Tuesday, 30 December 2025

اگرتلہ سازش کیس : ایک جھوٹا مقدمہ، ایک سچی علیحدگی

اگرتلہ سازش کیس پاکستان کی تاریخ کا وہ موڑ ہے جہاں ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ باضابطہ طور پر ٹوٹ گیا۔ یہ مقدمہ کسی ایک فرد کے خلاف نہیں بلکہ درحقیقت مشرقی پاکستان کی اجتماعی سیاسی خواہشات کے خلاف قائم کیا گیا تھا۔ عائشہ جلال اپنی شہرۂ آفاق کتاب The State of Martial Rule: The Origins of Pakistan’s Political Economy of Defence میں لکھتی ہیں کہ ایوب خان کے دور میں ریاستی سلامتی کو جان بوجھ کر قومی سیاست پر فوقیت دی گئی اور مشرقی پاکستان کی آئینی و جمہوری مطالبات کو ’’سیکورٹی تھریٹ‘‘ میں تبدیل کر کے پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق یہی وہ ذہنی فریم تھا جس کے اندر اگرتلہ سازش کیس نے جنم لیا۔

سن 1958 کے مارشل لا کے بعد ایوب خان کی حکومت کو سب سے بڑا چیلنج مشرقی پاکستان سے درپیش تھا جہاں آبادی کی اکثریت کے باوجود سیاسی اور معاشی محرومی گہری ہو چکی تھی۔ رچرڈ سنیڈن اپنی کتاب Understanding Pakistan میں واضح کرتے ہیں کہ ایوب خان کا صدارتی نظام مغربی پاکستان کے طاقتور بیوروکریٹک اور عسکری حلقوں کے مفادات کا محافظ تھاجبکہ مشرقی پاکستان کو محض عددی اکثریت کے باوجود فیصلہ سازی سے دور رکھا گیا۔ یہی وہ پس منظر تھا جس میں شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات سامنے آئے، جنہیں حسن ظہیر اپنی کتاب The Separation of East Pakistan میں مشرقی پاکستانی قوم پرستی کا آئینی اظہار قرار دیتے ہیں نہ کہ علیحدگی کی سازش۔

چھ نکات دراصل ایک وفاقی ڈھانچے کی مانگ تھے مگر ایوب خان کی حکومت نے انہیں ریاستی وحدت کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا۔ لارنس زائرنگ اپنی تصنیف Pakistan: The Enigma of Political Development میں لکھتے ہیں کہ ایوب خان کے قریبی عسکری مشیروں نے چھ نکات کو ’’وفاقی اصلاح‘‘ کے بجائے ’’کنفیڈریشن کی طرف پہلا قدم‘‘ قرار دیا حالانکہ اس تشریح کے حق میں کوئی آئینی یا تاریخی دلیل موجود نہ تھی۔ اسی خوف نے ریاست کو ایک ایسا بیانیہ گھڑنے پر مجبور کیا جس میں سیاسی اختلاف کو غداری کے مترادف بنا دیا گیا۔

1967 کے آخر میں جب عوامی لیگ مشرقی پاکستان میں ناقابلِ تردید عوامی قوت بن چکی تھی ریاستی اداروں نے فیصلہ کیا کہ سیاسی مقابلے کے بجائے قانونی اور عسکری دباؤ استعمال کیا جائے۔ حامد خان اپنی کتاب Constitutional and Political History of Pakistan میں لکھتے ہیں کہ اسی مرحلے پر خصوصی تفتیشی سیل قائم کیے گئے جنہوں نے مبینہ طور پر بھارتی خفیہ اداروں سے روابط کے الزامات جمع کیے حالانکہ ان میں سے زیادہ تر بیانات سنی سنائی باتوں اور دباؤ میں دی گئی گواہیوں پر مشتمل تھے۔

اگرتلہ سازش کیس کا باضابطہ اعلان جنوری 1968 میں ہوا جب حکومتِ پاکستان نے یہ دعویٰ کیا کہ شیخ مجیب الرحمن اور ان کے ساتھیوں نے بھارت کے شہر اگرتلہ میں پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت کی منصوبہ بندی کی۔ حسن ظہیر، جو اس وقت مشرقی پاکستان میں سول سروس میں تھے، اپنی کتاب میں صاف لکھتے ہیں کہ مقدمے کی تیاری میں کسی آزاد عدالتی معیار کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا اور زیادہ زور اس بات پر تھا کہ ایک ایسا ’’قابلِ فروخت‘‘ مقدمہ بنایا جائے جو عوامی لیگ کی اخلاقی ساکھ کو نقصان پہنچا سکے۔

ایوب خان کی حکومت نے اگرتلہ سازش کیس کی سماعت کے لیے ایک خاص صدارتی آرڈیننس کے ذریعے "خصوصی ٹریبونل" (Special Tribunal) قائم کیا جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے جسٹس ایس اے رحمان کر رہے تھے اور ان کے ہمراہ ڈھاکہ ہائی کورٹ کے دو جج جسٹس مجیب الرحمن خان اور   جسٹس مقسوم الحکیم بھی شامل تھے۔ اگرچہ تکنیکی طور پر یہ ایک سول ٹریبونل تھا مگر حامد خان اپنی کتاب Constitutional and Political History of Pakistan میں واضح کرتے ہیں کہ ڈھاکہ کینٹونمنٹ کے فوجی حصار میں سماعت پینتیس میں سے اٹھائیس ملزمان کا فوجی پس منظر اور گواہیاں جمع کرنے کے لیے تفتیشی اداروں کے سخت گیر طریقہ کار نے اس مقدمے کو عملاً ایک فوجی کارروائی (Military Proceeding) کی شکل دے دی تھی۔ عائشہ جلال کے مطابق ریاست کا یہ فیصلہ کہ سیاسی قیادت پر کینٹونمنٹ کے اندر مقدمہ چلایا جائے اس بات کا ثبوت تھا کہ ایوب انتظامیہ اس معاملے کو عوامی عدالت کے بجائے عسکری دباؤ کے ذریعے حل کرنا چاہتی تھی۔ وہ لکھتی ہیں کہ جب ریاست سیاست کو عدالت کے بجائے بیرک میں لے جائے تو انصاف کا تصور محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جاتا ہے۔اسی چیز نے بنگالی عوام میں یہ تاثر پختہ کر دیا کہ ان کے سیاسی حقوق کو فوجی طاقت سے کچلا جا رہا ہے۔

مقدمے کے ملزمان کی تعداد پینتیس تھی جن میں سول اور فوجی افسران بھی شامل تھے مگر اصل ہدف شیخ مجیب الرحمن تھے۔ جی ڈبلیو چوہدری جو بعد ازاں بنگلہ دیش کے وزیر دفاع بنے اپنی کتاب The Last Days of United Pakistan میں لکھتے ہیں کہ مقدمے کی تمام تر توجہ ایک فرد پر مرکوز کر دی گئی تاکہ بنگالی قوم پرستی کو ایک شخص کی غداری سے جوڑ دیا جائے حالانکہ تحریک اپنی جڑیں عوام میں رکھتی تھی۔

جوں جوں مقدمہ آگے بڑھا مشرقی پاکستان میں عوامی ردعمل شدید ہوتا چلا گیا۔ جلسے جلوسوں میں اگرتلہ کیس کو ’’جھوٹا مقدمہ‘‘ اور ’’سیاسی انتقام‘‘ قرار دیا گیا۔ رچرڈ سنیڈن کے مطابق یہ پہلا موقع تھا جب مشرقی پاکستان کی متوسط طبقے کی خاموش اکثریت بھی کھل کر ریاستی بیانیے کے خلاف کھڑی ہوئی۔ طلبہ، وکلا اور صحافیوں نے مقدمے کو پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کے خلاف سازش قرار دیا۔

حکومت کے لیے سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب سارجنٹ ظہورالحق، جو اس مقدمے کے ایک اہم ملزم تھے جیل میں مارے گئے۔ حسن ظہیر لکھتے ہیں کہ اس واقعے نے مقدمے کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا کیونکہ عوام نے اسے ریاستی تشدد کی علامت کے طور پر دیکھا۔ اس واقعے کے بعد احتجاجی تحریک نے فیصلہ کن شکل اختیار کر لی۔

عائشہ جلال کے مطابق ایوب خان اس مرحلے پر سیاسی طور پر تنہا ہو چکے تھے۔ مغربی پاکستان میں بھی ان کی مقبولیت گر رہی تھی اور مشرقی پاکستان میں تو ریاستی رٹ تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ وہ لکھتی ہیں کہ اگرتلہ کیس دراصل ایوب خان کی طاقت نہیں بلکہ ان کے خوف کی علامت بن چکا تھا۔

فروری 1969 میں بالآخر حکومت نے مقدمہ واپس لینے اور شیخ مجیب الرحمن کو رہا کرنے کا اعلان کیا۔ لارنس زائرنگ لکھتے ہیں کہ یہ فیصلہ قانونی نہیں بلکہ سیاسی مجبوری کے تحت کیا گیا کیونکہ ریاست کے پاس نہ تو قابلِ اعتبار شواہد تھے اور نہ ہی اتنی اخلاقی طاقت کہ وہ عوامی دباؤ کا مقابلہ کر سکتی۔

