
چوہدری خلیق
الزماں کا شمار قائد اعظم محمد علی جنا ح کے نہایت قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔
اپنے کالج کے زمانے سے ہی عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ 1946 کے
الیکشن میں مرکزی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ ہجرت کر کے پاکستان تشریف لائے اور مسلم لیگ (پاکستان ) کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ 1961 میں ان کی شائع ہونے والی کتاب Pathway
to Pakistan جس کا ترجمہ "شاہراہِ پاکستان" کے نام سے ہوا پاکستان
کی نظریاتی تاریخ کا وہ کرب ناک آئینہ ہے جسے سرکاری تاریخ نگاری نے دانستہ طور پر
نظرانداز کر کے کہیں دفن کر دیا ۔ محض تین
سال بعد ہی خلیق الزماں نے اُس بنیادی غداری کی بے لاگ اور بے خوف تشریح پیش کی جو
پاکستان کی بنیادی روح میں زہر گھولنے والی تھی۔ یہ کتاب کوئی سادہ سی سیاسی
یادداشت نہیں بلکہ ریاستی جرم کی پہلی جامع اور مدلل دستاویز ہے جس میں یہ ثابت
کیا گیا کہ پاکستان کی تحریکِ آزادی کے اصل مقاصد اور خوابوں کو تحریک پاکستان کے
ہی نام نہاد "سپوتوں" نے پامال کیا۔ جیسا کہ کینیڈین مورخ ڈاکٹر عاصم
جعفری نے اپنے تجزیے Overcoming
the Religious-Secular Divide
میں واضح کیا: "خلیق الزماں واحد مسلم لیگی رہنما تھے جنہوں نے قیام پاکستان
کے فوراً بعد ہی اُس نظریاتی ڈکٹیٹرشپ کی شناخت کر لی جس نے ریاست کو اپنے مخصوص
مفادات کے لیے یرغمال بنانا تھا۔ ان کا یہ بصیرت افروز کام نہ صرف ماضی کا احتساب
ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک خطرناک پیش گوئی بھی، جو بدقسمتی سے حرف بحرف پوری
ہوئی۔"
خلیق الزماں کا سب
سے بنیادی اور شدید الزام یہ تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح کے 11 اگست 1947 کے
تاریخی خطاب — جس میں دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا گیا تھا کہ "مذہب کا ریاست
کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہوگا" اور تمام شہریوں کو برابر حقوق دیے جانے
کی بات کی گئی تھی — کو تحریک پاکستان کے نئے اشرافیہ نے جان بوجھ کر دفن کرنے کی
مہم چلائی۔ ان کا استدلال تھا کہ پاکستان کا قیام برصغیر کے مسلمانوں کو ہندو
بالادستی سے بچانے اور انہیں سیاسی، معاشی اور تہذیبی خودمختاری دلانے کے لیے تھا
نہ کہ کسی "مذہبی ریاست" یا "اسلامی جمہوریہ" کے قیام کے لیے
جیسا کہ بعد میں پیش کیا گیا۔ وہ قراردادِ لاہور 1940 کی اصل روح کی طرف لوٹتے ہیں
جس میں واضح طور پر "خودمختار اکائیوں" (Sovereign Units) پر زور دیا گیا
تھا اور مذہبی ریاست کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ مگر مارچ 1949 میں جب لیاقت علی خان کی
حکومت نے قومی اسمبلی میں قراردادِ مقاصد منظور کی جس میں "اللہ کی حاکمیتِ
اعلیٰ" جیسے مبہم مذہبی تصورات کو آئینی حیثیت دی گئی تو خلیق الزماں نے اسے
کھلے الفاظ میں "نظریہ پاکستان کی اجتماعی بددیانتی" قرار دیا ۔ وہ
