو دہائی بعد حقیقت بن کر سامنے آئی۔ انہوں نے صفحہ نمبر 178 پہ لکھا : "مغربی پاکستان کی نوآبادیاتی ذہنیت اور استحصالی رویہ مشرقی بنگال کو علیحدگی پر مجبور کر دے گا"۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کے خلاف پنپنے والے گہرے نسلی تعصب اور منظم معاشی استحصال کو پاکستان کی پہلی نظریاتی موت قرار دیا۔ وہ صرف جذباتی نہیں بلکہ ٹھوس اعداد و شمار کے ساتھ اس استحصال کو بے نقاب کرتے ہیں۔ وہ دکھاتے ہیں کہ 1947 سے 1950 کے مختصر عرصے میں مشرقی پاکستان (جوپٹ سن  ، چائے اور کھجور کی پیداوار میں خودکفیل تھا) سے حاصل ہونے والی دولت کا بھرپور استحصال کیا گیا۔ ان کے مطابق: "1947-1950 کے دوران مشرقی پاکستان سے پیدا ہونے والی آمدنی کا 78% حصہ مغربی پاکستان کی ترقی پر خرچ کیا گیا"۔ڈاکٹر حسن ظہیر نے اپنی کتاب" پاکستان کی معاشی ناانسافیاں" میں لکھا کہ سیاسی ناانصافی بھی اتنی ہی صریح تھی کہ "مرکزی کابینہ میں مشرقی پاکستانی وزراء کی شرح 1950 تک گر کر محض 18% رہ گئی، حالانکہ وہ ملک کی کل آبادی کا 56% تھے"۔ خلیق الزماں اس منظم لوٹ کھسوٹ کو "نظریہ پاکستان کی اجتماعی چوری" کا نام دیتے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ صرف معاشی استحصال نہیں بلکہ تحریک پاکستان کے بنیادی اصولوں — یعنی مسلمانوں کی برابری اور باہمی احترام — کی صریح خلاف ورزی اور نظریے سے غداری تھی۔ بنگالی مورخ ڈاکٹر افضل حسین اپنی کتاب "دی بیٹرائڈ آف ایسٹ پاکستان" میں لکھتے ہیں: "خلیق الزماں واحد مغربی پاکستانی رہنما تھے جنہوں نے بنگالیوں کے ساتھ ہونے والے اس ظالمانہ استحصال کو صرف ناانصافی نہیں بلکہ نظریہ پاکستان کے خلاف ایک سنگین جرم قرار دیا"۔ ان کا یہ موقف مشرقی پاکستان کے حوالے سے ایک تنہا اور بہادر آواز تھی۔

کتاب کا سب سے قابل غور اور توجہ طلب حصہ وہ ہے جہاں خلیق الزماں مولانا مودودی اور ان کی جماعتِ اسلامی پر براہِ راست اور سخت ترین حملے کرتے ہیں۔ وہ تاریخی دستاویزات کے حوالے سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ جماعتِ اسلامی نہ صرف تحریک پاکستان کی مخالف تھی بلکہ اس کی تخریب میں سرگرم رہی۔ وہ صفحہ 192پہ  تفصیل سے بتاتے ہیں: "1946 کے اہم انتخابات میں جب مسلم لیگ کو متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ثابت کرنا ضروری تھا جماعتِ اسلامی نے مسلم لیگ کے 80% سے زائد امیدواروں کے خلاف کھلم کھلا فتوے جاری کیے تھے انہیں کافر، غاصب اور اسلام دشمن قرار دیا تھا"۔ مزید برآں وہ مولانا مودودی کے اپنے ہی رسالے "ترجمان القرآن" کے جون 1947 کے ایڈیشن کا حوالہ دیتے ہیں جس میں مودودی نے لکھا تھا: "پاکستان اسلام کے لیے زہرِ قاتل ہے"۔ خلیق الزماں پوچھتے ہیں کہ جن لوگوں نے پاکستان کو "زہر قاتل" اور اس کی تحریک کو "کفر" قرار دیا انہیں قیام پاکستان کے محض دو سال بعد ہی قراردادِ مقاصد جیسے اہم دستاویز کی تشکیل میں اتنا اثرورسوخ کیسے مل گیا؟ ان کا مؤقف تھا کہ وزیراعظم لیاقت علی خان نے جماعتِ اسلامی اور دیگر مذہبی پریشر گروپس کے خوف یا مفادات کے تحت یہ قدم اٹھایا۔ خلیق الزماں اس پورے عمل کو کھلی "تاریخی ریشہ دوانی" قرار دیتے ہیں۔ معروف پاکستانی دانشور اور تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی اپنی کتاب "پاکستان: کھویا ہوا نظریہ"  میں اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "قراردادِ مقاصد کی منظوری درحقیقت اُن قوتوں کی فتح تھی جنہوں نے پاکستان بننے سے پہلے اس کی مخالفت کی تھی اور اسے غیر اسلامی قرار دیا تھا۔ یہ نظریہ پاکستان پر ان قوتوں کا قبضہ تھا"۔ خلیق الزماں کے نزدیک یہ نظریاتی غداری کا سب سے بڑا مظہر تھا کہ تحریک کے دشمنوں نے اس کے مرکز پر قبضہ کر لیا۔

خلیق الزماں کے نزدیک پاکستان کی اصل روح اور بقا کا راز وفاقی مساوات اور صوبائی خودمختاری میں پوشیدہ تھا۔ وہ بار بار 1940 کی قراردادِ لاہور کی طرف لوٹتے ہیں جس میں "آزاد اور خودمختار ریاستوں" (Independent States) یا "خودمختار اکائیوں" (Sovereign Units) کے تصور کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ ان کا استدلال تھا کہ مسلم اکثریتی علاقوں کی باہمی رضامندی اور مساوی شراکت پر مبنی وفاق ہی پاکستان کا جواز تھا۔ مگر قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی اس وفاقی ڈھانچے کو تباہ کرنے کا عمل شروع ہو گیا۔ خلیق الزماں اس عمل کی تفصیل دیتے ہیں: "1950 تک ہی صوبائی خودمختاری عملاً ختم کر دی گئی۔ منتخب صوبائی حکومتوں کو کمزور کر کے مرکزی حکومت کے وفادار  گورنروں کو اصل طاقت دے دی گئی۔ انہیں مرکز کا کٹھ پتلی بنا دیا گیا"۔ اس سے بھی بڑھ کر، وہ اس خوفناک منصوبے کی نشاندہی کرتے ہیں جو اس وقت زیرِ غور تھا: "مغربی پاکستان کے تمام صوبوں اور علاقوں کو زبردستی 'ون یونٹ' میں ضم کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا تھا تاکہ مشرقی پاکستان کی آبادی کی اکثریت کو سیاسی طور پر بے اثر بنایا جا سکے"۔ خلیق الزماں اس یکطرفہ، غیر جمہوری اور جابرانہ عمل کو "نظریاتی ڈکیتی" سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ یہ عمل نہ صرف قراردادِ لاہور کے منافی تھا بلکہ پاکستان کے وجود کو ہی خطرے میں ڈالنے والا تھا۔ امریکی پروفیسر اور وفاقیت کے ماہر راجر ڈی لانگ اپنی تحقیق " State and Nation‑Building in Pakistan: Beyond Islam and Security"  میں اس بات کی تائید کرتے ہیں: "پاکستان نے اپنے قیام کے پہلے دہائی میں ہی وفاقی اصولوں کو مسخ کر دیا اور صوبائی خودمختاری کو کچل دیا، جو درحقیقت نظریہ پاکستان کی پہلی اور بنیادی موت تھی۔ اس نے مرکزیت اور آمریت کی راہ ہموار کی" ۔ خلیق الزماں کے نزدیک یہ وفاقیت کا قتل ہی تھا جس نے ملک کو ٹوٹنے اور آمریت کے راستے پر ڈال دیا۔

