اگرتلہ سازش کیس : ایک جھوٹا مقدمہ، ایک سچی علیحدگی
اگرتلہ
سازش کیس پاکستان کی تاریخ کا وہ موڑ ہے جہاں ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا
رشتہ باضابطہ طور پر ٹوٹ گیا۔ یہ مقدمہ کسی ایک فرد کے خلاف نہیں بلکہ درحقیقت
مشرقی پاکستان کی اجتماعی سیاسی خواہشات کے خلاف قائم کیا گیا تھا۔ عائشہ جلال
اپنی شہرۂ آفاق کتاب The
State of Martial Rule: The Origins of Pakistan’s Political Economy of Defence میں لکھتی ہیں کہ ایوب خان کے دور میں ریاستی سلامتی کو جان
بوجھ کر قومی سیاست پر فوقیت دی گئی اور مشرقی پاکستان کی آئینی و جمہوری مطالبات
کو ’’سیکورٹی تھریٹ‘‘ میں تبدیل کر کے پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق یہی وہ ذہنی فریم
تھا جس کے اندر اگرتلہ سازش کیس نے جنم لیا۔
سن
1958 کے مارشل لا کے بعد ایوب خان کی حکومت کو سب سے بڑا چیلنج مشرقی پاکستان سے
درپیش تھا جہاں آبادی کی اکثریت کے باوجود سیاسی اور معاشی محرومی گہری ہو چکی
تھی۔ رچرڈ سنیڈن اپنی کتاب Understanding
Pakistan میں واضح کرتے ہیں کہ ایوب خان کا صدارتی نظام مغربی پاکستان
کے طاقتور بیوروکریٹک اور عسکری حلقوں کے مفادات کا محافظ تھاجبکہ مشرقی پاکستان
کو محض عددی اکثریت کے باوجود فیصلہ سازی سے دور رکھا گیا۔ یہی وہ پس منظر تھا جس
میں شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات سامنے آئے، جنہیں حسن ظہیر اپنی کتاب The Separation of East Pakistan میں مشرقی پاکستانی قوم پرستی کا آئینی اظہار قرار دیتے ہیں نہ
کہ علیحدگی کی سازش۔
چھ
نکات دراصل ایک وفاقی ڈھانچے کی مانگ تھے مگر ایوب خان کی حکومت نے انہیں ریاستی
وحدت کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا۔ لارنس زائرنگ اپنی تصنیف Pakistan: The Enigma of Political
Development میں لکھتے ہیں کہ ایوب خان کے قریبی عسکری مشیروں نے چھ نکات
کو ’’وفاقی اصلاح‘‘ کے بجائے ’’کنفیڈریشن کی طرف پہلا قدم‘‘ قرار دیا حالانکہ اس
تشریح کے حق میں کوئی آئینی یا تاریخی دلیل موجود نہ تھی۔ اسی خوف نے ریاست کو ایک
ایسا بیانیہ گھڑنے پر مجبور کیا جس میں سیاسی اختلاف کو غداری کے مترادف بنا دیا
گیا۔
1967
کے آخر میں جب عوامی لیگ مشرقی
پاکستان میں ناقابلِ تردید عوامی قوت بن چکی تھی ریاستی اداروں نے فیصلہ کیا کہ
سیاسی مقابلے کے بجائے قانونی اور عسکری دباؤ استعمال کیا جائے۔ حامد خان اپنی
کتاب Constitutional and Political History
of Pakistan میں لکھتے ہیں کہ اسی مرحلے پر خصوصی تفتیشی سیل قائم کیے گئے
جنہوں نے مبینہ طور پر بھارتی خفیہ اداروں سے روابط کے الزامات جمع کیے حالانکہ ان