سمجھتے تھے کہ یہ ایک چالاکی سے بھرا ہوا قدم تھا جو قائداعظم کے واضح سیکولر
جمہوری وژن کو مسخ کرنے کے لیے اٹھایا گیا۔ برطانوی مورخ اور ساؤتھ ایشین اسٹڈیز
کی ماہر ڈاکٹر فرزانہ شیخ اپنی معتبر کتاب
"میکنگ سینس آف پاکستان" میں اس
خیال کی تائید کرتے ہوئے لکھتی ہیں: "قراردادِ مقاصد درحقیقت جناح کے سیکولر
وژن کے خلاف ایک منظم بغاوت تھی جسے مذہبی جماعتوں (خاص طور پر جماعت اسلامی) اور
فوجی بیوروکریسی کے گٹھ جوڑ نے مل کر مسلط کیا"۔
یہ وہ نظریاتی موڑ تھا جہاں سے ریاست کا مذہبی تشخص مسلط کرنے اور سیکولر قوتوں کو
دھکیلنے کا باقاعدہ عمل شروع ہوا۔
خلیق الزماں نے
اپنی کتاب میں 1961 میں ہی وہ المناک پیش گوئی کر دی تھی جو دو دہائی بعد حقیقت بن
کر سامنے آئی۔ انہوں نے صفحہ نمبر 178 پہ لکھا : "مغربی پاکستان کی
نوآبادیاتی ذہنیت اور استحصالی رویہ مشرقی بنگال کو علیحدگی پر مجبور کر دے
گا"۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کے خلاف پنپنے والے گہرے نسلی تعصب
اور منظم معاشی استحصال کو پاکستان کی پہلی نظریاتی موت قرار دیا۔ وہ صرف جذباتی
نہیں بلکہ ٹھوس اعداد و شمار کے ساتھ اس استحصال کو بے نقاب کرتے ہیں۔ وہ دکھاتے
ہیں کہ 1947 سے 1950 کے مختصر عرصے میں مشرقی پاکستان (جوپٹ سن ، چائے اور کھجور کی پیداوار میں خودکفیل تھا)
سے حاصل ہونے والی دولت کا بھرپور استحصال کیا گیا۔ ان کے مطابق: "1947-1950
کے دوران مشرقی پاکستان سے پیدا ہونے والی آمدنی کا 78% حصہ مغربی پاکستان کی ترقی
پر خرچ کیا گیا"۔ڈاکٹر حسن ظہیر نے اپنی کتاب" پاکستان کی معاشی
ناانسافیاں" میں لکھا کہ سیاسی ناانصافی بھی اتنی ہی صریح تھی کہ "مرکزی
کابینہ میں مشرقی پاکستانی وزراء کی شرح 1950 تک گر کر محض 18% رہ گئی، حالانکہ وہ
ملک کی کل آبادی کا 56% تھے"۔ خلیق الزماں اس منظم لوٹ کھسوٹ کو "نظریہ
پاکستان کی اجتماعی چوری" کا نام دیتے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ صرف معاشی
استحصال نہیں بلکہ تحریک پاکستان کے بنیادی اصولوں — یعنی مسلمانوں کی برابری اور
باہمی احترام — کی صریح خلاف ورزی اور نظریے سے غداری تھی۔ بنگالی مورخ ڈاکٹر افضل
حسین اپنی کتاب "دی بیٹرائڈ آف ایسٹ پاکستان" میں لکھتے ہیں: "خلیق
الزماں واحد مغربی پاکستانی رہنما تھے جنہوں نے بنگالیوں کے ساتھ ہونے والے اس
ظالمانہ استحصال کو صرف ناانصافی نہیں بلکہ نظریہ پاکستان کے خلاف ایک سنگین جرم
قرار دیا"۔ ان کا یہ موقف مشرقی پاکستان کے حوالے سے ایک تنہا اور بہادر آواز
تھی۔
کتاب کا سب سے
قابل غور اور توجہ طلب حصہ وہ ہے جہاں خلیق الزماں مولانا مودودی اور ان کی جماعتِ
اسلامی پر براہِ راست اور سخت ترین حملے کرتے ہیں۔ وہ تاریخی دستاویزات کے حوالے
سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ جماعتِ اسلامی نہ صرف تحریک پاکستان کی مخالف تھی بلکہ اس
کی تخریب میں سرگرم رہی۔ وہ صفحہ 192پہ تفصیل سے بتاتے ہیں: "1946 کے اہم انتخابات
میں جب مسلم لیگ کو متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ثابت کرنا