اس سب نظریاتی غداری، استحصال اور مرکزیت کے خلاف آواز اٹھانے کے نتیجے میں خلیق الزماں کو شدید تنہائی اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر 15 جنوری 1951 کو انہوں نے مسلم لیگ کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ محض ایک عہدے سے دستبرداری نہیں بلکہ نظریہ پاکستان سے مایوسی کا اعلان تھا۔ ان کے استعفیٰ کے تاریخی خط (جو پاکستان کے قومی دستاویزات، اسلام آباد میں محفوظ ہے، دستاویز نمبر PAK-1951-089) میں لکھے گئے الفاظ آج بھی دردناک صداقت رکھتے ہیں: "پاکستان وہ ملک نہیں رہا جس کے لیے میں نے اور میرے ساتھیوں نے جدوجہد کی۔ تحریک پاکستان کا اصل نظریہ اور مقصد سیاستدانوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے یرغمال بنا لیا ہے۔ فوج نے اسے اپنی بالادستی قائم رکھنے اور توسیع پسندانہ عزائم کے لیے محض ایک ڈھال بنا دیا ہے۔ مذہبی جماعتوں نے اسے اپنی دکان اور اثر و رسوخ بڑھانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ میں ایک ایسی جماعت کی صدارت نہیں کر سکتا جو اپنے بنیادی اصولوں سے منہ موڑ چکی ہے"۔ اس استعفیٰ کے بعد انہیں شدید سیاسی بے خبری اور نظراندازی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی تنقیدی آواز کو دبا دیا گیا۔ 1958 میں جب جنرل ایوب خان نے ملک کا پہلا مارشل لاء نافذ کیا تو خلیق الزماں نے 25 اکتوبر 1958 کو روزنامہ جنگ کو دئیے گئے انٹرویو میں اسے "نظریہ پاکستان کی آخری رسومات" قرار دیا ۔ یہ وہ المیہ تھا جس کی انہوں نے اپنی کتاب میں واضح پیش گوئی کی تھی۔ ان کی تنہائی دراصل اس نظام کی اخلاقی شکست تھی جس نے صداقت گو کو جگہ دینے کے بجائے نکال باہر کیا۔

خلیق الزماں کی کتاب کی سب سے خوفناک اور قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ان کی تمام بنیادی پیش گوئیاں اور تنقیدی تجزیے بعد کے برسوں میں حرف بحرف پوری ہوئیں جو ان کی بصیرت اور تجزیاتی صلاحیت کی گواہی دیتے ہیں۔ انہوں نے جن خدشات کا اظہار 1950 میں کیا تھا وہ پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر المناک سچائیوں کی صورت میں ابھرے:

سب سے پہلے1958 کا مارشل لاءجس کے بارے خلیق الزماں نے واضح کیا تھا کہ مرکزیت اور فوج کی بڑھتی ہوئی مداخلت جمہوریت کے خاتمے کا باعث بنے گی۔ ایوب خان کی فوجی آمریت نے اس پیش گوئی کو سچ ثابت کیا جسے انہوں نے "جمہوریت کا سرعام قتل" قرار دیا تھا۔

دوسرے نمبر پہ 1965 کی جنگ جس کے بارے  انہوں نے خبردار کیا تھا کہ "فوجی حکومت قومی وقار کو جنگی جنون میں تبدیل کر دے گی اور عوام کو غیر ضروری جانی نقصان اور معاشی تباہی کی بھینٹ چڑھائے گی"۔ 1965 کی جنگ، جس کا فیصلہ کن کوئی نتیجہ نہ نکلا مگر جس نے معیشت کو تباہ کر دیا اور مشرقی پاکستان میں احساسِ محرومی کو ہوا دی ان کے الفاظ کی تصدیق تھی۔

تیسرے نمبر پہ 1971 کا سقوطِ مشرقی پاکستان وہ المیہ تھا جسے خلیق الزماں نے 1950 میں ہی "مغربی پاکستان کی نوآبادیاتی ذہنیت کا ناگزیر نتیجہ" قرار دے دیا تھا ۔ مشرقی پاکستان میں معاشی استحصال، سیاسی محرومی اور فوجی جبر کے بارے میں ان کی تفصیلات 1971 کی علیحدگی کی بنیادی وجوہات تھیں۔

چوتھے نمبر پہ 1973 کے آئین میں مذہبی شقوں کے نفاذکے بارے خلیق الزماں نے 1950 میں ہی قراردادِ مقاصد کے ذریعے مذہب کو ریاستی معاملات میں شامل کرنے کے خطرات سے آگاہ کیا تھا۔ 1973 کے آئین میں مذہب کو مرکزی حیثیت دینا، خاص طور پر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے جیسے اقدامات (جس نے اقلیتوں کے خلاف قانونی امتیاز کو ہوا دی)، ان کے خدشات کی تکمیل تھی۔

یہ پیش گوئیاں محض اتفاق نہیں تھیں بلکہ اس گہری سمجھ بوجھ کی عکاس تھیں جو خلیق الزماں کو ریاستی ڈھانچے، اس کے تضادات اور حکمران اشرافیہ کے حقیقی عزائم کے بارے میں حاصل تھی۔ جیسا کہ فرانسیسی مورخ کرسٹوف جعفریلوٹ اپنی شہرہ آفاق کتاب "دی پاکستان پیراڈوکس: انسٹیبلٹی اینڈ ریزیلینس" میں لکھتے ہیں: "خلیق الزماں کی 'شاہراہِ پاکستان' درحقیقت پاکستان کے نظریاتی سفر کا ایک متبادل نقشہ ہے جس نے ریاست کے رسمی بیانیے کے برعکس اس کے اندر پنپنے والے تضادات اور خود تخریبی کے بیج کو بے نقاب کیا۔ ان کی پیش گوئیوں کی درستگی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پاکستان کے اصل بحران کو گہرائی سے سمجھتے تھے"۔

آج جب پاکستان گہرے شناختی بحران، دہشت گردی کی لپیٹ، انتہا پسندی، شدید معاشی بدحالی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے تو خلیق الزماں کی 73 سال پرانی کتاب ایک زندہ اور تیز دھار تنقیدی ہتھیار بن کر ابھرتی ہے۔ موجودہ بحرانوں کی جڑیں انہوں نے اپنی کتاب میں 1950 میں ہی واضح کر دی تھیں۔ آج کے پاکستان کے اہم مسائل کا تجزیہ خلیق الزماں کے بیانیے کی روشنی میں کریں تو تصویر مکمل ہو جاتی ہے:

سب سے پہلے  خلیق الزماں نے خبردار کیا تھا کہ مذہب کو ریاستی معاملات میں شامل کرنا انتہا پسندی اور فرقہ واریت کو فروغ دے گا۔ آج پاکستان میں 30,000 سے زائد رجسٹرڈ اور تخمیناً 35,000 غیر رجسٹرڈ ملا کر کل 65,000 سے زائد مذہبی مدرسے موجود ہیں (پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) کی 2023 کی رپورٹ)۔ ان مدرسوں کے نصاب میں اکثر وہی تنگ نظری اور دوسروں کے خلاف منفی رویہ شامل ہے جس کی خلیق الزماں نے مخالفت کی تھی اور جسے انہوں نے نظریہ پاکستان کے لیے زہر قرار دیا تھا۔