شیخ مجیب الرحمن کی رہائی کے بعد جو مناظر دیکھے گئے، وہ پاکستان کی تاریخ میں بے مثال تھے۔ حسن ظہیر کے مطابق انہیں ’’بنگلہ بندھو‘‘ کا خطاب اسی موقع پر ملا اور اگرتلہ کیس جو انہیں غدار ثابت کرنے کے لیے بنایا گیا تھا وہی مقدمہ انہیں عوامی ہیرو بنانے کا سبب بن گیا۔

اگرتلہ سازش کیس کا سب سے گہرا اثر یہ ہوا کہ مشرقی پاکستان کی اکثریت نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا کہ وفاقی پاکستان میں ان کے لیے انصاف کی کوئی گنجائش نہیں۔ حامد خان لکھتے ہیں کہ اس مقدمے نے آئینی جدوجہد کے دروازے بند کر دیے اور علیحدگی کے راستے کو عملی معنوں میں کھول دیا۔

یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اگر اگرتلہ سازش کیس نہ بنایا جاتا تو شاید تاریخ کا دھارا مختلف ہوتا۔ مگر جیسا کہ عائشہ جلال لکھتی ہیں، مسئلہ ایک مقدمہ نہیں بلکہ وہ ریاستی ذہنیت تھی جو اختلاف کو غداری اور سیاست کو بغاوت سمجھتی تھی۔ اگرتلہ کیس اسی ذہنیت کا منطقی انجام تھا۔

تاریخ کا سبق یہی ہے  کہ ریاستیں طاقت کے زور پر وقتی خاموشی تو مسلط کر سکتی ہیں مگر عوامی سچ کو ہمیشہ کے لیے دفن نہیں کر سکتیں۔ اگرتلہ سازش کیس تاریخ میں ایک ناکام مقدمہ نہیں بلکہ ایک کامیاب عوامی فیصلے کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے—ایک ایسا فیصلہ جس نے پاکستان کو اس کی سب سے بڑی جغرافیائی شکست کی طرف دھکیل دیا۔

 

30 دسمبر آل انڈیا مسلم لیگ کا یوم تاسیس: مسلم لیگ ایک پرُ اسرار سیاسی جماعت

30دسمبر 1906 کو ہندوستان کے مسلم عمائدین کی ایک بیٹھک میں مسلمانوں کی نمائیندگی کے لیے آل انڈیا مسلم لیگ کے نام سے ایک سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا۔ جماعت مقاصد میں برطانوی حکومت اپنی وفاداری کا یقین دلانا سب سے اہم تھا کیونکہ یہ ہی وہ مقصد ہے جس میں آخر دم تک تسلسل تھا۔

مولانا محمد علی جوہر نے دسمبر 1923 میں کاکیناڈا کے مقام پر اپنے طویل صدارتی خطبے میں شملہ وفد اور مسلم لیگ کے قیام کے پسِ پردہ محرکات پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے اس ملاقات کو انگریزوں کی سیاسی ضرورت قرار دیتے ہوئے جو الفاظ استعمال کیے وہ تاریخ میں محفوظ ہو گئے۔ ان کے خطبے کا وہ خاص حصہ درج ذیل ہے:

"ایک طویل عرصے سے یہ بات عام ہے کہ شملہ وفد ایک 'کمانڈ پرفارمنس' (Command Performance) تھا۔ یہ وفد مسلمانوں کے اپنے جوش و خروش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے وائسرائے کے عملے اور علی گڑھ کے انگریز پرنسپل (آرچ بولڈ) کی وہ کوششیں تھیں جو مسلمانوں کو سیاسی تحریکوں سے دور رکھنے اور انہیں ایک الگ بلاک بنانے کے لیے کی جا رہی تھیں۔"

اس حوالے سےسب سے حیران کن شہادت خود وائسرائے لارڈ منٹو کی اہلیہ  لیڈی میری کیرولن گرے(Mary Caroline Grey)  کی ڈائری جو انڈیا، منٹو اینڈ مارلے 1906-10 کے نام سے شائع ہوئی سے ملتی ہے۔ انہوں نے یکم اکتوبر 1906 کی اپنی ڈائری میں لکھا:

"آج ایک بہت بڑا واقعہ پیش آیا، جو کہ تاریخِ ہند میں طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ یہ 6 کروڑ 20 لاکھ لوگوں (مسلمانوں) کو باغی بننے سے روکنے کی ایک بڑی کوشش تھی۔" اسی شام ایک برطانوی افسر نے لیڈی منٹو کو خط لکھا جس میں اس نے اس وفد کو "A very big thing" اور برطانوی سفارت کاری کی بڑی کامیابی قرار دیا۔

اس کے علاوہ اس وقت کے برطانوی لیبر لیڈر اور مستقبل کے وزیر اعظم رامسے میکڈونلڈ نے اپنی کتاب "The Awakening of India" میں لکھا کہ: "برطانوی افسران نے خود مسلمان رہنماؤں کو اکسایا کہ وہ اپنے لیے جداگانہ حقوق کا مطالبہ کریں تاکہ ہندوؤں کی بڑھتی ہوئی قوم پرستی کے سامنے ایک وزن (Counterpoise) پیدا کیا جا سکے۔"

مشہور پاکستانی مورخ کے کے عزیز نے اپنی کتابوں میں اس پہلو پر تفصیلی بحث کی ہے۔ اگرچہ وہ اسے مکمل طور پر "کٹھ پتلی" تماشہ نہیں کہتے، لیکن وہ تسلیم کرتے ہیں کہ علی گڑھ کالج کے پرنسپل آرچ بولڈ نے پس پردہ رہ کر وائسرائے کے پرائیویٹ سیکرٹری ڈنلوپ اسمتھ کے ساتھ مل کر سارا تانا بانا بنا تھا۔

 ٹوکرولی ہولمز (T.R. Holmes) سمیت کچھ مغربی مورخین نے بھی یہ تسلیم کیا کہ لارڈ منٹو کو ایک ایسی سیاسی طاقت کی ضرورت تھی جو کانگریس کے شور کو کم کر سکے، اور شملہ وفد نے وہ ضرورت پوری کر دی۔

اس ضمن میں آرچ بولڈ  کا وہ خط بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے جو انہوں نے نواب محسن الملک کو لکھا انہوں نے لکھا :

"کرنل ڈنلوپ اسمتھ (وائسرائے کے پرائیویٹ سیکرٹری) سے میری بات ہوئی ہے، وائسرائے اس بات پر تیار ہیں کہ مسلمانوں کے ایک وفد سے ملاقات کریں تاکہ ان کے مطالبات سنے جا سکیں۔ اب آپ کو جلد از جلد ایک درخواست (Petition) تیار کرنی چاہیے جس پر معززین کے دستخط ہوں۔ اس میں وائسرائے کو وفاداری کا یقین دلایا جائے اور یہ مطالبہ کیا جائے کہ جہاں بھی انتخابی طریقہ کار رائج ہو (چاہے وہ بلدیاتی ہو یا کونسل کے لیے)، وہاں مسلمانوں کو ان کی عددی حیثیت کے مطابق نہیں بلکہ ان کی سیاسی اہمیت کے پیشِ نظر جداگانہ نمائندگی دی جائے۔ میں یہاں موجود ہوں اور میمورنڈم کی تیاری میں آپ کی ہر ممکن مدد کر سکتا ہوں۔"

آل انڈیا مسلم لیگ کی  اگلی  داستان  بھی نہایت دلچسپ ہے جس کے ساتھ نہایت ہی افسانوی حقائق جوڑے گئے ہیں۔ جیسا کہ علامہ اقبال کا سیاسی کردار، قرارداد پاکستان 1940کی تیاری، پنجاب میں مسلم لیگ کو جگہ بنا کر دینے کے لیے جناح اسکندر معاہدہ اور 1945 کے انتخابات کے لیے ووٹر کی اہلیت سمیت کئی ایسے پہلو ہیں جن پہ ہمارے ہاں بات نہیں کی جاتی۔ یہ سبھی پہلو علیحدہ علیحدہ تفصیل سے لکھے جانے لائق ہیں۔

دوسری طرف دو درجن کے قریب سیاسی جماعتوں میں آل انڈیا مسلم لیگ، آل انڈیا کیمونسٹ پارٹی اور جماعت احمدیہ ہی وہ تنظیمیں تھیں جو تقسیم ہندوستان کی قائل تھیں اس کے لیے ڈیڑھ درجن سے زائد مسلمانوں کی مذہبی اور سیکولر جماعتیں ایسی تھیں جو تقسیم ہندوستان اور قیام پاکستان کی مخالف تھیں۔

آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت بشمول محمد علی جناح سبھی سیکولر نظریات کے حامل تھے جن کا بنیادی مقصد ہندوستان کے مسلمانوں کے آئینی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی ضمانت کا حصول تھا لیکن آل انڈیا نیشنل کانگریس کی ہٹ دھرمی، عددی کثرت کا گھمنڈ اور سیاسی مخالفین کو کم سمجھنے کی غلطی نے مسلم لیگ کو تقسیم ہندوستان کی آپشن پہ کنوینس کر دیا

محض چند ہزار لوگوں کے ساتھ لاکھوں ہندوستانیوں پہ حکومت کرنے کے لیے انگریزوں نے ڈیوائڈ اینڈ رول کی پالیسی اختیار کی اس میں مسلم لیگ کئی بار استعمال بھی ہوئی۔ آخر پہ ہندوستان کو ایک خونی تقسیم سے گزار کر انگریز یہاں سے چلتا بنا تو یہ مسلم لیگ ہی تھی جس نے اپنے مستقبل کے دشمن کے لیے ماضی کے غاصب انگریز کی بجائے آزادی کی تحریک میں شریک سفر ہندوستان کا انتخاب کیا۔