ضروری تھا جماعتِ اسلامی نے مسلم لیگ کے 80% سے زائد امیدواروں کے خلاف کھلم کھلا
فتوے جاری کیے تھے انہیں کافر، غاصب اور اسلام دشمن قرار دیا تھا"۔ مزید برآں
وہ مولانا مودودی کے اپنے ہی رسالے "ترجمان القرآن" کے جون 1947 کے
ایڈیشن کا حوالہ دیتے ہیں جس میں مودودی نے لکھا تھا: "پاکستان اسلام کے لیے
زہرِ قاتل ہے"۔ خلیق الزماں پوچھتے ہیں کہ جن لوگوں نے پاکستان کو "زہر
قاتل" اور اس کی تحریک کو "کفر" قرار دیا انہیں قیام پاکستان کے
محض دو سال بعد ہی قراردادِ مقاصد جیسے اہم دستاویز کی تشکیل میں اتنا اثرورسوخ
کیسے مل گیا؟ ان کا مؤقف تھا کہ وزیراعظم لیاقت علی خان نے جماعتِ اسلامی اور دیگر
مذہبی پریشر گروپس کے خوف یا مفادات کے تحت یہ قدم اٹھایا۔ خلیق الزماں اس پورے
عمل کو کھلی "تاریخی ریشہ دوانی" قرار دیتے ہیں۔ معروف پاکستانی دانشور
اور تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی اپنی کتاب "پاکستان: کھویا ہوا نظریہ" میں اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"قراردادِ مقاصد کی منظوری درحقیقت اُن قوتوں کی فتح تھی جنہوں نے پاکستان
بننے سے پہلے اس کی مخالفت کی تھی اور اسے غیر اسلامی قرار دیا تھا۔ یہ نظریہ
پاکستان پر ان قوتوں کا قبضہ تھا"۔ خلیق الزماں کے نزدیک یہ نظریاتی غداری کا
سب سے بڑا مظہر تھا کہ تحریک کے دشمنوں نے اس کے مرکز پر قبضہ کر لیا۔
خلیق الزماں کے
نزدیک پاکستان کی اصل روح اور بقا کا راز وفاقی مساوات اور صوبائی خودمختاری میں
پوشیدہ تھا۔ وہ بار بار 1940 کی قراردادِ لاہور کی طرف لوٹتے ہیں جس میں
"آزاد اور خودمختار ریاستوں"
(Independent States) یا "خودمختار اکائیوں" (Sovereign Units) کے تصور کو مرکزی
حیثیت حاصل تھی۔ ان کا استدلال تھا کہ مسلم اکثریتی علاقوں کی باہمی رضامندی اور
مساوی شراکت پر مبنی وفاق ہی پاکستان کا جواز تھا۔ مگر قیام پاکستان کے فوراً بعد
ہی اس وفاقی ڈھانچے کو تباہ کرنے کا عمل شروع ہو گیا۔ خلیق الزماں اس عمل کی تفصیل
دیتے ہیں: "1950 تک ہی صوبائی خودمختاری عملاً ختم کر دی گئی۔ منتخب صوبائی
حکومتوں کو کمزور کر کے مرکزی حکومت کے وفادار گورنروں کو اصل طاقت دے دی گئی۔ انہیں مرکز کا
کٹھ پتلی بنا دیا گیا"۔ اس سے بھی بڑھ کر، وہ اس خوفناک منصوبے کی نشاندہی
کرتے ہیں جو اس وقت زیرِ غور تھا: "مغربی پاکستان کے تمام صوبوں اور علاقوں
کو زبردستی 'ون یونٹ' میں ضم کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا تھا تاکہ مشرقی پاکستان
کی آبادی کی اکثریت کو سیاسی طور پر بے اثر بنایا جا سکے"۔ خلیق الزماں اس
یکطرفہ، غیر جمہوری اور جابرانہ عمل کو "نظریاتی ڈکیتی" سے تعبیر کرتے
ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ یہ عمل نہ صرف قراردادِ لاہور کے منافی تھا بلکہ پاکستان
کے وجود کو ہی خطرے میں ڈالنے والا تھا۔ امریکی پروفیسر اور وفاقیت کے ماہر راجر
ڈی لانگ اپنی تحقیق " State and Nation‑Building in Pakistan: Beyond Islam and Security" میں اس بات کی