دوسرے نمبر پہ خلیق الزماں نے وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے اور صوبوں کے حقوق سلب کرنے کو قومی وحدت کے لیے زہر قرار دیا تھا۔ آج بھی صوبائی ناانصافیاں شدید تنازعات کا باعث ہیں۔ 2023-24 کے وفاقی بجٹ میں بلوچستان کو ملک کا سب سے کم (5.2%) حصہ ملا، حالانکہ وہ ملک کے کل رقبے کا 43% ہے (پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ)۔ سندھ اور خیبر پختونخواہ میں بھی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے شدید شکایات موجود ہیں، جو خلیق الزماں کے وفاقی خدشات کی تصدیق کرتی ہیں۔

تیسرے نمبر پہ خلیق الزماں نے سب سے پہلے فوج کے سیاسی کردار کو نظریہ پاکستان کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ تاریخ نے انہیں سچ ثابت کیا۔ 1947 سے لے کر اب تک پاکستان کے 76 سالہ وجود میں سے 33 سال براہِ راست فوجی آمریتوں کے تحت گزرے ہیں (سنٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (CRSS)، اسلام آباد کی 2023 کی رپورٹ "ملٹری رول ان پاکستان: اے ٹائم لائن")۔ یہ دنیا میں فوجی حکومتوں کے تحت گزارے گئے سب سے طویل عرصوں میں سے ایک ہے۔ اس نے جمہوری تسلسل کو توڑا اور اداروں کی مضبوطی کو روکا۔

"شاہراہِ پاکستان" کوئی عام سیاسی یادداشت یا تاریخی واقعات کا مجموعہ نہیں۔ یہ ایک ریاستی جرم، نظریاتی غداری اور جمہوری خوابوں کے قتل کی تفصیلی، مدلل اور پیشگی رپورٹ ہے۔ خلیق الزماں نے جو کچھ 1950 میں لکھا وہ آج پاکستان کا روزمرہ کا المیہ اور بحران بن چکا ہے۔ ان کا اصل پیغام، جو کتاب کے آخری صفحات میں واضح ہوتا ہے، انتہائی سادہ مگر گہرا ہے:

 "پاکستان کا نظریہ کوئی مذہبی آمریت یا پاپائیت (Theocracy) قائم کرنا نہیں تھا۔ یہ برصغیر کے مسلمانوں کو ہندو سیاسی و ثقافتی بالادستی سے نجات دلانے اور انہیں ایک جدید، جمہوری، منصفانہ اور ترقی پسند معاشرے میں آزادانہ طور پر جینے کا موقع فراہم کرنے کا منصوبہ تھا۔ جب اس منصوبے کو مذہب کے نام پر چند گروہوں کی مفاد پرستی، فوجی بالادستی اور مرکزیت کے لیے یرغمال بنا لیا گیا تو نظریہ مر گیا۔ پاکستان کا موجودہ بحران نظریے کا بحران نہیں ہے یہ ان نظریاتی قاتلوں کا بحران ہے جنہوں نے اسے اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا اور پھینک دیا"۔

 یہ پیغام آج بھی اسی شدت سے گونجتا ہے۔ جیسا کہ نوبل انعام یافتہ امریکی مورخ ایرک ہابسبام نے اپنے مضمون میں لکھا: "خلیق الزماں جیسے نظرانداز کردہ راہنماؤں کی تحریریں، جو سرکاری تاریخ سے خارج کر دی جاتی ہیں درحقیقت قوموں کے اخلاقی ضمیر کی آواز ہوتی ہیں۔ یہ آواز دبائی جا سکتی ہے، مگر ختم نہیں کی جا سکتی اور ایک دن قوم کو اس کا حساب دینا پڑتا ہے"۔

 پاکستان کو اپنے وجود کی بقا، اپنے شہریوں کی فلاح اور خطے میں باعزت مقام حاصل کرنے کے لیے اس اخلاقی ضمیر کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔ "شاہراہِ پاکستان" اس ضمیر کو جگانے کا ایک طاقتور اور لازوال ہتھیار ہے۔ اسے پڑھنا، سمجھنا اور اس کی روشنی میں پاکستان کی اصل نظریاتی بنیادوں کی طرف لوٹنے کی کوشش کرنا ہی ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کی پہلی شرط ہے۔ خلیق الزماں کا سچ، اگرچہ کڑوا ہے، مگر شفا بخش ہے۔

Friday, 25 July 2025

تحریکیں ناکام کیوں ہوتی ہیں ؟ امام حسین ؑ کے پوتے امام زید ؑ کے ساتھ اہل کوفہ کی بے وفائی کی داستاں

 نوٹ: یہ تحریر پہلی بار 30 جولائی 2024 کو فیس بک پیج کے لیے لکھی گئی تھی  یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کی جا رہی ہے ۔۔ 

تحریکیں ناکام کیوں ہوتیں ہیں؟ یہ سوال تاریخ کی ہر کتاب پڑھنے سے قبل میرے ذہن میں ہوتا ہے ۔ ایک حساب سے میں تاریخ کی کوئی بھی کتاب اسی سوال کی کھوج میں پڑھتا ہوں ۔ خلفائے راشدین میں حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم واحد خلیفہ ہیں جن کی خلافت قائم ہی نہیں ہو سکی۔ آپ کو بیشتر وقت میدان جنگ میں گزارنا پڑا ۔ آپ نے اپنا دارلحکومت کوفہ میں منتقل کیا لیکن آپ کی افواج میں ڈسپلن کی شدید کمی تھی۔ افواج نے خلیفہ راشد پہ عدم اعتماد کا کئی بار اظہار کیا۔ دوران جنگ آپ کی نافرمانی کی۔ آپ کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ اسی کھینچا تانی میں آپ اپنے ہی منحرف ہوئے ہمنواوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے ۔

امام حسن علیہ السلام نے اپنے والد بزگوار کے حالات کا بڑی بریک بینی سے مشاہد کیا تھا اور اہل کوفہ کو آپ قابل اعتبار نہ سمجھتے ہوئے خلافت سے دستبردار ہو گئے اس پہ اہل کوفہ نے آپ کو مومنین کے لیے ذلت کا باعث قرار دیا آپ پہ حملہ بھی کیا جس میں آپ زخمی ہوئے لیکن آپ نے بار خلافت کو اٹھانے سے انکار کر دیا۔

اہل کوفہ نے نے تیسرے درجے میں امام حسین ؑ کے گرد اپنی سازشوں کے جال بننا شروع کر دیے اور آپ کو اپنے دام فریب میں لانے میں کامیاب بھی ہوئے ۔ آپ کو اپنی جھوٹی محبت کا دعوت نامہ بھیجا اور عین وقت پہ آپ کو تنہا چھوڑ دیا ۔

امام حسین ؑ کی شہادت کے بعد بنو امیہ کے خلاف کئی تحرکیں اٹھیں جن میں بیشتر ناکام ہوئیں ان کی ناکامی کی وجہ ان تحریکوں کا مرکز کوفہ ہونا ہے۔ جیسے ہی تحریک کا مرکز کوفہ سے ہٹا تحریک کامیاب ہونے لگی۔ اہل کوفہ نے خانوادہ رسالت پہ خوب آنکھ رکھی ہوئی تھی ۔ امام حسین ؑ کے پوتے ، امام زین العابدین ؑکے بیٹے اور امام محمد باقر ؑ کے بھائی امام زید بن زین العابدین اہل کوفہ کا اگلا شکار تھے۔ آپ کی شہادت نے ایک بار پھر کربلا میں ہونے والی بربریت کواس سے بھی آگے بڑھ کر دہرایا۔