قیام پاکستان کے بعد پاکستان کو ایک متوازن خارجہ پالیسی دینے کی بجائے امریکی گود میں بیٹھنے کا انتخاب بھی آل انڈیا مسلم لیگ کی پاکستانی قیادت ہی نے کیا تھا جس میں لیاقت علی خان نے ترلے منتیں کر کے شاہ ایران کی وساطت سے براستہ برطانیہ امریکی دعوت نامی منگوایا۔

آل انڈیا مسلم لیگ کو قیام پاکستان کے ساتھ ہی تحلیل کر دیا گیا تھا اس لیے بعد میں بننے والی کوئی بھی مسلم لیگ آل انڈیا مسلم لیگ کی لیگسی کو کلیم کر سکے۔ اب تو شائد حروف تہجی میں کوئی ہی حرف بچا ہو جس کے کے ساتھ مسلم لیگ نہ بنی ہو۔

Monday, 29 December 2025

ترقی کا جھوٹا بیانیہ: ایوب خان کے معاشی ماڈل میں طبقاتی استحصال

پاکستان کی معاشی تاریخ میں جنرل ایوب خان کا دورِ اقتدار ایک ایسے تضاد کی علامت بن چکا ہے جسے محض ترقیاتی اعداد و شمار کی روشنی میں نہ تو مکمل طور پر سراہا جا سکتا ہے اور نہ ہی سادہ الفاظ میں رد کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ عہد تھا جب ریاستی سطح پر اقتصادی نمو کے گراف آسمان کو چھو رہے تھے صنعتی پیداوار میں حیران کن اضافہ ہو رہا تھا اور عالمی ادارے پاکستان کو ترقی پذیر دنیا کے لیے ایک مثالی ریاست کے طور پر پیش کر رہے تھے۔ مگر اسی کے ساتھ ساتھ اسی ریاست کی سماجی بنیادوں میں ایسی دراڑیں پڑ رہی تھیں جو بعد ازاں قومی وحدت، طبقاتی ہم آہنگی اور معاشرتی انصاف کے تصور کو شدید نقصان پہنچانے کا باعث بنیں۔ ؎

معروف ماہرِ معاشیات محبوب الحق اپنی شہرۂ آفاق تصنیف The Strategy of Economic Planning میں اس دور کا نہایت باریک بینی سے تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ 1960 کی دہائی میں پاکستان کو ایشیا کا ابھرتا ہوا ''ٹائیگر'' قرار دیا جا رہا تھا اور ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔ اس زمانے میں مجموعی قومی پیداوار کی سالانہ شرحِ نمو چھ فیصد سے تجاوز کر چکی تھی جبکہ صنعتی شعبے میں یہ شرح بعض برسوں میں گیارہ فیصد سے بھی زیادہ رہی۔ بظاہر یہ تمام اعداد و شمار ایک کامیاب ریاستی منصوبہ بندی کی نشاندہی کرتے تھے مگر ان کے پس منظر میں کارفرما معاشی فلسفہ دراصل ایک ایسے تصور پر مبنی تھا جسے ٖFunctional Inequality کہا جاتا  ہے۔ اس تصور کے مطابق یہ مفروضہ تسلیم کر لیا گیا تھا کہ غریب طبقات چونکہ بچت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اس لیے قومی دولت کو دانستہ طور پر چند امیر اور بااثر طبقات میں مرتکز ہونے دیا جائے تاکہ وہ اسے صنعتی سرمایہ کاری میں لگا کر مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ کر سکیں۔ یہ فلسفہ بظاہر ترقی کا راستہ دکھاتا تھا مگر عملی طور پر اس نے ایک ایسی اشرافی معیشت کی بنیاد رکھی جس نے سماجی مساوات، معاشرتی انصاف اور عوامی شمولیت کے تمام امکانات کو کچل کر رکھ دیا اور پاکستان کے سماجی ڈھانچے کو ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار کر دیا۔

ایوب خان کے دور میں معاشی منصوبہ بندی کو پہلی مرتبہ ایک مضبوط ادارہ جاتی شکل دی گئی جس کا بنیادی مقصد نوآبادیاتی ورثے سے چھٹکارا حاصل کر کے پاکستان کو ایک جدید صنعتی ریاست میں تبدیل کرنا تھا۔ اگرچہ 1955 سے 1960 تک کا پہلا پانچ سالہ منصوبہ سیاسی عدم استحکام، حکومتی عدم تسلسل اور انتظامی کمزوریوں کے باعث اپنے اہداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا مگر ایوب خان نے اقتدار سنبھالتے ہی منصوبہ بندی کے پورے ڈھانچے کو ازسرِ نو ترتیب دیا۔ پلاننگ کمیشن کو براہِ راست صدر کے دفتر کے ماتحت کر دیا گیا جس کے نتیجے میں اسے غیر معمولی اختیارات اور فیصلہ سازی کی طاقت حاصل ہو گئی۔ 1960 سے 1965 تک جاری رہنے والا دوسرا پانچ سالہ منصوبہ بلاشبہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے کامیاب منصوبہ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس نے نہ صرف اپنے طے شدہ اہداف حاصل کیے بلکہ کئی شعبوں میں ان سے کہیں آگے نکل گیا۔ اس مرحلے پر ریاست نے معیشت میں براہِ راست کردار ادا کرنے کے بجائے خود کو ایک ’’سہولت کار‘‘ کے طور پر پیش کیا اور صنعتی ترقی کی قیادت نجی شعبے کے سپرد کر دی گئی۔ تاہم اس منصوبہ بندی کی بنیادی خامی یہ تھی کہ ترقی کا واحد پیمانہ مجموعی قومی پیداوار کو بنا لیا گیا جبکہ انسانی ترقی، تعلیم، صحت اور سماجی بہبود جیسے بنیادی شعبے ثانوی بلکہ غیر اہم قرار پائے۔ اس یک رخی ترقی نے ایک ایسی معیشت کو جنم دیا جو بظاہر مضبوط تھی مگر اندر سے کھوکھلی اور غیر متوازن تھی۔

صنعتی ترقی کے میدان میں ایوب خان کے دور کی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون درآمدی نعم البدل کی صنعت کاری کا ماڈل تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ اشیا جو بیرونِ ملک سے درآمد کی جاتی ہیں انہیں ملک کے اندر ہی تیار کیا جائے تاکہ زرمبادلہ بچایا جا سکے۔ مگر اس پالیسی کے نفاذ کا طریقہ کار نہایت جانبدارانہ اور طبقاتی مفادات کا اسیر تھا۔ خود محبوب الحق نے پلاننگ کمیشن کے ایک معروف مقالے Pakistan: How Twenty-Two Families Control the Economy میں اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کیا کہ ریاستی پالیسیاں شعوری طور پر سرمایہ کو چند مخصوص خاندانوں کے ہاتھوں میں منتقل کر رہی تھیں۔ ایکسپورٹ بونس اسکیم جیسے اقدامات نے صنعت کاروں کو زرمبادلہ پر غیر معمولی منافع کمانے کا موقع فراہم کیا، جبکہ ٹیکس ہالیڈیز، سستے سرکاری قرضے اور سبسڈیز نے صنعتی اشرافیہ کو بے مثال مراعات سے نوازا۔ پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے عوامی وسائل سے صنعتیں قائم کیں اور جب وہ منافع بخش ہو گئیں تو انہیں مخصوص سرمایہ داروں کے حوالے کر دیا گیا۔ نتیجتاً 1968 تک ملکی صنعت کے تقریباً 66 فیصد اثاثے اور بینکاری و انشورنس کے 80 فیصد سے زائد شعبے صرف بائیس خاندانوں کے کنٹرول میں آ چکے تھے۔ یہ محض دولت کا ارتکاز نہیں تھا بلکہ سیاسی طاقت بھی انہی ہاتھوں میں منتقل ہو چکی تھی جس کے باعث عام شہری کے لیے مساوی مواقع کا تصور محض ایک خواب بن کر رہ گیا۔

اس صنعتی ترقی کی چکاچوند کے پیچھے محنت کش طبقے کا شدید استحصال چھپا ہوا تھا۔ معروف ماہرِ معاشیات کیتھ گرفتھن اپنی کتاب Growth and Inequality in Pakistan میں واضح اعداد و شمار کے ساتھ ثابت کرتے ہیں کہ 1960 کی دہائی میں جہاں صنعتی منافع میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا وہیں مزدوروں کی حقیقی اجرتیں یا تو جمود کا شکار رہیں یا بعض صورتوں میں ان میں کمی واقع ہوئی۔ مارشل لا کے تحت ٹریڈ یونینز کو منظم انداز میں کچلا گیا۔ مزدوروں کو ہڑتال اور اجتماعی سودے بازی کے حق سے محروم کر دیا گیا اور ریاستی بیانیہ یہ بنا دیا گیا کہ کم اجرتیں سرمایہ کاری کو فروغ دیتی ہیں۔ مگر عملی طور پر اس پالیسی نے شہری غربت، کچی آبادیوں کے پھیلاؤ اور مزدور طبقے میں شدید احساسِ محرومی کو جنم دیا جو بعد ازاں ایوب مخالف عوامی تحریک کی ایک مضبوط بنیاد بن گیا۔