تائید کرتے ہیں: "پاکستان نے اپنے قیام کے پہلے دہائی میں ہی وفاقی اصولوں کو
مسخ کر دیا اور صوبائی خودمختاری کو کچل دیا، جو درحقیقت نظریہ پاکستان کی پہلی
اور بنیادی موت تھی۔ اس نے مرکزیت اور آمریت کی راہ ہموار کی" ۔
خلیق الزماں کے نزدیک یہ وفاقیت کا قتل ہی تھا جس نے ملک کو ٹوٹنے اور آمریت کے
راستے پر ڈال دیا۔
اس سب نظریاتی
غداری، استحصال اور مرکزیت کے خلاف آواز اٹھانے کے نتیجے میں خلیق الزماں کو شدید
تنہائی اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر 15 جنوری 1951 کو انہوں نے مسلم لیگ
کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ محض ایک عہدے سے دستبرداری نہیں بلکہ نظریہ
پاکستان سے مایوسی کا اعلان تھا۔ ان کے استعفیٰ کے تاریخی خط (جو پاکستان کے قومی
دستاویزات، اسلام آباد میں محفوظ ہے، دستاویز نمبر PAK-1951-089) میں لکھے گئے الفاظ آج بھی دردناک صداقت
رکھتے ہیں: "پاکستان وہ ملک نہیں رہا جس کے لیے میں نے اور میرے ساتھیوں نے
جدوجہد کی۔ تحریک پاکستان کا اصل نظریہ اور مقصد سیاستدانوں نے اپنے ذاتی مفادات
کے لیے یرغمال بنا لیا ہے۔ فوج نے اسے اپنی بالادستی قائم رکھنے اور توسیع پسندانہ
عزائم کے لیے محض ایک ڈھال بنا دیا ہے۔ مذہبی جماعتوں نے اسے اپنی دکان اور اثر و
رسوخ بڑھانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ میں ایک ایسی جماعت کی صدارت نہیں کر سکتا جو
اپنے بنیادی اصولوں سے منہ موڑ چکی ہے"۔ اس استعفیٰ کے بعد انہیں شدید سیاسی
بے خبری اور نظراندازی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی تنقیدی آواز کو دبا دیا گیا۔ 1958
میں جب جنرل ایوب خان نے ملک کا پہلا مارشل لاء نافذ کیا تو خلیق الزماں نے 25
اکتوبر 1958 کو روزنامہ جنگ کو دئیے گئے انٹرویو میں اسے "نظریہ پاکستان کی
آخری رسومات" قرار دیا ۔ یہ وہ المیہ تھا جس کی انہوں نے اپنی کتاب میں واضح
پیش گوئی کی تھی۔ ان کی تنہائی دراصل اس نظام کی اخلاقی شکست تھی جس نے صداقت گو
کو جگہ دینے کے بجائے نکال باہر کیا۔
خلیق الزماں کی
کتاب کی سب سے خوفناک اور قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ان کی تمام بنیادی پیش گوئیاں
اور تنقیدی تجزیے بعد کے برسوں میں حرف بحرف پوری ہوئیں جو ان کی بصیرت اور
تجزیاتی صلاحیت کی گواہی دیتے ہیں۔ انہوں نے جن خدشات کا اظہار 1950 میں کیا تھا
وہ پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر المناک سچائیوں کی صورت میں ابھرے:
سب
سے پہلے1958
کا مارشل لاءجس کے بارے خلیق الزماں نے واضح کیا تھا کہ مرکزیت اور
فوج کی بڑھتی ہوئی مداخلت جمہوریت کے خاتمے کا باعث بنے گی۔ ایوب خان کی فوجی
آمریت نے اس پیش گوئی کو سچ ثابت کیا جسے انہوں نے "جمہوریت کا سرعام
قتل" قرار دیا تھا۔
دوسرے
نمبر پہ 1965
کی جنگ جس کے بارے انہوں نے خبردار کیا تھا کہ "فوجی
حکومت قومی وقار کو جنگی جنون میں تبدیل کر دے گی اور عوام کو غیر ضروری جانی