تین صفر المظفر روزِ حضرت زید کا یوم شہادت ہے ۔ آپ نے بھی قیام کیا تھا۔ آپ کے پیروکار زیدیہ کہلاتے ہیں جبکہ آپ کی نسل سے زیدی سادات ہیں، یمن میں بھی آپ کے لاکھوں پیروکار ہیں۔ یزید کے بعد ہشام بن عبد الملک نے آل رسول ﷺ پر بہت ظلم کیا تو حضرت زید نے قیام کا اعلان کیا، حضرت زید شہید نے جب قیام کرنا چاہا تو کوفہ میں آپ کے شاگردوں نے عرض کی کہ کوفہ میں آپ کے دادا کے نام لیوا بھی ہزاروں تھے

مسعودی نے "مروج الذہب" میں ذکر کیا گیا ہے۔ جب زید نے خروج کا ارادہ کیا تو آپ نے اپنے بھائی امام محمد باقر (ع) سے مشورہ کیا۔ حضرت نے فرمایا: اہل کوفہ پر اعتماد نہ کرنا کیونکہ یہ لوگ دھوکہ اور مکار والے لوگ ہیں۔ اور کوفہ ہی میں آپ کے جد امیرالمومنین (ع) شہید ہوئے ہیں اور آپ کے چچا حسن بن علی (ع) کو زخمی کیا گیا ہے اور آپ کے جد حسین بن علی (ع) شہید ہوئے ہیں۔ کوفہ میں ہمارے اہلبیت پر سب و شتم کیا گیا ہے۔ اس کے بعد زید کو بنی مروان کی حکومت اور اس کے بعد بنی عباس کی حکومت سے باخبر کیا۔

خلاصہ جناب زید نے قیام کردیا لیکن قیام کا نتیجہ وہی ہوا جو امام باقرؑ نے بتایا تھا کیونکہ جناب زید کے اصحاب جنگ کے شعلے بھڑکنے کے بعد بیعت توڑ کر فرار کرگئے۔ ۔ لیکن قیامِ وقت ان کی تعداد کم ہوگئی تھی۔ آپ کے ساتھ قیام کرنے والوں نے آپ سے شیخین (ابو بکر الصدیق، عمر الفاروق) سے بیزاری کا مطالبہ کیا لیکن آپ نے خاموشی اختیار کی یوں آپ کا لشکر کم ہوکر رہ گیا۔

اور زید کے ساتھ مختصر لوگ رہ گئے اور آپ دشوارترین مسلسل جنگ کرتے رہی یہاں تک کہ رات ہوگئی۔ لشکر جنگ سے فرار کرگیا، زید کافی زخمی ہوگئے اور آپ کی پیشانی پر بھی تیر لگا ہواتھا۔ کوفہ کے کسی دیہات سے تیر نکالنے کے لئے حجام کو بلایا گیا۔ جیسے ہی حجام نے پیشانی سے تیر نکالا زید دار فانی کو وداع کہہ دیا۔ پھر لوگوں نے آپ کا جنازہ اٹھا کر پانی کی نہر میں دفن کردیا اور آپ کی قبر مٹی اور گھاس پھوس سے بھر دی اور پانی اس کے اوپر سے جاری ہوگیا اور اس حجام سے بھی معاہدہ کرایا کہ وہ اس بات کو آشکار نہ کرے۔

لیکن افسوس، جب صبح ہوئی تو حجام گورنر کوفہ یوسف بن عمر کے پاس گیا اور اسے زید کی قبر کا پتہ بتادیا۔ یوسف نے جناب زید کی قبر کھولیاور آپ کا جسد مبارک نکالا اور آپ کے سر کو تن سے جدا کیا اور جدا کرکے ہشام کے پاس بھیج دیا۔ ہشام نے لکھا کہ اسے برہنہ کرکے دار پر لٹکادیا جائے۔ یوسف نے انھیں کوفہ کے کوڑا پھینکنے کی جگہ پر دار پر لٹکادیا۔ کچھ مدت بعد، ہشام نے یوسف کو لکھا کہ ان کے جنازہ کو جلادو اور اس کی راکھ ہوا میں اڑادو۔ ابوالفرج کی روایت کے مطابق جناب ولید بن یزید کی خلافت کے ایام تک زید اسی طرح دار پر لٹکے رہے۔ چار سال تک آپ کا جنازہ دار پر لٹکارہا۔

کوئی بھی تحریک اس وقت ناکام ہوتی ہے جب اس تحریک کے حق میں اٹھنے والی آواز کی حمایت کا دعویٰ کرنے والے لوگ اہل کوفہ کی فطرت کے مالک ہوتے ہیں ۔ حضرت علی ؑ ، امام حسین ؑ او ر امام زید بن امام زین العابدین ؑ نے اہل کوفہ پہ اعتماد کرکے تحریک کو کامیاب کرنے کی کوشش کی لیکن اہل کوفہ ہمیشہ اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور نظر آئے۔ جو زبانی جمع خرچ کے اعتبار سے تو بلند و بانگ دعویٰ کرتے لیکن عمل کے وقت دھوکہ دے کر پیچھے ہٹ جاتے۔

Thursday, 24 July 2025

امام زین العابدینؑ: کربلا کے بعد اسلامی شعور کی نئی تشکیل

کربلا کا واقعہ ایک ایسا تاریخی لمحہ ہے جس نے اسلامی شعور کو ایک نئی سمت دی۔ اگر امام حسینؑ نے اپنی قربانی سے ظلم کے خلاف قیام کا عملی مظاہرہ کیا تو امام زین العابدینؑ نے اسی پیغام کو نئی نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے ایک غیر عسکری، مگر نہایت مؤثر فکری اور روحانی حکمتِ عملی اختیار کی۔ ان کا کردار اہل بیتؑ کے اس رویّے کی نمائندگی کرتا ہے جس میں مزاحمت کا مرکز تلوار کے بجائے دعا، علم، اور تربیت بن گیا۔ یہی انداز اُن کے عہد میں مزاحمت کی ایک نئی شکل کے طور پر ابھرا۔

مزاحمت کو صرف تلوار یا سیاسی بغاوت کی شکل میں دیکھنا ایک محدود تصور ہے۔ سماجی مفکرین جیسے ایمیل ڈرک ہائم نےCultural Resistance  "ثقافتی مزاحمت" کو ایک اہم جہت کے طور پر پیش کیا ہے—ایسی مزاحمت جو دعا، طرزِ زندگی، اور تعلیم کے ذریعے ظالم نظام کو چیلنج کرے۔ امام زین العابدینؑ نے بھی اسی طریق کو اپنایا۔ یزید کی خلافت کے گمراہ کن بیانیے(State Narrative)  کو چیلنج کرنے کے لیے انہوں نے عوام کی فکری اور روحانی تربیت کو ہتھیار بنایا اور سماج میں ایک تدریجی مگر پائیدار شعور اجاگر کیا۔

شام کے دربار میں امامؑ کا خطبہ محض ایک احتجاج نہیں بلکہ ایک فکری اور سیاسی مزاحمت کی علامت تھا۔ مؤرخین ابن اثیر اور ابن قتیبہ کے مطابق، امامؑ نے نہایت جرات مندانہ انداز میں اہل بیتؑ کی فضیلت اور یزیدی ظلم کو بے نقاب کیا۔ ان کے الفاظ جذباتی ردعمل سے بالا تر ایک منظم فکری چیلنج تھے جو خلافت کے اخلاقی اور تاریخی جواز کو متزلزل کرنے کے لیے استعمال ہوئے۔ اس خطبے نے ظلم کے ایوانوں میں ایک فکری زلزلہ پیدا کیا۔