میں سے زیادہ تر بیانات سنی سنائی باتوں اور دباؤ میں دی گئی گواہیوں پر مشتمل
تھے۔
اگرتلہ
سازش کیس کا باضابطہ اعلان جنوری 1968 میں ہوا جب حکومتِ پاکستان نے یہ دعویٰ کیا
کہ شیخ مجیب الرحمن اور ان کے ساتھیوں نے بھارت کے شہر اگرتلہ میں پاکستان کے خلاف
مسلح بغاوت کی منصوبہ بندی کی۔ حسن ظہیر، جو اس وقت مشرقی پاکستان میں سول سروس
میں تھے، اپنی کتاب میں صاف لکھتے ہیں کہ مقدمے کی تیاری میں کسی آزاد عدالتی
معیار کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا اور زیادہ زور اس بات پر تھا کہ ایک ایسا
’’قابلِ فروخت‘‘ مقدمہ بنایا جائے جو عوامی لیگ کی اخلاقی ساکھ کو نقصان پہنچا
سکے۔
ایوب خان کی حکومت نے اگرتلہ سازش کیس کی
سماعت کے لیے ایک خاص صدارتی آرڈیننس کے ذریعے "خصوصی ٹریبونل" (Special Tribunal) قائم کیا جس کی
سربراہی سپریم کورٹ کے جسٹس ایس اے رحمان کر رہے تھے اور ان کے ہمراہ ڈھاکہ ہائی
کورٹ کے دو جج جسٹس
مجیب الرحمن خان اور جسٹس مقسوم الحکیم بھی
شامل تھے۔ اگرچہ تکنیکی طور پر یہ ایک سول ٹریبونل تھا مگر حامد خان اپنی کتاب Constitutional and Political History of
Pakistan
میں
واضح کرتے ہیں کہ ڈھاکہ کینٹونمنٹ کے فوجی حصار میں سماعت پینتیس میں سے اٹھائیس
ملزمان کا فوجی پس منظر اور گواہیاں جمع کرنے کے لیے تفتیشی اداروں کے سخت گیر
طریقہ کار نے اس مقدمے کو عملاً ایک فوجی کارروائی (Military Proceeding) کی شکل دے دی تھی۔ عائشہ جلال کے
مطابق ریاست کا یہ فیصلہ کہ سیاسی قیادت پر کینٹونمنٹ کے اندر مقدمہ چلایا جائے اس
بات کا ثبوت تھا کہ ایوب انتظامیہ اس معاملے کو عوامی عدالت کے بجائے عسکری دباؤ
کے ذریعے حل کرنا چاہتی تھی۔ وہ
لکھتی ہیں کہ جب ریاست سیاست کو عدالت کے بجائے بیرک میں لے جائے تو انصاف کا تصور
محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جاتا ہے۔اسی چیز نے بنگالی عوام میں
یہ تاثر پختہ کر دیا کہ ان کے سیاسی حقوق کو فوجی طاقت سے کچلا جا رہا ہے۔
مقدمے
کے ملزمان کی تعداد پینتیس تھی جن میں سول اور فوجی افسران بھی شامل تھے مگر اصل
ہدف شیخ مجیب الرحمن تھے۔ جی ڈبلیو چوہدری جو بعد ازاں بنگلہ دیش کے وزیر دفاع بنے
اپنی کتاب The Last Days of United Pakistan میں لکھتے ہیں کہ مقدمے کی تمام تر توجہ ایک فرد پر مرکوز کر
دی گئی تاکہ بنگالی قوم پرستی کو ایک شخص کی غداری سے جوڑ دیا جائے حالانکہ تحریک
اپنی جڑیں عوام میں رکھتی تھی۔
جوں
جوں مقدمہ آگے بڑھا مشرقی پاکستان میں عوامی ردعمل شدید ہوتا چلا گیا۔ جلسے جلوسوں
میں اگرتلہ کیس کو ’’جھوٹا مقدمہ‘‘ اور ’’سیاسی انتقام‘‘ قرار دیا گیا۔ رچرڈ سنیڈن
کے مطابق یہ پہلا موقع تھا جب مشرقی پاکستان کی متوسط طبقے کی خاموش اکثریت بھی