زرعی شعبے میں متعارف کرائے گئے سبز انقلاب کو بھی ریاستی پروپیگنڈے کے ذریعے ایک عظیم کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا مگر اس کے سماجی اثرات صنعتی پالیسیوں سے مختلف نہ تھے۔ حمزہ علوی اپنے مشہور مقالے The State in Post-Colonial Societies میں اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سبز انقلاب دراصل نیم جاگیردارانہ ڈھانچے کو جدید بنانے کی ایک کوشش تھی جس نے طبقاتی عدم مساوات کو مزید گہرا کر دیا۔ جدید بیج، کھاد، ٹریکٹر اور ٹیوب ویل صرف انہی بڑے زمینداروں کو میسر آئے جن کے پاس مالی وسائل اور سیاسی اثر و رسوخ موجود تھا۔ چھوٹے کسان اور بے زمین ہاری اس دوڑ سے باہر ہو گئے، جس کے نتیجے میں دیہی علاقوں میں زمین اور دولت کا ارتکاز بڑھا اور لاکھوں افراد روزگار کی تلاش میں شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے، جہاں انہیں صنعتی مزدوری کے نام پر مزید استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔

ایوب خان کے معاشی ماڈل کا ایک اور سنگین پہلو علاقائی عدم مساوات تھی، جس کا سب سے زیادہ خمیازہ مشرقی پاکستان کو بھگتنا پڑا۔ رحمان سبحان اپنی کتاب The Crisis of External Dependence میں تفصیل سے بیان کرتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کی پٹ سن سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ مغربی پاکستان کی صنعت کاری پر خرچ کیا جاتا رہا جبکہ ترقیاتی بجٹ، سرکاری ملازمتوں اور وسائل کی تقسیم میں مشرقی پاکستان کو مسلسل نظرانداز کیا گیا۔ اس معاشی ناانصافی نے دو معیشتوں کے تصور کو جنم دیا اور بنگالی عوام میں احساسِ محرومی کو اس حد تک بڑھا دیا کہ وہ بالآخر علیحدگی کی تحریک میں ڈھل گیا۔

اس تمام نام نہاد ترقی کی بنیاد داخلی وسائل کے بجائے غیر ملکی بیساکھیوں پر رکھی گئی تھی۔سابق گورنر اسٹیٹ بنک ڈاکٹر  عشرت حسین اپنی کتاب "Pakistan: The Economy of an Elitist State" میں رقم طراز ہیں کہ ایوب خان کا معاشی معجزہ بڑی حد تک امریکی امداد اور عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کا مرہونِ منت تھا۔ سرد جنگ کے تناظر میں پاکستان کو ملنے والی اس امداد نے وقتی طور پر تو جی ڈی پی کو سہارا دیا لیکن اس نے معیشت کو ایک ایسے ڈھانچے میں جکڑ دیا جو بیرونی انحصار اور درآمدی ٹیکنالوجی پر قائم تھا۔ 1950 کی دہائی تک پاکستان کا بیرونی قرضہ نہ ہونے کے برابر تھا مگر ایوب دور کے خاتمے تک پاکستان ایک 'قرض کی معیشت' بن چکا تھا۔ عشرت حسین کے مطابق، اس ماڈل نے ایک ایسی اشرافیہ کو جنم دیا جو پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بجائے سرکاری سرپرستی اور غیر ملکی امداد کے ٹکڑوں پر پلنے کی عادی ہوگئی جس کی قیمت آج بھی پاکستانی معیشت ادا کر رہی ہے۔

1965 کی پاک بھارت جنگ ایوب خان کے معاشی ماڈل کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ جنگ کے نتیجے میں دفاعی اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہوا جس نے ترقیاتی بجٹ کو بری طرح متاثر کیا۔ محبوب الحق کے تجزیے کے مطابق، جنگ کے بعد امریکہ نے پاکستان کی امداد روک دی جس سے معیشت کا وہ غبارہ پھٹ گیا جو بیرونی امداد کے سہارے پھولا ہوا تھا۔ تیسرے پانچ سالہ منصوبے (1965-70) کے اہداف بری طرح متاثر ہوئے، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنا شروع ہوئیں اور عوام میں بے چینی پھیلی۔ جنگ نے یہ ثابت کر دیا کہ ایک ایسی معیشت جو صرف بیرونی امداد پر کھڑی ہو وہ کسی بھی بڑے بحران کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔

ایوب خان کے دور میں اگرچہ صنعتی اور زرعی پیداوار بڑھی، لیکن سماجی ترقی (Social Development) کے اشاریے انتہائی مایوس کن رہے۔ ریاست کا سارا زور مادی ترقی پر تھا، جبکہ انسانی وسائل کو یکسر نظرانداز کیا گیا۔ لارنس زرنگ (Lawrence Ziring) کے مطابق، ایوب خان کے 'ایجوکیشن کمیشن' نے تعلیمی ڈھانچے کو صرف بیوروکریسی اور صنعت کاری کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جس سے تعلیم عام آدمی کی دسترس سے دور ہو گئی۔ صحت کے شعبے میں بھی یہی صورتحال تھی؛ بڑے شہروں میں ہسپتال تو بنے مگر دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولیات ناپید رہیں۔ اس پالیسی نے معاشرے میں ایک ایسی خلیج پیدا کر دی جہاں ایک طرف جدید تعلیم یافتہ مراعات یافتہ طبقہ تھا اور دوسری طرف جہالت اور بیماریوں میں گھرا ہوا عام آدمی۔

ایوب خان کے معاشی ڈھانچے کے انہدام کا وقت تب آیا جب معاشی تضادات سماجی بے چینی میں تبدیل ہو گئے۔ لارنس زرنگ (Lawrence Ziring) اپنی تاریخی دستاویز "Pakistan in the Twentieth Century" میں لکھتے ہیں کہ 1968 تک ایوب حکومت کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے پاکستان کو "ترقی کی دہائی" (Decade of Development) دی ہے ایک سنگین مذاق بن کر رہ گیا۔ چینی کے بحران، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور طلبہ و مزدوروں کے احتجاج نے ثابت کر دیا کہ اعداد و شمار کی ترقی عام آدمی کے دسترخوان تک نہیں پہنچتی تھی۔ لارنس زرنگ کے مطابق، ایوب خان کا زوال کسی بیرونی سازش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ اس معاشی ماڈل کی منطقی ناکامی تھی جس نے عوام کو ترقی کے عمل سے باہر رکھا تھا۔ جب 1968-69 کی عوامی تحریک چلی تو اس کی قیادت وہ لوگ کر رہے تھے جو اس معاشی نظام کے ستم رسیدہ تھے یعنی مشرقی پاکستان کے محروم عوام، پنجاب کے صنعتی مزدور اور سندھ کے بے زمین ہاری۔

اس لیے ایوب خان کا دورِ حکومت معاشی نمو کے لحاظ سے جتنا شاندار نظر آتا ہے سماجی انصاف کے معیار پر وہ اتنا ہی کھوکھلا ثابت ہوا۔ اگر ترقی کے ثمرات چند خاندانوں اور ایک مخصوص جغرافیائی خطے تک محدود ہو جائیں تو وہ ترقی پائیدار نہیں رہتی۔ ایوب خان کے معاشی ماڈل نے پاکستان کو ایک ایسی 'اشرافی ریاست' (Elitist State) بنا دیا جہاں پالیسیاں عوام کے لیے نہیں بلکہ خواص کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ اس دور نے پاکستان کو جی ڈی پی کے بلند اعداد و شمار تو دیے مگر اس کے ساتھ ساتھ طبقاتی کشمکش، علاقائی عصبیت اور بیرونی قرضوں کا ایک ایسا بوجھ بھی دیا جس سے ملک آج تک چھٹکارا حاصل نہیں کر سکا۔ حقیقی معاشی ترقی محض فیکٹریوں کی تعداد یا جی ڈی پی کے گراف میں نہیں، بلکہ عام شہری کی قوتِ خرید، مساوی تعلیمی مواقع اور وسائل کی منصفانہ تقسیم میں پنہاں ہوتی ہے، جس کا ایوب خان کے معاشی تصور میں مکمل فقدان تھا۔

 بالآخر یہی تضادات 1968-69 کی عوامی تحریک میں تبدیل ہوئے، جسے لارنس زرنگ پاکستان کی تاریخ میں ایوب خان کے معاشی ماڈل کی منطقی ناکامی قرار دیتے ہیں۔ یہ تحریک اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ محض اعداد و شمار کی ترقی عوام کو مطمئن نہیں کر سکتی۔ ایوب خان کا دور ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقی ترقی وہی ہوتی ہے جو سماجی انصاف، مساوی مواقع اور عوامی شمولیت پر مبنی ہو، ورنہ معاشی نمو محض ایک فریب ثابت ہوتی ہے جو بالآخر ریاست کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔

Sunday, 28 December 2025

گونگا نصاب: بہری نسلیں


نوٹ: یہ آرٹیکل سب سے پہلے28 دسمبر 2023 کو فیس بک پیج کے لیے لکھا گیا تھا یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔

 یہ واقعہ محض ایک تعلیمی تجربہ نہیں بلکہ ہمارے پورے تعلیمی بیانیے پر ایک سخت سوالیہ نشان ہے۔ ساٹھ گریجویشن کے طلبہ پر مشتمل ایک کلاس سے چار سوالات پر مبنی ایک مختصر کوئز لیا گیا۔ یہ وہ طلبہ تھے جو بارہ سال تک ریاستی طور پر منظور شدہ نصاب پڑھ چکے تھے اس قبل بھی  مطالعۂ پاکستان  نہ صرف پاس کر چکے تھے بلکہ  امتحانات میں نمبر لے چکے تھے اور اب ڈگری کے آخری مرحلے پر تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان ساٹھ میں سے صرف ایک طالب علم ایسا تھا جو چار میں سے صرف ایک سوال کا درست جواب دے سکا۔ یہ تجربہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ  یہی کوئز مزید چار کلاسز سے بھی لیا گیا جن میں ہر کلاس کے طلبہ کی تعداد چالیس سے بیالیس کے درمیان تھی مگر ان میں سے کسی ایک طالب علم کے بھی چاروں سوالات درست نہ نکل سکے۔

سوالات کسی تخصصی علم، باریک تاریخی بحث یا پیچیدہ سیاسی تجزیے سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ یہ وہ بنیادی معلومات تھیں جو کسی بھی باشعور پاکستانی شہری کو ازبر ہونی چاہئیں۔ سوال یہ تھا کہ

 پاکستان کے دوسرے وزیر اعظم اور گورنر جنرل کون تھے؟

پاکستان کے آخری گورنر جنرل اور پہلے صدر کا نام کیا تھا؟

 پاکستان کے پہلے وزیر قانون کون تھے؟ اور پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ کون تھے؟

ان سوالات میں نہ تو تاریخ کی کوئی گرہ تھی  نہ کسی اختلافی نکتے کی پیچیدگی۔ ان کا واحد مسئلہ یہ تھا کہ یہ بہت زیادہ آسان تھے اور شاید اسی لیے ہمارے تعلیمی نظام کے لیے شرمندگی کا باعث بن گئے۔

یہ اس حقیقت کا کھلا ثبوت ہے کہ مطالعۂ پاکستان کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھانے کی خواہش رکھنے والوں کو سب سے پہلے مطالعۂ پاکستان کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ بارہ سال مسلسل یہی مضمون پڑھنے کے بعد بھی اگر بچے یہ نہ جان سکیں کہ خواجہ ناظم الدین کون تھے، اسکندر مرزا کون تھے، جوگندر ناتھ منڈل اور چوہدری ظفراللہ خان نے اس ریاست کی بنیاد میں کیا کردار ادا کیا تو پھر یہ ناکامی بچوں کی نہیں بلکہ  نصاب کی ہے۔ یہ ناکامی اس بیانیے کی ہے جو تاریخ کو منتخب ٹکڑوں میں توڑ کر، کچھ ناموں کو ابھار کر اور کچھ کو مکمل طور پر مٹا کر پیش کرتا ہے۔

مطالعۂ پاکستان کے نام پر جو کچھ پڑھایا جا رہا ہے وہ تاریخ نہیں بلکہ ایک خاص ذہن سازی ہے۔ اس میں تاریخ کو چھپایا جاتا ہے، ادھورا بیان کیا جاتا ہے اور بعض اوقات دانستہ طور پر غلط پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے باشعور شہری نہیں بلکہ الجھی ہوئی، کنفیوز اور گمراہ نسلیں پیدا کر رہے ہیں۔ ایسی نسلیں جو نعرے تو یاد رکھتی ہیں مگر حقائق سے ناواقف ہوتی ہیں؛ جو جذبات تو رکھتی ہیں مگر فہم سے محروم ہوتی ہیں۔

مطالعۂ پاکستان کا ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہ بچوں کے ذہن میں یہ تاثر راسخ کرتا ہے کہ 1857 سے پہلے اس خطے کی کوئی تاریخ موجود ہی نہیں تھی، جیسے برصغیر اچانک ایک دن خلا سے نمودار ہوا ہو۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ خطہ کم از کم پانچ ہزار سال پرانی مسلسل تاریخ رکھتا ہے۔ موئن جو دڑو، ہڑپہ، ویدک عہد، بدھ مت کے ادوار، موریہ، گپتا، ہندو شاہی، دہلی سلطنت، مغل، سکھ اور برطانوی دور — یہ سب ایک تسلسل کا حصہ ہیں جنہیں سمجھے بغیر نہ تو پاکستان کو سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی خود کو۔

اسی لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ مطالعۂ پاکستان کو نصاب سے نکال کر تاریخ کو باقاعدہ مضمون کے طور پر شاملِ نصاب کیا جائے اور وہ بھی چھٹی جماعت سے۔ ایسی تاریخ جو واقعات کو ایک لڑی میں پروئے، جو سبب اور نتیجے کا رشتہ واضح کرے، جو صرف فتوحات اور شکستوں کا ذکر نہ کرے بلکہ سماجی، معاشی اور فکری تبدیلیوں کو بھی بیان کرے۔ بچوں کو یہ بتایا جائے کہ مسلم دورِ حکومت صرف ایک سنہری داستان نہیں تھا بلکہ اس میں عروج کے اسباب بھی تھے اور زوال کی وجوہات بھی جن پر سنجیدہ تجزیہ ناگزیر ہے۔

مسلم حکمرانوں کو محض ہیرو کے طور پر پیش کرنے کے بجائے انہیں تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے۔ یہ دیکھا جانا چاہیے کہ انہوں نے کہاں عدل کیا، کہاں ظلم ہوا، کہاں رواداری تھی اور کہاں تعصب۔ اس سے بچوں کے دل میں اندھی عقیدت کے بجائے فہم اور تنقیدی شعور پیدا ہوگا۔ تاریخ کا مقصد کردار سازی ہے بت تراشی نہیں۔

اسی طرح قیامِ پاکستان کے بعد کی تاریخ کو بھی صرف چند اسلامی دفعات تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے۔ آئین سازی، سیاسی بحران، فوجی مداخلتیں، مشرقی پاکستان کی علیحدگی، عدالتی فیصلے، آئینی ترامیم — یہ سب ہماری اجتماعی کہانی کا حصہ ہیں۔ ادھورا سچ، جیسا کہ کہا جاتا ہے، پورے جھوٹ سے بھی زیادہ مہلک ہوتا ہے، کیونکہ یہ انسان کو یہ گمان دے دیتا ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے حالانکہ وہ اصل تصویر سے محروم ہوتا ہے۔

یہ کوئز، اس کے نتائج اور ان طلبہ کی خاموشی دراصل ہمارے تعلیمی ضمیر کا امتحان ہے۔ اگر ہم واقعی ایک باشعور، ذمہ دار اور تاریخی شعور رکھنے والی قوم بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں نصاب، مضمون اور بیانیے تینوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ ورنہ آئندہ بھی گریجویشن کی کلاسوں میں ایسے ہی بچے بیٹھے ہوں گے جو اپنی ہی تاریخ کے بنیادی سوالوں کے سامنے لاجواب ہوں گے اور یہی لاجوابی کل ہماری قومی سمت کا تعین کرے گی۔


ایوب خان کے خلاف چلنے والی فقید المثال تحریک

  

تاشقند معاہدے کے بعد پاکستان کی سیاست نے جو رخ اختیار کیا اس نے نہ صرف ایک طاقتور صدارتی نظام کی بنیادیں ہلا دیں بلکہ ملک کو ایک نئے سیاسی دور میں داخل کر دیا جس کے روحِ رواں ذوالفقار علی بھٹو بنے۔ تاشقند معاہدے کے بعد پیدا ہونے والی عوامی بے چینی، ایوب خان کے خلاف ملک گیر تحریک اور بھٹو کے سیاسی عروج کا مطالعہ پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین ابواب میں سے ایک ہے۔ اس دور کے حقائق کو سمجھنے کے لیے ہمیں ان سیاسی و سماجی محرکات کا جائزہ لینا ہوگا جنہوں نے اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا تھا۔

تاشقند معاہدے سے واپسی پر ایوب خان کو جس عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا اس کی مثال پاکستان کی مختصر تاریخ میں پہلے نہیں ملتی تھی۔ عوام جو جنگ کے دوران حب الوطنی کے جذبے سے سرشار تھے تاشقند اعلامیے کو ایک قومی توہین سمجھ رہے تھے۔ ڈاکٹر صفدر محمود اپنی کتاب "Pakistan: Political Roots and Development" میں لکھتے ہیں کہ عوام کا غصہ اس لیے بھی زیادہ تھا کیونکہ سرکاری پروپیگنڈے نے انہیں یہ یقین دلا دیا تھا کہ پاکستان جنگ جیت چکا ہے لہٰذا تاشقند میں ہونے والی واپسی انہیں ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ اسی دوران ایوب خان اور ان کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان اختلافات کی خلیج واضح ہونے لگی۔ بھٹو جو ایک زیرک سیاست دان تھے بھانپ گئے تھے کہ ایوب خان کا سورج غروب ہو رہا ہے اور عوامی لہر کس سمت میں جا رہی ہے۔