امام زین العابدینؑ کی ایک اور انقلابی کاوش "صحیفہ سجادیہ" ہے۔ جسے محض دعاؤں کا مجموعہ سمجھنا اس کے فکری پہلو سے غفلت برتنا ہوگا۔ یہ صحیفہ درحقیقت ایک ایسے معاشرے کا خاکہ پیش کرتا ہے جو عدل، شعور، اور انسانی اقدار پر قائم ہو۔ دعا نمبر 27 میں مظلوموں کی حمایت اور ظالموں کی ہلاکت کی دعا، دعا نمبر 20 میں حکمرانوں کے لیے عدل و تقویٰ کی درخواست، اور دعا نمبر 45 میں دینی اجتماعیت اور شعور کی بیداری کو مرکزیت حاصل ہے۔ ڈاکٹر علی شریعتی نے بجا طور پر اسے "دعاؤں میں چھپی ہوئی ایک سیاسی و سماجی بغاوت" قرار دیا ہے۔

رسالۃ الحقوق امام زین العابدینؑ کی علمی و فکری میراث کا ایک اور عظیم مظہر ہے۔ اس میں تقریباً پچاس سے زائد حقوق کی تفصیل موجود ہے جو انسان کی ذاتی، خاندانی، معاشرتی، اور سیاسی ذمہ داریوں کو واضح کرتی ہے۔ امامؑ کا تصورِ حق صرف مادی مفاد پر نہیں بلکہ اخلاقی و الٰہی اصولوں پر مبنی ہے۔ اس میں خدا کا حق سب سے مقدم ہے، جس کے بعد نفس کا حق اور پھر معاشرتی تعلقات کے حقوق آتے ہیں۔ ڈاکٹر حمید دباشی کے مطابق، رسالۃ الحقوق دراصل اخلاق، سماج، اور سیاسی مزاحمت کا ایک سہ جہتی فکری نمونہ ہے جو یزیدی جبر کے خلاف ایک خاموش مگر شدید فکری بغاوت ہے۔

کربلا کے بعد امام زین العابدینؑ نے مدینہ میں ایک خاموش مگر پائیدار علمی تحریک کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے غلاموں، بچوں، اور نوجوانوں کو تعلیم دی، دعائیں سکھائیں اور قرآن کی اخلاقی تعلیمات کو عام کیا۔ یہ علمی جدوجہد بعد میں امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ کے ہاتھوں اسلامی علوم کے باقاعدہ اداروں میں تبدیل ہوئی۔ یہ دراصل وہ "اداراتی مزاحمت" تھی جس کا ذکر ایڈورڈ سعید نے کیا ہے—کہ تعلیم اور ثقافت کے ذریعے ظالم بیانیے کو شکست دی جا سکتی ہے۔

امام زین العابدینؑ کی اس پرامن مزاحمت کو اگر ہم جدید تاریخ کے پرامن رہنماؤں کی تحریکوں سے جوڑیں، تو حیرت انگیز مشابہت سامنے آتی ہے۔ مثال کے طور پر مہاتما گاندھی نے برطانوی استعمار کے خلاف "عدم تشدد" کی حکمتِ عملی اپنائی جس میں روحانیت، اخلاقیات اور تعلیم کو تحریک کا مرکز بنایا گیا۔ گاندھی کی "ستیہ گرہ" بھی ایک قسم کی اخلاقی مزاحمت تھی جس نے بغیر بندوق اٹھائے استعمار کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ اسی طرح مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف پرامن مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ ان کی تحریک کا مرکز بھی "moral appeal" تھا نہ کہ تشدد، اور ان کے خطابات، جیسے "I Have a Dream"، ایک فکری اور اخلاقی بیداری کے نمائندہ بن گئے۔ نیلسن منڈیلا کی ابتدائی جدوجہد بھی پرامن مزاحمت کے اصولوں پر مبنی تھی، جس میں ظلم کے خلاف اخلاقی برتری کو ہتھیار بنایا گیا۔ ان تمام شخصیات نے امام زین العابدینؑ کی اس سنت کو دہرا کر دکھایا کہ اصل تبدیلی دلوں اور ذہنوں کو متاثر کرنے سے آتی ہے، نہ کہ صرف طاقت کے مظاہرے سے۔

آج کے جدید دور میں جب آمریت مذہب کو اپنے اقتدار کے جواز کے طور پر استعمال کرتی ہے، اور روحانیت کو محض ذاتی سطح پر محدود کیا جا رہا ہے، امام زین العابدینؑ کی تعلیمات ایک بار پھر معنویت حاصل کر رہی ہیں۔ ان کی دعائیں روحانی شعور کی بیداری کا ذریعہ ہیں، ان کا تصورِ حقوق انسانی وقار کی بنیاد ہے، اور ان کی مزاحمت ظالم نظاموں کے خلاف اخلاقی چیلنج کی صورت اختیار کرتی ہے۔ ان کی فکر موجودہ دنیا کے لیے نہایت اہم اور قابلِ عمل پیغام رکھتی ہے۔

امام زین العابدینؑ کی مزاحمت درحقیقت ایک خاموش مگر مربوط فکری و روحانی انقلابی حکمتِ عملی تھی۔ ان کا کردار ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مزاحمت صرف نعرے یا جنگ نہیں بلکہ دلوں، ذہنوں اور روحوں کو فتح کرنے کا عمل بھی ہو سکتی ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو آج بھی ظلم، جبر اور آمریت کے خلاف ایک عالمی ضمیر کی حیثیت رکھتا ہے، اور جسے دنیا کی پرامن انقلابی تحریکوں نے اپنے اپنے وقت میں اپنی تاریخ میں ضم کر کے مؤثر تبدیلیوں کو ممکن بنایا۔

 

Wednesday, 23 July 2025

جھوٹ، نصاب اور قائداعظم: بچوں کو نفرت سکھانے والی ریاست

 

ہم ایک ایسے ملک میں سانس لے رہے ہیں جہاں سچ سے زیادہ خطرناک چیز کوئی نہیں۔ سچ کہو تو غدار، سچ لکھو تو ایجنٹ، سچ پڑھاؤ تو نصاب کے خلاف۔ لیکن شاید سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ہمارے بچوں کو جھوٹ سکھایا جا رہا ہے، اور وہ بھی ریاستی سرپرستی میں۔

حال ہی میں پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی بارہویں جماعت کی "سوکس" کی کتاب میں ایک ایسا اقتباس سامنے آیا جو بظاہر قائداعظم محمد علی جناح کے نام سے منسوب ہے۔ صفحہ نمبر 4 پر ایک پیراگراف میں جناح سے منسوب درج ہے:

"ہندوؤں! تمھاری تعداد زیادہ ہوا کرے، تم ترقی یافتہ ہو، تمھاری معیشت مستحکم سہی اور تم سمجھتے ہو کہ سروں کی گنتی سے آخری فیصلے ہوتے ہیں۔ یہ سب غلط ہے..میں تمہیں بتا دوں کہ تم ہماری روح کو تباہی نہیں کر سکتے۔تم اس تہذیب کو نہیں مٹا سکتے جو ہمیں ورثے میں ملی ہے۔ ہمارا ایمان زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ بے شک تم ہمیں مغلوب کرو ہم پر ستم ڈھاو، بدترین سلوک روا رکھو لیکن ہم نے پختہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر مرنا ہے تو لڑتے لڑتے مریں گے۔"