نقصان اور معاشی تباہی کی بھینٹ چڑھائے گی"۔ 1965 کی جنگ، جس کا فیصلہ کن
کوئی نتیجہ نہ نکلا مگر جس نے معیشت کو تباہ کر دیا اور مشرقی پاکستان میں احساسِ
محرومی کو ہوا دی ان کے الفاظ کی تصدیق تھی۔
تیسرے
نمبر پہ 1971
کا سقوطِ مشرقی پاکستان وہ المیہ تھا جسے
خلیق الزماں نے 1950 میں ہی "مغربی پاکستان کی نوآبادیاتی ذہنیت کا ناگزیر
نتیجہ" قرار دے دیا تھا ۔ مشرقی پاکستان میں معاشی استحصال، سیاسی محرومی اور
فوجی جبر کے بارے میں ان کی تفصیلات 1971 کی علیحدگی کی بنیادی وجوہات تھیں۔
چوتھے
نمبر پہ 1973
کے آئین میں مذہبی شقوں کے
نفاذکے بارے خلیق
الزماں نے 1950 میں ہی قراردادِ مقاصد کے ذریعے مذہب کو ریاستی معاملات میں شامل
کرنے کے خطرات سے آگاہ کیا تھا۔ 1973 کے آئین میں مذہب کو مرکزی حیثیت دینا، خاص
طور پر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے جیسے اقدامات (جس نے اقلیتوں کے خلاف قانونی
امتیاز کو ہوا دی)، ان کے خدشات کی تکمیل تھی۔
یہ پیش گوئیاں محض
اتفاق نہیں تھیں بلکہ اس گہری سمجھ بوجھ کی عکاس تھیں جو خلیق الزماں کو ریاستی
ڈھانچے، اس کے تضادات اور حکمران اشرافیہ کے حقیقی عزائم کے بارے میں حاصل تھی۔
جیسا کہ فرانسیسی مورخ کرسٹوف جعفریلوٹ اپنی شہرہ آفاق کتاب "دی پاکستان
پیراڈوکس: انسٹیبلٹی اینڈ ریزیلینس" میں لکھتے ہیں: "خلیق الزماں کی
'شاہراہِ پاکستان' درحقیقت پاکستان کے نظریاتی سفر کا ایک متبادل نقشہ ہے جس نے
ریاست کے رسمی بیانیے کے برعکس اس کے اندر پنپنے والے تضادات اور خود تخریبی کے
بیج کو بے نقاب کیا۔ ان کی پیش گوئیوں کی درستگی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پاکستان
کے اصل بحران کو گہرائی سے سمجھتے تھے"۔
آج جب پاکستان
گہرے شناختی بحران، دہشت گردی کی لپیٹ، انتہا پسندی، شدید معاشی بدحالی اور سیاسی
عدم استحکام کا شکار ہے تو خلیق الزماں کی 73 سال پرانی کتاب ایک زندہ اور تیز
دھار تنقیدی ہتھیار بن کر ابھرتی ہے۔ موجودہ بحرانوں کی جڑیں انہوں نے اپنی کتاب
میں 1950 میں ہی واضح کر دی تھیں۔ آج کے پاکستان کے اہم مسائل کا تجزیہ خلیق
الزماں کے بیانیے کی روشنی میں کریں تو تصویر مکمل ہو جاتی ہے:
سب سے پہلے خلیق الزماں نے خبردار کیا تھا کہ مذہب کو
ریاستی معاملات میں شامل کرنا انتہا پسندی اور فرقہ واریت کو فروغ دے گا۔ آج
پاکستان میں 30,000 سے زائد رجسٹرڈ اور تخمیناً 35,000 غیر رجسٹرڈ ملا کر کل 65,000
سے زائد مذہبی مدرسے موجود ہیں (پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) کی 2023 کی رپورٹ)۔ ان مدرسوں کے نصاب میں
اکثر وہی تنگ نظری اور دوسروں کے خلاف منفی رویہ شامل ہے جس کی خلیق الزماں نے
مخالفت کی تھی اور جسے انہوں نے نظریہ پاکستان کے لیے زہر قرار دیا تھا۔
دوسرے نمبر پہ خلیق الزماں نے
وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے اور صوبوں کے حقوق سلب کرنے کو قومی وحدت کے لیے زہر
قرار دیا تھا۔ آج بھی صوبائی ناانصافیاں شدید تنازعات کا باعث ہیں۔ 2023-24 کے