جون 1966 میں ذوالفقار علی بھٹو نے وزارتِ خارجہ سے استعفیٰ دے دیا (یا انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا)۔ ان کی روانگی نے انہیں ایک "مظلوم ہیرو" بنا دیا جس نے مبینہ طور پر تاشقند میں ملک کے مفادات پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بھٹو نے اپنی سیاسی مہم کا آغاز کیا اور نومبر 1967 میں لاہور میں "پاکستان پیپلز پارٹی" کی بنیاد رکھی۔ بھٹو نے "روٹی، کپڑا اور مکان" کا نعرہ لگایا جس نے پاکستان کے غریب طبقے، کسانوں اور مزدوروں کو پہلی بار یہ احساس دلایا کہ کوئی ان کے حقوق کی بات کر رہا ہے۔ حامد خان اپنی کتاب "Constitutional and Political History of Pakistan" میں تجزیہ کرتے ہیں کہ بھٹو نے بڑی مہارت سے سوشلزم کو اسلام کے ساتھ جوڑ کر "اسلامی سوشلزم" کا تصور پیش کیا جس نے نوجوانوں اور دانشوروں کو اپنی طرف کھینچ لیا۔

ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک کا باقاعدہ آغاز نومبر 1968 میں ہوا جب راولپنڈی میں طلبہ کے ایک احتجاج پر پولیس کی فائرنگ سے ایک طالب علم جاں بحق ہو گیا۔ اس واقعے نے پورے ملک میں بارود کے ڈھیر کو چنگاری دکھا دی۔ طلبہ، مزدور اور عام شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ اس تحریک کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایوب خان، جنہوں نے چند ماہ قبل اپنی حکومت کی "ترقی کی دہائی" (Decade of Development) کا جشن منایا تھا اب اپنے ہی عوام سے چھپنے پر مجبور ہو گئے۔ الطاف گوہر اپنی تصنیف "Ayub Khan: Pakistan's First Military Ruler" میں اعتراف کرتے ہیں کہ ایوب خان اس تحریک کی وسعت اور شدت کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہے تھے۔

مغربی پاکستان میں جہاں بھٹو نے تحریک کو جلا بخشی، وہیں مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن کے "چھ نکات" نے ایوب حکومت کے لیے ناممکن حالات پیدا کر دیے۔ اگرچہ ایوب خان نے اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ بات چیت کے لیے "راؤنڈ ٹیبل کانفرنس" (RTC) بلائی لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ بھٹو اور مجیب الرحمن کے مطالبات اتنے سخت تھے کہ ایوب خان کے پاس ان کی منظوری کے لیے کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اسٹینلے وولپرٹ اپنی کتاب "Zulfi Bhutto of Pakistan" میں لکھتے ہیں کہ بھٹو نے اس وقت کسی بھی ایسے سمجھوتے سے انکار کر دیا تھا جو ایوب خان کو اقتدار میں رہنے کا موقع فراہم کرے۔

ایوب خان کے خلاف چلنے والی تحریک میں سب سے بنیادی اور مرکزی مطالبہ خود فیلڈ مارشل ایوب خان کا اقتدار سے فوری استعفیٰ تھا۔ مخالف سیاسی جماعتوں کا موقف تھا کہ 1958 میں نافذ کیا گیا مارشل لا نہ صرف غیر آئینی تھا بلکہ اس نے ریاست کے جمہوری ارتقا کو برسوں پیچھے دھکیل دیا۔ ان کے نزدیک ایوب خان کا اقتدار عوامی رضامندی کے بغیر قائم تھا اس لیے اس کا اخلاقی اور آئینی جواز ختم ہو چکا تھا اور ملک کو بحران سے نکالنے کا واحد راستہ ان کی رخصتی تھی۔

تحریک کے دوسرے اہم مطالبے کا تعلق فوجی مداخلت کے مکمل خاتمے سے تھا۔ سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق تھیں کہ فوج کا سیاست میں کردار پاکستان کی ریاستی ساخت کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ مستقبل میں کسی بھی صورت میں فوج کو اقتدار پر قبضے یا سیاسی فیصلوں میں مداخلت کا حق نہ دیا جائے اور سویلین بالادستی کو غیر مبہم طور پر بحال کیا جائے۔

مخالف قوتوں نے 1962 کے آئین کو بھی یکسر مسترد کیا۔ ان کے مطابق یہ آئین دراصل آمریت کو آئینی جواز فراہم کرنے کی ایک کوشش تھا جس میں صدر کو بے پناہ اختیارات دیے گئے اور پارلیمان کو محض نمائشی ادارہ بنا دیا گیا۔ بنیادی حقوق کو محدود کر کے شہری آزادیوں کو سلب کیا گیا اسی لیے مطالبہ کیا گیا کہ اس آئین کو منسوخ کر کے ایک نیا عوامی اور جمہوری آئین تشکیل دیا جائے۔

سیاسی جماعتوں کا ایک متفقہ مطالبہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر عام انتخابات کا انعقاد تھا۔ بنیادی جمہوریتوں کے نظام کو وسیع پیمانے پر عوامی رائے کے ساتھ دھوکہ تصور کیا گیا کیونکہ اس کے ذریعے اقتدار چند ہزار افراد تک محدود ہو جاتا تھا۔ اپوزیشن کا اصرار تھا کہ ایک فرد ایک ووٹ کے اصول پر براہ راست قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہی حقیقی نمائندگی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

اسی تناظر میں پارلیمانی جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا۔ مخالف جماعتوں کے نزدیک صدارتی نظام نے اقتدار کو ایک فرد کے ہاتھ میں مرکوز کر دیا تھا جس سے آمریت کو تقویت ملی۔ وہ ایک ایسے پارلیمانی نظام کے خواہاں تھے جس میں وزیراعظم عوامی نمائندوں کے سامنے جواب دہ ہو اور صدر کا کردار محض علامتی نوعیت کا ہو۔

مغربی پاکستان میں ون یونٹ کے خلاف شدید ردعمل تحریک کا اہم حصہ تھا۔ چھوٹے صوبوں کی سیاسی جماعتوں کا کہنا تھا کہ ون یونٹ کے ذریعے پنجاب کی عددی اور انتظامی بالادستی کو مسلط کیا گیا جس سے صوبائی شناختیں اور خودمختاری مجروح ہوئیں۔ اس لیے ون یونٹ کے خاتمے اور صوبوں کی اصل حیثیت کی بحالی کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

مشرقی پاکستان کی جماعتوں بالخصوص عوامی لیگ کے مطالبات میں صوبائی خودمختاری مرکزی حیثیت رکھتی تھی۔ ان کا موقف تھا کہ مرکز نے مالی، انتظامی اور معاشی اختیارات اپنے ہاتھ میں سمیٹ کر مشرقی پاکستان کو عملاً ایک نوآبادی بنا دیا ہے۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، زرِ مبادلہ پر مغربی پاکستان کی اجارہ داری اور فوج و بیوروکریسی میں بنگالیوں کی کم نمائندگی کو شدید ناانصافی قرار دیا گیا جس کے تدارک کا مطالبہ زور پکڑتا چلا گیا۔

معاشی میدان میں بھی ایوب خان کے خلاف شدید ناراضی پائی جاتی تھی۔ اپوزیشن جماعتوں نے ترقی کے سرکاری بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معاشی نمو کا فائدہ صرف چند مخصوص خاندانوں تک محدود رہا ہے۔ دولت کے ارتکاز، مزدوروں کے استحصال اور زرعی اصلاحات کی عدم موجودگی کے خلاف آواز بلند کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ معیشت کو عوامی فلاح کے اصولوں پر استوار کیا جائے۔

طلبہ تحریک نے اس احتجاجی لہر کو مزید وسعت دی۔ طلبہ تنظیموں نے تعلیمی فیسوں میں اضافے، تعلیمی اداروں میں ریاستی جبر اور طلبہ یونینز پر پابندیوں کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ تعلیم کو کنٹرول اور اطاعت کا ذریعہ بنانے کے بجائے تنقیدی شعور اور جمہوری اقدار کے فروغ کا وسیلہ بنایا جائے۔

اظہارِ رائے اور صحافت کی آزادی بھی تحریک کا اہم مطالبہ تھا۔ سیاسی جماعتوں اور صحافتی حلقوں نے پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس کو جبر کی علامت قرار دیا اور اخبارات پر عائد سنسرشپ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ ان کے نزدیک آزاد میڈیا کے بغیر جمہوریت محض ایک کھوکھلا نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔

سیاسی قیدیوں کی رہائی اور سیاسی مقدمات کے خاتمے کا مطالبہ بھی مسلسل دہرایا جاتا رہا۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے کو جرم بنا دیا گیا ہے اور ریاستی طاقت کو سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جو کسی بھی مہذب جمہوری معاشرے کے اصولوں کے منافی ہے۔

عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ عدالتوں پر صدارتی دباؤ، ججوں کی برطرفیاں اور آئینی ضمانتوں کی کمزوری کو قانون کی حکمرانی کے لیے خطرہ سمجھا گیا۔ اس لیے عدلیہ کو آزاد اور خودمختار بنانے کا مطالبہ تحریک کے ایجنڈے میں شامل رہا۔

خارجہ پالیسی کے میدان میں ایوب حکومت کی امریکہ نواز سمت پر بھی تنقید کی گئی۔ مخالف جماعتوں کا خیال تھا کہ SEATO اور CENTO جیسے فوجی اتحادوں نے پاکستان کو عالمی طاقتوں کے مفادات کا مہرہ بنا دیا ہے اس لیے ایک خودمختار اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی اپنائی جانی چاہیے۔

1965 کی جنگ کے بعد طے پانے والے تاشقند معاہدے پر بھی سخت سوالات اٹھائے گئے۔ اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ جنگی فیصلوں اور معاہدے کے پس پردہ حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں اور ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے کیونکہ عوام کو اعتماد میں لیے بغیر قومی فیصلے کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