یہ ایک سخت، جذباتی اور جارحانہ اقتباس ہے، جسے پڑھ کر کسی طالبعلم کے ذہن میں ایک ہی تصور ابھرتا ہے: "ہندو دشمنی۔" لیکن سوال یہ ہے: کیا واقعی یہ الفاظ محمد علی جناح کے ہیں؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہم نے جناح کے تمام دستیاب تقاریر اور تحریری مجموعوں کا جائزہ لیا:

1. Speeches and Statements of Quaid-i-Azam Muhammad Ali Jinnah (1947-48) از جمیل الدین احمد

2. Jinnah: Speeches and Writings 1912–1947 از شائستہ اکرام اللہ

3. Quaid-i-Azam Papers Project (National Archives of Pakistan)

ان تمام مستند ذرائع میں یہ اقتباس کہیں موجود نہیں۔ نہ اس کی کوئی تاریخ، نہ مقام، نہ اخباری ریکارڈ، نہ کوئی حوالہ۔ یہ خالصتاً ایک تخلیق کردہ پیراگراف ہے جو جناح کے نام پر مسلط کیا گیا ہے۔

پھر کتاب کے مصنفین میں جن لوگوں کے نام لکھے ہیں ان میں پروفیسر رحمان اللہ چوہدری ، پروفیسر محمد فاروق ملک، پروفیسر آفتاب احمد ڈار شامل ہیں۔ ان میں سے کسی کے کالج یا یونیورسٹی کا نام درج نہیں ہے۔ اگر وہ گریڈ اکیس یا بائیس تک پہنچ گئے ہیں اور ان کا تحقیقی معیار یہ ہے کہ بانی پاکستان کے ساتھ جھوٹ منسوب کر رہے ہیں تو ان پہ بانی پاکستان کی ہتھک کا مقدمہ درج ہونا چاہیے۔

یہ صرف تاریخی خیانت نہیں، بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ جناح، جنہوں نے 11 اگست 1947 کو آئین ساز اسمبلی میں فرمایا تھا:

"تم آزاد ہو، اپنے مندروں میں جانے کے لیے، تم آزاد ہو اپنے مساجد میں جانے کے لیے، یا کسی اور عبادت گاہ میں... ریاست کا کسی کے مذہب، ذات یا عقیدے سے کوئی سروکار نہیں ہوگا۔"

اس جناح کو ایک جارح، تفرقہ انگیز اور مذہب کی بنیاد پر نفرت پھیلانے والے لیڈر کے طور پر پیش کرنا کہاں کی دیانت ہے؟

یہ جھوٹ کیوں گھڑا گیا؟ کیوں ہمارے نظریہ ساز ادارے، جو "قومی یکجہتی" کا راگ الاپتے ہیں، وہی سب سے زیادہ زہر گھول رہے ہیں؟ اس کا جواب بہت سادہ ہے: یہ سب ایک منصوبہ بند فکری تربیت ہے، جہاں معصوم ذہنوں کو "دشمن تراشی" سکھائی جاتی ہے۔

ریاست پاکستان کے تعلیمی ادارے، خاص طور پر پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ، اس وقت ایک شدید بحران سے گزر رہے ہیں — یہ بحران صرف تعلیمی نہیں بلکہ فکری اور اخلاقی بھی ہے۔ تاریخ کو مسخ کرنا، سچ کو چھپانا، اور جھوٹ کو حب الوطنی کے لباس میں لپیٹ کر پیش کرنا ایک مجرمانہ عمل ہے۔

یہ رویہ صرف "سوکس" تک محدود نہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہم نصاب میں ایسے بیانیے شامل کر رہے ہیں جو نسلوں کو نفرت سکھاتے ہی

Tuesday, 22 July 2025

سیدنا عمر فاروقؓ: شہادت سے زوالِ امت تک کا سفر

 یہ تحریر 2023 میں فیس بک کے لیے لکھی گئی تھی یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کی جا رہی ہے 

یقیناً سیدنا عمر بن خطابؓ کا یومِ شہادت تاریخِ اسلام کا وہ مقامِ نوحہ ہے جہاں سے امتِ مسلمہ کے اجتماعی زوال کی داغ بیل پڑتی ہے۔ اگر بعثتِ نبوی ﷺ کو طلوعِ اسلام کا آغاز مانا جائے تو خلافتِ فاروقی کو اس کا نصف النہار، یعنی مکمل عروج کہا جا سکتا ہے۔ اور اگر اس عروج کی روشنی میں کوئی سایہ گرا ہے تو وہ آپ کی شہادت کا لمحہ ہے، جسے بجا طور پر اسلام کے زوال کا نقطۂ آغاز کہنا چاہیے۔

حضرت عمر فاروقؓ ایک کثیر الجہت، متوازن اور ہمہ پہلو شخصیت کے حامل تھے۔ آپ میں جو جرات، حکمت، تجسس اور عدل کی صفات موجود تھیں، وہ زمانۂ جاہلیت میں بھی قریش کو آپ پر مکمل اعتماد کرنے پر مجبور کرتی تھیں۔ قریش نے قبائلی نظام میں عدالتی امور آپ کے قبیلے اور بالخصوص آپ کے حوالے کر رکھے تھے۔ آپ کو قریش میں ایک فیصلہ ساز، قانون فہم اور معاملہ فہم شخصیت کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔ قریش کے صرف سترہ افراد لکھنا پڑھنا جانتے تھے، اور ان میں آپ کا نام نمایاں تھا۔ آپ کی متجسس طبیعت نے آپ کو علم و حکمت کی طرف مائل کیا، یہاں تک کہ آپ نے عبرانی زبان سیکھی تاکہ تورات کا مطالعہ کر سکیں، اور یہ سب اس دور میں ہوا جب عرب دنیا علم سے محروم تھی۔

تجارت کی غرض سے جب آپ شام کا سفر کرتے تو صرف تجارت پر توجہ نہ دیتے بلکہ سلطنتِ روم کے انتظامی و سیاسی نظام کو گہرائی سے دیکھتے اور وہاں کے بااثر افراد سے سیکھنے کی کوشش کرتے۔ یہی بصیرت اور فکری وسعت تھی جو آپ کو دوسروں سے ممتاز کرتی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے اسی لیے دعا کی: "اَللّٰھُمَّ اَعِزَّ الْاِسْلَامَ بِاَحَبِّ ہٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ اِلَیْکَ: بِاَبِیْ جَہْلٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ۔" اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمرؓ کو چن لیا، اور ان کا اسلام لانا دراصل اسلام کے غلبے کا نقطہ آغاز بن گیا۔

آپؓ کا رسول اللہ ﷺ سے تعلق محض ایک صحابی کا نہیں تھا بلکہ آپ اُن معدودے چند خوش نصیبوں میں سے تھے جنہیں نسبتی رشتہ بھی ملا۔ آپ کی بیٹی سیدہ حفصہؓ کو نبی کریم ﷺ نے شرفِ زوجیت بخشا، اور بعد میں نبی کی نواسی سیدہ ام کلثومؓ بنتِ فاطمہ آپؓ کی زوجہ بنیں۔ یوں محبت، رفاقت اور اعتماد کا ایک مضبوط رشتہ قائم ہو گیا۔ خلافتِ نبوی کا جو ستون دین کے عملی پہلوؤں کو سنبھالے ہوئے تھا، وہ حضرت عمرؓ کی شخصیت ہی تھی۔