وفاقی بجٹ میں بلوچستان کو ملک کا سب سے کم (5.2%) حصہ ملا، حالانکہ وہ ملک کے کل
رقبے کا 43% ہے (پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ)۔ سندھ اور خیبر پختونخواہ میں
بھی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے شدید شکایات موجود ہیں، جو خلیق الزماں کے
وفاقی خدشات کی تصدیق کرتی ہیں۔
تیسرے نمبر پہ خلیق الزماں نے سب
سے پہلے فوج کے سیاسی کردار کو نظریہ پاکستان کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ تاریخ نے
انہیں سچ ثابت کیا۔ 1947 سے لے کر اب تک پاکستان کے 76 سالہ وجود میں سے 33 سال
براہِ راست فوجی آمریتوں کے تحت گزرے ہیں (سنٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (CRSS)،
اسلام آباد کی 2023 کی رپورٹ "ملٹری رول ان پاکستان: اے ٹائم لائن")۔ یہ
دنیا میں فوجی حکومتوں کے تحت گزارے گئے سب سے طویل عرصوں میں سے ایک ہے۔ اس نے
جمہوری تسلسل کو توڑا اور اداروں کی مضبوطی کو روکا۔
"شاہراہِ
پاکستان" کوئی عام سیاسی یادداشت یا تاریخی واقعات کا مجموعہ نہیں۔ یہ ایک
ریاستی جرم، نظریاتی غداری اور جمہوری خوابوں کے قتل کی تفصیلی، مدلل اور پیشگی
رپورٹ ہے۔ خلیق الزماں نے جو کچھ 1950 میں لکھا وہ آج پاکستان کا روزمرہ کا المیہ
اور بحران بن چکا ہے۔ ان کا اصل پیغام، جو کتاب کے آخری صفحات میں واضح ہوتا ہے،
انتہائی سادہ مگر گہرا ہے:
"پاکستان کا نظریہ کوئی مذہبی آمریت یا
پاپائیت (Theocracy) قائم
کرنا نہیں تھا۔ یہ برصغیر کے مسلمانوں کو ہندو سیاسی و ثقافتی بالادستی سے نجات
دلانے اور انہیں ایک جدید، جمہوری، منصفانہ اور ترقی پسند معاشرے میں آزادانہ طور
پر جینے کا موقع فراہم کرنے کا منصوبہ تھا۔ جب اس منصوبے کو مذہب کے نام پر چند
گروہوں کی مفاد پرستی، فوجی بالادستی اور مرکزیت کے لیے یرغمال بنا لیا گیا تو
نظریہ مر گیا۔ پاکستان کا موجودہ بحران نظریے کا بحران نہیں ہے یہ ان نظریاتی
قاتلوں کا بحران ہے جنہوں نے اسے اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا اور پھینک
دیا"۔
یہ پیغام آج بھی اسی شدت سے گونجتا ہے۔ جیسا کہ
نوبل انعام یافتہ امریکی مورخ ایرک ہابسبام نے اپنے مضمون میں لکھا: "خلیق
الزماں جیسے نظرانداز کردہ راہنماؤں کی تحریریں، جو سرکاری تاریخ سے خارج کر دی
جاتی ہیں درحقیقت قوموں کے اخلاقی ضمیر کی آواز ہوتی ہیں۔ یہ آواز دبائی جا سکتی
ہے، مگر ختم نہیں کی جا سکتی اور ایک دن قوم کو اس کا حساب دینا پڑتا ہے"۔
پاکستان کو اپنے وجود کی بقا، اپنے شہریوں کی
فلاح اور خطے میں باعزت مقام حاصل کرنے کے لیے اس اخلاقی ضمیر کو دوبارہ زندہ کرنا
ہوگا۔ "شاہراہِ پاکستان" اس ضمیر کو جگانے کا ایک طاقتور اور لازوال
ہتھیار ہے۔ اسے پڑھنا، سمجھنا اور اس کی روشنی میں پاکستان کی اصل نظریاتی بنیادوں
کی طرف لوٹنے کی کوشش کرنا ہی ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کی پہلی شرط ہے۔
خلیق الزماں کا سچ، اگرچہ کڑوا ہے، مگر شفا بخش ہے۔