مجموعی طور پر یہ مطالبات اس بات کی عکاسی کرتے تھے کہ ایوب خان کے خلاف تحریک محض اقتدار کی تبدیلی کی جدوجہد نہیں تھی بلکہ یہ پاکستان میں جمہوری، وفاقی اور عوام دوست ریاست کے قیام کی ایک ہمہ گیر کوشش تھی، جس نے بالآخر فوجی آمریت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔

اس تحریک کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ اس نے پہلی بار پاکستان میں بیوروکریسی اور فوجی آمریت کے گٹھ جوڑ کو چیلنج کیا۔ عوام نے محسوس کیا کہ "بنیادی جمہوریت" کا نظام دراصل ان کے سیاسی حقوق کو دبانے کا ایک حربہ تھا۔ ایوب خان کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں دولت چند خاندانوں (بائیس خاندانوں) میں سمٹ گئی تھی، جس نے معاشی ناہمواری کو جنم دیا۔ بھٹو نے اس معاشی محرومی کو اپنی تقریروں کا موضوع بنایا اور عوام کو یہ باور کرایا کہ ان کی غربت کی اصل وجہ ایوب خان کا سرمایہ دارانہ نظام ہے۔

بالآخر 25 مارچ 1969 کو ایوب خان نے عوامی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور استعفیٰ دے دیا۔ تاہم انہوں نے اپنے ہی بنائے ہوئے 1962 کے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقتدار قومی اسمبلی کے اسپیکر کے بجائے آرمی چیف جنرل یحییٰ خان کے حوالے کر دیا جس کے نتیجے میں ملک میں دوسرا مارشل لا نافذ ہو گیا۔ ایوب خان کی رخصتی اگرچہ ایک آمر کا خاتمہ تھا لیکن اس تحریک نے ذوالفقار علی بھٹو کو مغربی پاکستان کے سب سے بڑے سیاسی رہنما کے طور پر ابھارا۔

نتیجہ کے طور پر تاشقند کے بعد شروع ہونے والی یہ تحریک محض ایک احتجاج نہیں تھی بلکہ یہ پاکستان کے سیاسی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ تھی۔ بھٹو کا سیاسی عروج اس بات کی علامت تھا کہ اب پاکستان کی سیاست ڈرائنگ رومز اور بیوروکریسی کے دفاتر سے نکل کر گلیوں اور چوراہوں تک پہنچ چکی ہے۔ ایوب خان کی دس سالہ مستحکم حکومت کا اس طرح گرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ معاشی ترقی چاہے کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو اگر وہ سیاسی آزادی اور سماجی انصاف سے عاری ہو تو وہ عوامی غیظ و غضب کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

معاہدہ تاشقند : صدر ایوب خان کے زوال میں لگنے والی آخری کیل

پاکستان کی سیاسی اور سفارتی تاریخ میں "معاہدہ تاشقند" ایک ایسا باب ہے جس نے نہ صرف 1965 کی پاک بھارت جنگ کا خاتمہ کیا، بلکہ پاکستان کی داخلی سیاست میں ایک زبردست تلاطم برپا کر دیا۔ یہ معاہدہ، جو 10 جنوری 1966 کو سوویت یونین (موجودہ روس) کے شہر تاشقند میں صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری کے درمیان طے پایا، بظاہر امن کا پیغام تھا مگر اس کے بطن سے اٹھنے والے سیاسی طوفان نے بالآخر ایوب خان کے دس سالہ اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ اس معاہدے کے پس منظر، محرکات اور اس کے دور رس اثرات کو سمجھنے کے لیے معتبر سیاسی کتب اور اس دور کے عینی شاہدین کے بیانات کا تجزیہ ضروری ہے۔

1965 کی جنگ کے بعد جب اقوامِ متحدہ کی مداخلت پر جنگ بندی عمل میں آئی، تو دونوں ممالک کے درمیان تنازعات جوں کے توں برقرار تھے۔ اس صورتحال میں سوویت یونین نے ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی، جسے دونوں فریقین نے قبول کر لیا۔ ڈاکٹر صفدر محمود اپنی کتاب "Pakistan: Political Roots and Development" میں لکھتے ہیں کہ تاشقند کانفرنس کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا اور مقبوضہ علاقوں سے افواج کی واپسی کو یقینی بنانا تھا۔ کانفرنس کے دوران کئی روز تک تعطل برقرار رہا کیونکہ پاکستان کشمیر کے مسئلے پر ٹھوس پیش رفت چاہتا تھا جبکہ بھارت کا اصرار "عدم جارحیت" کے معاہدے پر تھا۔ بالآخر سوویت وزیراعظم الیکسی کوسیگن کی انتھک کوششوں سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا جسے "اعلامیہ تاشقند" کہا جاتا ہے۔

اس معاہدے کی اہم شقوں میں یہ طے پایا کہ دونوں ممالک اپنی افواج کو ان پوزیشنوں پر واپس لے جائیں گے جو 5 اگست 1965 سے پہلے ان کے پاس تھیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے، ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈہ روکنے اور سفارتی تعلقات کو دوبارہ بحال کرنے پر راضی ہو گئے۔ تاہم، اس معاہدے میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی واضح روڈ میپ موجود نہیں تھا، بلکہ صرف اتنا کہا گیا کہ دونوں فریقین اس مسئلے پر بات چیت جاری رکھیں گے۔ یہی وہ نکتہ تھا جس نے پاکستان کے اندر شدید غم و غصے کی لہر پیدا کر دی۔

تاشقند معاہدے کے سیاسی اثرات پر بحث کرتے ہوئے حامد خان اپنی تصنیف "Constitutional and Political History of Pakistan" میں لکھتے ہیں کہ پاکستانی عوام، جنہیں جنگ کے دوران یہ تاثر دیا گیا تھا کہ پاکستان فتح کے قریب ہے، اس معاہدے کو ایک "سفارتی شکست" سمجھنے لگے۔ عوام کا خیال تھا کہ جو جنگ میدانِ جنگ میں جیتی گئی تھی، وہ میز پر ہار دی گئی۔ اس عوامی غصے کو اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے بڑی مہارت سے استعمال کیا۔ بھٹو، جو معاہدے کے دوران ایوب خان کے ساتھ تھے، تاشقند سے واپسی پر خاموش رہے لیکن ان کی اس خاموشی نے ایوب خان کے خلاف ایک عوامی بیانیے کو جنم دیا کہ "تاشقند میں کوئی خفیہ سودا ہوا ہے"۔

الطاف گوہر، جو اس وقت ایوب خان کے قریب ترین مشیر تھے، اپنی کتاب "Ayub Khan: Pakistan's First Military Ruler" میں اس معاہدے کے دفاع میں لکھتے ہیں کہ ایوب خان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ جنگ کی طوالت پاکستان کی معیشت اور دفاعی صلاحیت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔ لیکن سیاسی طور پر یہ معاہدہ ایوب خان کے زوال کا نقطہ آغاز ثابت ہوا۔ بھٹو نے اسی معاہدے کو بنیاد بنا کر ایوب خان سے راہیں جدا کیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے "تاشقند کے راز" افشا کرنے کا نعرہ لگا کر ایوب خان کے خلاف ایک ایسی تحریک کھڑی کر دی جس نے ملک کے طول و عرض کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

مشرقی پاکستان کے حوالے سے اس معاہدے کے اثرات اور بھی زیادہ سنگین تھے۔ وہاں کے عوام نے محسوس کیا کہ 1965 کی جنگ کے دوران وہ دفاعی طور پر بالکل تنہا چھوڑ دیے گئے تھے اور تاشقند معاہدے نے ان کے تحفظات کو دور کرنے کے بجائے انہیں مزید غیر محفوظ بنا دیا۔ شیخ مجیب الرحمن نے اسی تناظر میں اپنے "چھ نکات" پیش کیے، جس نے پاکستان کی وحدت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے۔ مہرالنسا علی اپنی کتاب "Politics of Federalism in Pakistan" میں رقم طراز ہیں کہ تاشقند معاہدے نے مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان سیاسی بعد کو اس حد تک بڑھا دیا کہ پھر اسے کم کرنا ناممکن ہو گیا۔

تاشقند معاہدے کی ایک اور اہم جہت سوویت یونین کا جنوبی ایشیا کی سیاست میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ تھا۔ یہ پہلی بار تھا کہ امریکہ کے بجائے سوویت یونین نے خطے کے دو بڑے ممالک کے درمیان ثالثی کی تھی۔ اس معاہدے کے فوراً بعد بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری کا تاشقند میں ہی انتقال ہو گیا، جس نے اس تاریخی موقع کو مزید افسردہ اور یادگار بنا دیا۔ اسٹینلے وولپرٹ نے اپنی مختلف تحریروں میں اس واقعے کو جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک بڑا موڑ قرار دیا ہے جس نے خطے کی جیو پولیٹکس کو تبدیل کر دیا۔

نتیجہ کے طور پر، تاشقند معاہدہ پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسی دستاویز کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے جس نے بظاہر جنگ تو روک دی لیکن ملک کے اندر ایک ایسی سیاسی جنگ کا آغاز کر دیا جس کا اختتام ایوب خان کی رخصتی اور بالآخر سقوطِ ڈھاکہ پر ہوا۔ یہ معاہدہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ سفارتی فیصلے اگر عوامی امنگوں اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہ ہوں، تو وہ فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ ایوب خان کی سیاسی بصیرت یہاں مات کھا گئی کیونکہ وہ عوام کو اس معاہدے کی ضرورت اور اہمیت پر قائل کرنے میں ناکام رہے، اور یہی ناکامی ان کے سیاسی اقتدار کے خاتمے کا سبب بنی۔