جنگِ قادسیہ کے بعد جب ایرانی سپہ سالار ہرمز قیدی بن کر مدینہ لایا گیا تو حضرت عمرؓ نے اس سے دریافت کیا کہ تم پہلے عربوں کو بار بار شکست دیتے رہے، اس بار کیا ہوا؟ ہرمز نے جواب دیا کہ اس بار ہمارے مقابلے پر صرف عرب نہیں، بلکہ عرب اور خدا دونوں تھے — اور ہم ہار گئے۔ یہ محض ایک شکست خوردہ سردار کا جملہ نہ تھا بلکہ ایک حقیقت شناس دانشور کا تاریخی اعتراف تھا۔ اسے یقین ہو چکا تھا کہ عربوں کی طاقت محض قبائلی اتحاد نہیں، بلکہ خدا کا نظام ہے جو قرآن کی صورت میں ان کے پاس موجود ہے، جس نے بکھرے عربوں کو متحد کیا اور انہیں عدل و مساوات کا علَم بردار بنا دیا۔

حضرت عمرؓ اسی خدائی نظام کے سچے محافظ تھے۔ ان کے دورِ خلافت میں ایسا سیاسی، سماجی، اخلاقی اور معاشی نظام قائم ہوا جس کی بنیاد عدل، مشاورت، مساوات، تقویٰ اور دیانت پر تھی۔ وہ نظام نہ امیر کے لیے نرم تھا نہ فقیر کے لیے ظالم۔ وہ نظام شخصی بادشاہت نہیں بلکہ شورائی خلافت پر قائم تھا۔ اس کی اصل طاقت قرآن تھا اور اس کا مقصد صرف رضائے الٰہی۔ حضرت عمرؓ اس نظام کے مکمل نمائندہ بن کر کھڑے تھے، اس لیے اہلِ فارس نے سمجھ لیا کہ اگر ہمیں اسلام کے غلبے سے نجات حاصل کرنی ہے تو اس نظام کے سب سے بڑے ستون کو گرانا ہو گا — اور انہوں نے یہی کیا۔

حضرت عمرؓ کی شہادت محض ایک فرد کی موت نہ تھی، بلکہ ایک نظام، ایک فکر اور ایک خدا مرکز عدالتی نظام پر وار تھا۔ قرآن اب رفتہ رفتہ فیصلوں کی کتاب سے تلاوت کی کتاب بننے لگا۔ انسانی تاویلوں، موروثی خلافتوں، عجمی سازشوں اور خودساختہ عقائد نے قرآن کی جگہ لے لی۔ اقبال نے اس تبدیلی کو "عجمی اسلام" کہا — یعنی وہ اسلام جو قرآن و سنت کی بجائے قوم و نسل، منطق و فلسفہ اور خاندانی اقتدار کے گرد گھومنے لگا۔

اقبال نے کہا:

"رومي بدلے ، شامي بدلے، بدلا ہندستان

تو بھی اے فرزند کہستاں! اپني خودي پہچان

اب قرآن محض مذہبی رسوم کا حصہ بن گیا۔ اس کی جگہ فقہی تفصیلات، تاریخی کہانیاں اور فرقہ وارانہ تعبیرات نے لے لی۔ ہر فرقہ اپنی تشریح لے کر کھڑا ہو گیا، اور اللہ کی رسی کو چھوڑ کر اپنی تاویلات سے چمٹ گیا۔

حضرت علیؓ نے حضرت عمرؓ کے بارے میں فرمایا: "عمر وہ کیل ہے جس پر چکی کے دونوں پاٹ گھومتے ہیں۔" یہ محض ایک تعریف نہیں بلکہ ایک ایسا خراجِ عقیدت ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت عمرؓ کا وجود پورے اسلامی نظام کے توازن کا ضامن تھا۔ ان کے بغیر خلافت کا پہیہ نہیں گھوم سکتا تھا۔

حضرت عمرؓ کی شہادت ایک ایسی اذیت ناک علیحدگی تھی جس نے دین کو مذہب میں تبدیل کر دیا، خلافت کو بادشاہت میں بدل دیا، اور شورائیت کو سازشی درباروں میں دفن کر دیا۔ اسی دن سے اسلام کا زوال شروع ہوا — قرآن کو فیصلوں سے نکالا گیا، نسب و حسب عدل و مساوات پر غالب آ گئے، اور اقتدار موروثی ہو گیا۔

لیکن یاد رکھیے! اگر امتِ مسلمہ ایک بار پھر حضرت عمرؓ کے راستے پر چلنے لگے — عدل کو، قرآن کو، مشورے کو اور استقامت کو اپنا لے — تو وہی دن امت کے دوبارہ عروج کا دن ہو گا۔ کیونکہ زوال اسی وقت شروع ہوا جب ہم نے عمرؓ کو کھو دیا، اور عروج اسی وقت ممکن ہے جب ہم انہیں پھر پا لیں۔

Saturday, 19 July 2025

ایمان مزاری : بھارتی فلم "ایک بندہ ہی کافی ہے" کا پاکستان ورژن

     

"ایک بندہ ہی کافی ہے" صرف ایک فلم نہیں بلکہ یہ عدالتی نظام، انصاف کی جدوجہد اور ایک اکیلے شخص کی ثابت قدمی کی ایک شاندار عکاسی ہے۔ آسارام باپو کیس جس میں ایک مذہبی پیشوا کے ایک کم سن لڑکی کے ساتھ ریپ کے بعد کیس کی سنگینی اور اس کے پس پردہ دھمکیوں، گواہوں کے قتل اور طاقتور کے خلاف کمزور کی لڑائی کو فلم میں انتہائی مؤثر طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ منوج باجپائی نے وکیل پی سی سولنکی کے کردار کو اس قدر جاندار بنا دیا ہے کہ وہ ایک عام آدمی کی ثابت قدمی اور بے پناہ عزم کا ایک طاقتور استعارہ بن جاتا ہے۔ یہ فلم صرف عدالتی کاروائی کی کہانی نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے نظام کی عکاسی ہے جہاں سچائی کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، اور اس کے خلاف ایک "بندہ" کیسے اکیلا کھڑا ہو کر انصاف کا علم بلند کر سکتا ہے۔ یہ فلم معاشرے کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر ارادے پختہ ہوں تو بڑے سے بڑے طاقتور کا بھی احتساب ممکن ہے۔

آج جب ہم اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین رسالت کے جاری مقدمات پر نظر ڈالتے ہیں، تو "ایک بندہ ہی کافی ہے" کا فلسفہ انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری کی شکل میں حقیقی معنوں میں مجسم دکھائی دیتا ہے۔ جس طرح آسارام باپو کیس میں ایک اکیلے وکیل پی سی سولنکی نے ایک بااثر گرو کے خلاف انصاف کا بیڑا اٹھایا، اسی طرح ایمان مزاری بھی پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین کے غلط استعمال کا شکار ہونے والے سینکڑوں نوجوانوں کے لیے ایک امید کی کرن بنی ہوئی ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2022 سے آن لائن توہین مذہب کے مقدمات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر واٹس ایپ گروپس میں۔ حیران کن طور پر، ان میں سے بڑی تعداد میں ایسے نوجوان ہیں جنہیں بظاہر ایک "مشکوک گینگ" یا مافیا کی جانب سے جان بوجھ کر پھنسایا گیا ہے۔ پنجاب پولیس کی رپورٹس اور نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کے اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سیکڑوں نوجوان اس وقت ان جھوٹے الزامات کی وجہ سے جیلوں میں ہیں۔ یہ "مافیا" ایک منظم انداز میں کام کر رہا ہے اور اس کا محرک مالی فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس معاملے میں کومل اسماعیل عرف "ایمان" نامی ایک خاتون کا نام بھی سامنے آیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے پھنساتی ہے۔ عدالت نے ایف آئی اے کو کومل کا شناختی کارڈ بلاک کرنے اور اس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ وہ عدالت میں پیش ہونے سے گریز کر رہی ہے۔ یہ حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ توہین مذہب کے حساس قوانین کا استعمال ایک سنگین اور منظم جرم کے لیے کیا جا رہا ہے، جہاں بے گناہ افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