کھل کر ریاستی بیانیے کے خلاف کھڑی ہوئی۔ طلبہ، وکلا اور صحافیوں نے مقدمے کو
پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کے خلاف سازش قرار دیا۔
حکومت
کے لیے سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب سارجنٹ ظہورالحق، جو اس مقدمے کے ایک اہم
ملزم تھے جیل میں مارے گئے۔ حسن ظہیر لکھتے ہیں کہ اس واقعے نے مقدمے کی ساکھ کو
ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا کیونکہ عوام نے اسے ریاستی تشدد کی علامت کے طور پر
دیکھا۔ اس واقعے کے بعد احتجاجی تحریک نے فیصلہ کن شکل اختیار کر لی۔
عائشہ
جلال کے مطابق ایوب خان اس مرحلے پر سیاسی طور پر تنہا ہو چکے تھے۔ مغربی پاکستان
میں بھی ان کی مقبولیت گر رہی تھی اور مشرقی پاکستان میں تو ریاستی رٹ تقریباً ختم
ہو چکی تھی۔ وہ لکھتی ہیں کہ اگرتلہ کیس دراصل ایوب خان کی طاقت نہیں بلکہ ان کے
خوف کی علامت بن چکا تھا۔
فروری
1969 میں بالآخر حکومت نے مقدمہ واپس لینے اور شیخ مجیب الرحمن کو رہا کرنے کا
اعلان کیا۔ لارنس زائرنگ لکھتے ہیں کہ یہ فیصلہ قانونی نہیں بلکہ سیاسی مجبوری کے
تحت کیا گیا کیونکہ ریاست کے پاس نہ تو قابلِ اعتبار شواہد تھے اور نہ ہی اتنی
اخلاقی طاقت کہ وہ عوامی دباؤ کا مقابلہ کر سکتی۔
شیخ
مجیب الرحمن کی رہائی کے بعد جو مناظر دیکھے گئے، وہ پاکستان کی تاریخ میں بے مثال
تھے۔ حسن ظہیر کے مطابق انہیں ’’بنگلہ بندھو‘‘ کا خطاب اسی موقع پر ملا اور اگرتلہ
کیس جو انہیں غدار ثابت کرنے کے لیے بنایا گیا تھا وہی مقدمہ انہیں عوامی ہیرو
بنانے کا سبب بن گیا۔
اگرتلہ
سازش کیس کا سب سے گہرا اثر یہ ہوا کہ مشرقی پاکستان کی اکثریت نے یہ نتیجہ اخذ کر
لیا کہ وفاقی پاکستان میں ان کے لیے انصاف کی کوئی گنجائش نہیں۔ حامد خان لکھتے
ہیں کہ اس مقدمے نے آئینی جدوجہد کے دروازے بند کر دیے اور علیحدگی کے راستے کو
عملی معنوں میں کھول دیا۔
یہ
کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اگر اگرتلہ سازش کیس نہ بنایا جاتا تو شاید تاریخ کا دھارا
مختلف ہوتا۔ مگر جیسا کہ عائشہ جلال لکھتی ہیں، مسئلہ ایک مقدمہ نہیں بلکہ وہ
ریاستی ذہنیت تھی جو اختلاف کو غداری اور سیاست کو بغاوت سمجھتی تھی۔ اگرتلہ کیس
اسی ذہنیت کا منطقی انجام تھا۔
تاریخ
کا سبق یہی ہے کہ ریاستیں طاقت کے زور پر
وقتی خاموشی تو مسلط کر سکتی ہیں مگر عوامی سچ کو ہمیشہ کے لیے دفن نہیں کر سکتیں۔
اگرتلہ سازش کیس تاریخ میں ایک ناکام مقدمہ نہیں بلکہ ایک کامیاب عوامی فیصلے کے
طور پر یاد رکھا جاتا ہے—ایک ایسا فیصلہ جس نے پاکستان کو اس کی سب سے بڑی
جغرافیائی شکست کی طرف دھکیل دیا۔