Friday, 26 December 2025

فاطمہ جناح کا صدارتی الیکشن: منظم دھاندلی کا پہلا واقعہ جب افواج پاکستان نے مادر ملت غدار وطن قرار دیا

 

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں 1965 کے صدارتی انتخابات ایک ایسا سنگِ میل ہیں جس نے ملک کے مستقبل کا رخ متعین کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ یہ انتخابات صرف دو شخصیات کے درمیان مقابلہ نہیں تھے بلکہ دو مختلف نظریات—ایک طرف ایوب خان کی صدارتی آمریت اور دوسری طرف محترمہ فاطمہ جناح کی پارلیمانی جمہوریت—کے مابین ایک عظیم سیاسی معرکہ تھا۔ اس معرکے کی تفصیلات پس منظر اور اس کے اثرات کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس دور کی سیاسی حرکیات اور معتبر تاریخی حوالوں کا سہارا لینا پڑتا ہے جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان انتخابات نے پاکستانی عوام میں وہ سیاسی شعور بیدار کیا جو بعد ازاں 1969 کی عوامی تحریک کی بنیاد بنا۔

1965 کے انتخابات کا پس منظر 1962 کے اس آئین میں پوشیدہ ہے جسے فیلڈ مارشل ایوب خان نے ملک پر نافذ کیا تھا۔ اس آئین کے تحت براہِ راست عوامی انتخابات کے بجائے "بیسک ڈیموکریسی " (Basic Democracies) کا بالواسطہ نظام اپنایا گیا تھا۔ الطاف گوہر اپنی کتاب "Ayub Khan: Pakistan's First Military Ruler" میں لکھتے ہیں کہ ایوب خان کا خیال تھا کہ ان 80 ہزار بی ڈی ممبرز پر مشتمل الیکٹورل کالج کو کنٹرول کرنا آسان ہوگا اسی لیے وہ اپنی فتح کے بارے میں مکمل پرامید تھے۔ ایوب خان کے مقابلے میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے متحد ہو کر "کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز" (COP) تشکیل دی جس میں کونسل مسلم لیگ، عوامی لیگ، اور جماعت اسلامی جیسی متضاد نظریات رکھنے والی جماعتیں شامل تھیں۔ ان سب کا واحد نقطہِ اتحاد ایوب خان کی آمریت کا خاتمہ اور پارلیمانی نظام کی بحالی تھا۔

محترمہ فاطمہ جناح، جنہیں قوم مادرِ ملت کے لقب سے یاد کرتی تھی، سیاست سے کنارہ کش تھیں لیکن اپوزیشن کے اصرار پر انہوں نے 71 سال کی عمر میں جمہوریت کی بقا کے لیے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا امیدوار بننا ایوب خان کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا کیونکہ وہ بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ تھیں اور عوام کے دلوں میں ان کا احترام کسی بھی سیاسی عہدے سے بالاتر تھا۔ اسٹینلے وولپرٹ اپنی کتاب "Jinnah of Pakistan" کے ضمیمے میں تذکرہ کرتے ہیں کہ فاطمہ جناح کی مہم نے پورے ملک میں ایک آگ لگا دی تھی۔ ڈھاکہ سے لے کر کراچی تک، لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، جو اس بات کا ثبوت تھا کہ عوام براہِ راست حقِ رائے دہی اور سیاسی آزادی کے لیے تڑپ رہے ہیں۔

انتخابی مہم کے دوران ایوب خان اور ان کی حکومت نے ہر وہ حربہ استعمال کیا جس سے محترمہ فاطمہ جناح کی ساکھ کو متاثر کیا جا سکے۔ حکومت نواز اخبارات اور ریڈیو پاکستان کو یکطرفہ پراپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا۔ سب سے افسوسناک پہلو وہ مذہبی فتوے تھے جن کے ذریعے یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ اسلام میں عورت سربراہِ مملکت نہیں بن سکتی۔ انہیں انڈین اور امریکن ایجنٹ کہا، ان کی نجی زندگی کے حوالے سے ان کے قائد اعظم کے ساتھ تعلقات بھی گھٹیا انداز میں پیش کیا۔ اس حوالے سے مہرالنسا علی اپنی تصنیف "Politics of Federalism in Pakistan" میں لکھتی ہیں کہ سرکاری مشینری نے ان فتووں کو دیہی علاقوں میں بی ڈی ممبرز کو متنفر کرنے کے لیے استعمال کیا۔ دوسری طرف، محترمہ فاطمہ جناح نے اپنے خطابات میں ایوب خان کے دور کو "بدعنوانی اور جبر کا دور" قرار دیا اور وعدہ کیا کہ وہ اقتدار میں آکر 1956 کے آئین کو بحال کریں گی اور بیوروکریسی کے سیاسی عمل میں مداخلت کا خاتمہ کریں گی۔

صدارتی انتخاب کا دن 2 جنوری 1965 مقرر تھا۔ چونکہ ووٹ ڈالنے کا حق صرف 80 ہزار بنیادی ڈیموکریٹس کو حاصل تھا اس لیے حکومت کے لیے جوڑ توڑ کرنا بہت آسان تھا۔ جی ڈبلیو چوہدری اپنی کتاب "The Last Days of United Pakistan" میں انکشاف کرتے ہیں کہ ان انتخابات میں انتظامیہ اور پولیس کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ بی ڈی ممبرز کو دھمکایا گیا اور ان کے لیے مراعات کے وعدے کیے گئے۔ جب نتائج کا اعلان ہوا تو ایوب خان کو 49,951 ووٹ (تقریباً 63 فیصد) ملے جبکہ محترمہ فاطمہ جناح نے 28,691 ووٹ (تقریباً 36 فیصد) حاصل کیے۔ اگرچہ ایوب خان کامیاب قرار پائے لیکن بڑے شہروں جیسے کراچی اور ڈھاکہ میں فاطمہ جناح نے واضح برتری حاصل کی جس نے یہ ثابت کر دیا کہ ملک کا تعلیم یافتہ طبقہ اور سیاسی شعور رکھنے والے شہری آمریت کے خلاف ہیں۔

ان انتخابات کے نتائج نے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کے عوام میں مرکز کے خلاف شدید بے چینی پیدا کی۔ مشرقی پاکستان میں فاطمہ جناح کی مقبولیت نے ایوب خان کو یہ باور کرا دیا کہ ان کی جڑیں وہاں کمزور ہو رہی ہیں۔ حامد خان اپنی معتبر کتاب "Constitutional and Political History of Pakistan" میں تجزیہ کرتے ہیں کہ 1965 کے صدارتی انتخابات نے پاکستان کی سلامتی کے لیے پہلا بڑا خطرہ پیدا کیا کیونکہ عوام کا انتخابی عمل سے اعتماد اٹھ گیا۔ لوگوں نے محسوس کیا کہ جب تک "بالواسطہ انتخاب" کا نظام موجود ہے وہ کبھی بھی پرامن طریقے سے حکومت تبدیل نہیں کر سکیں گے۔ یہی وہ احساسِ محرومی تھا جس نے بعد میں شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات اور ایوب خان کے خلاف ملک گیر تحریک کو جنم دیا۔

محترمہ فاطمہ جناح ان انتخابات کے ڈھائی سال بعد وفات پا گئیں لیکن ان کی مختصر سیاسی مہم نے پاکستان کی جمہوری تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ ایک مضبوط فوجی حکمران کے سامنے بھی حق کی آواز بلند کی جا سکتی ہے۔ ایوب خان کے لیے یہ فتح دراصل ان کی سیاسی شکست کا آغاز ثابت ہوئی۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے بعد تاشقند معاہدے پر عوامی ردعمل اور پھر ان انتخابات میں کی گئی دھاندلی کے چرچوں نے ایوب خان کے وقار کو خاک میں ملا دیا۔ محققین کے مطابق اگر 1965 میں براہِ راست انتخابات ہوتے تو محترمہ فاطمہ جناح کی جیت یقینی تھی لیکن بی ڈی سسٹم نے ایک آمر کو مزید چند سالوں کے لیے اقتدار سے چمٹے رہنے کا موقع فراہم کر دیا۔

نتیجہ کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ 1965 کا صدارتی الیکشن پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ موڑ تھا جہاں ریاست اور عوام کے درمیان تعلق بری طرح متاثر ہوا۔ ایوب خان نے الیکشن تو جیت لیا مگر وہ عوامی تائید کھو بیٹھے۔ ان انتخابات نے یہ سبق دیا کہ عوامی مینڈیٹ کو جبری ہتھکنڈوں سے دبانے کا نتیجہ ہمیشہ سیاسی عدم استحکام کی صورت میں نکلتا ہے۔ آج بھی جب پاکستان میں انتخابی شفافیت کی بات ہوتی ہے تو 1965 کے ان واقعات کو ایک عبرت ناک مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو یہ یاد دلاتے ہیں کہ جمہوریت کی روح صرف ووٹ ڈالنے میں نہیں بلکہ اس ووٹ کے تقدس اور شفافیت میں پنہاں ہے۔