عدالت نے اپنے آرڈر میں لکھا کہ توہین مذہب کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے متعدد ملزمان جو کہ ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں تھے اور وہ مختلف جیلوں میں قید تھے انھوں نے نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کے نمائندوں کو بتایا تھا کہ انھیں توہینِ مذہب پر ایک ایمان نامی لڑکی نے اکسایا تھا۔

جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے اپنے حکم نامے میں سپین کے ایک موبائل نمبر کا بھی ذکر کیا ہے جو کہ ’ایمان نامی لڑکی کے زیرِ استعمال تھا اور جس کے بارے میں ایک وکیل راؤ عبدالرحیم کا کہنا تھا کہ انھیں یہ موبائل نمبر سپین میں ان کے کزن نے دیا تھا تاہم جب راؤ رحیم ایڈووکیٹ سے یہ پوچھا گیا کہ ان کا یہ نمبر ایمان نامی لڑکی کے زیرِ استعمال کیسے آیا تو وہ اس کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔

اپنے حکم نامے میں عدالت نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ ’ایمان نامی لڑکی اپنے زیر استعمال موبائل نمبر سے راؤ عبدالرحیم ایڈووکیٹ کے ساتھ رابطے میں تھی اور راؤ عبدالرحیم کے بارے میں سپیشل برانچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے خلاف توہین مذہب کے مقدمات کا اندراج کروانے والے مبینہ گینگ کی سربراہی کرتا ہے۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں یہ بھی کہا ہے کہ ’ان درخواستوں کی سماعت کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک فیس بک کی آئی ڈی اور اس کا پاسورڈ توہین مذہب کے متعدد مقدمات کے اندارج میں استعمال کیے گئے۔ عدالت نے اس پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ایک ہی فیس بک کی آئی ڈی اور اس کا پاسورڈ دیگر مقدمات میں کیسے استعمال ہو سکتا ہے۔‘

عدالت نے اپنے حکم نامے میں لیہ یونیورسٹی کے باہر توہینِ مذہب کے مقدمے میں ایک ملزم کی گرفتاری کا بھی حوالہ دیا جس کی فوٹیج کمرہ عدالت میں چلائی گئی اور اس فوٹیج میں ایک گاڑی بھی نظر آ رہی تھی اور ویڈیو میں نظر آنے والی اس گاڑی کی رجسٹریشن کے بارے میں راؤ عبدالرحیم ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ گاڑی کی رجسٹریشن تو ان کے نام پر ہے لیکن اس ویڈیو میں نظر آنے والی گاڑی ان کی نہیں ہے۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں کمرہ عدالت میں چلائی جانے والی ایک اور ویڈیو کا بھی ذکر کیا ہے جس میں توہینِ مذہب کے مقدمات درج کروانے والے مبینہ گینگ کے لوگ اپنے طور پر لوگوں کو غیر قانونی طور پر گرفتار کرتے ہیں اور بعد ازاں ریکارڈ میں ظاہر کیا جاتا ہے کہ ایف آئی اے نے ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔

اس حکم نامے میں ایک اور ویڈیو کا بھی ذکر کیا گیا جس میں توہین مذہب کے ایک ملزم کی اولاد سے پیسوں کا تقاضا کیا گیا اور عدم ادائیگی پر اس کے خلاف بھی توہین مذہب کا مقدمہ درج کروانے کی دھمکی دی گئی۔

اس حکم نامے میں عبداللہ شاہ نامی نوجوان کے قتل کے مقدمے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس کے خلاف راؤ عبدالرحیم ایڈووکیٹ نے توہین مذہب کا مقدمہ درج کروایا تھا۔ اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عبداللہ شاہ قتل کے مقدمے کی تفتیش کے حوالے سے پولیس کے چالان میں یہ کہا گیا ہے کہ عبداللہ شاہ کے قتل سے پہلے اس کی آخری بات چیت راؤ عبدالرحیم ایڈووکیٹ سے ہی ہوئی تھی۔عبداللہ شاہ کے والد نے اسلام آباد کی مقامی عدالت کو یہ لکھ کر دیا تھا کہ انھوں نے اپنے تئیں اس مقدمے کی تفتیش کی ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ راؤ عبدالرحیم اس کے بیٹے کے قتل میں ملوث نہیں ہے۔عدالت نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ سے اس بارے میں رپورٹ طلب کی ہے کہ کیسے پرائیویٹ شخص اپنے طور پر کسی مقدمے کی تفتیش کر کے عدالت میں کسی شخص کے گناہ گار اور بے گناہ قرار دینے سے متعلق بیان دے سکتا ہے جبکہ قانون کے مطابق یہ استحقاق پولیس کے پاس ہے۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں راؤ عبدالرحیم ایڈووکیٹ کے کلرک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ (کلرک) خود کو خاتون ظاہر کر کے مختلف واٹس ایپ گروپس میں چیٹ کرتا اور پھر اسی کی بنیاد پر توہینِ مذہب کے مقدمات کے اندراج کے لیے درخواستیں دائر کی جاتیں۔ عدالت نے اپنے حکم نامے میں یہ بھی کہا ہے کہ توہین مذہب کے مقدمات میں ایک ہی قسم کا مواد بہت سے خدشات کو جنم دیتا ہے۔

جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے اپنے حکم نامے میں یہ بھی کہا کہ نام نہاد ’لیگل کمیشن آن بلاسفیمی‘ جو کہ خود کو این جی او یعنی فلاحی تنظیم کہتی ہے اور اس کمیشن کے سربراہ راؤ عبدالرحیم کر رہے ہیں، یہ نہ تو فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) اور نہ ہی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں رجسٹرڈ ہے اور اس نام نہاد کمیشن کی سرگرمیوں پر سوالیہ نشان ہیں۔

ان تمام ہولناک حقائق اور اس منظم "مافیا" کو اس طر ح ایکسپوز کرنے میں سب سے پہلے وکیل ایما ن مزاری داد کی مستحق ہیں جس نے نا صرف ان متاثرین کے خاندانوں کی وکیل کے طور پر کھڑی ہیں، بلکہ وہ اس منظم ناانصافی کے خلاف ایک مضبوط آواز بھی ہیں۔ وہ مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ توہین مذہب کے قوانین کا یہ غلط استعمال بے گناہ افراد کی زندگیوں کو تباہ کر رہا ہے، اور ایک بار لگ جانے والا داغ بری ہونے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا۔ ان کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو 30 دن کے اندر توہین مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔پھر اس مقدمہ کی سماعت کرنے والے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق بھی داد کے مستحق ہیں جنہوں نے اس کیس کی عدالتی کارروائی کو براہ راست نشر کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

جیسا کہ "ایک بندہ ہی کافی ہے" فلم نے دکھایا، ایک اکیلا شخص بھی سچائی اور انصاف کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن سکتا ہے۔ ایمان مزاری بھی اسی جذبے کے ساتھ ان بے سہارا خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہیں، اور ان کی جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک فرد کی استقامت ایک نظام اور ایک منظم مافیا کو جھنجھوڑ سکتی ہے۔ ان کا کام محض قانونی چارہ جوئی نہیں، بلکہ یہ پاکستان میں انصاف کی فراہمی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک مسلسل اور بہادرانہ جنگ ہے۔