Friday, 22 August 2025

وہ الفاظ جو کام کر جاتے ہیں


 یہ کالم پہلی بار 5 مئی 2021 کو فیس بک پیج کے لیے لکھا گیا۔ یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔ 

امریکی ماہر نیورو لینگو یسٹک اینڈ ہیپناٹزم فرینک لونٹز کی کتاب ورڈز دیٹ ورکس انتہائی شاندار کتاب ہے ۔ اسے ہمارے ہاں پرائمری سطح پہ شامل نصاب ہونا چاہیے ۔ والدین کو اس کتاب کا مطالعہ لازمی کرنا چاہیے یہ بچوں کی نفسیات اور ان کے رویوں میں آنے والی تبدیولیوں کا بہترین تجزیہ ہے ۔ یوں تو بچے عموماً شرارتی ہوتے ہیں لیکن بعض بچے بے حد ضدی بھی ہوتے ہیں جن سے کوئی کام کرانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہوتا ہے تاہم ہارے کا کہنا ہےکہ اگر بچے کہنا نہ مانتے ہوں تو ان سے الفاظ تبدیل کرکے اپنی مرضی سے کام لیا جاسکتا ہے۔اس کے مطابق الفاظ کا انداز بچوں کو فرمانبردار بناسکتا ہے اور اس کے ذریعے وہ کوئی بھی کام کرسکتے ہیں۔ اور وہ بچوں کے رویوں سے پریشان والدین کے لیے یہ تجاویز پیش کرتی ہیں جنہیں آزمانے میں کوئی ہرج نہیں۔ سائنسی پیمانے پر ثابت یہ الفاظ بچوں پر اثر کرتے ہیں مثلاً ’ مت کرو‘ کی جگہ ’ شکریہ‘ کہہ کر بچوں کو کوئی حکم دیا جائے تو اس کا فوری اثر ہوگا۔

’’ناں‘‘ کی جگہ ’’ہاں‘‘ منفی کی جگہ مثبت:

اپنا کمرہ گندا مت کرو‘‘ اور یہ ’’نہ کرو اور وہ نہ کرو‘‘ کی بجائے مثبت جملے استعمال کیے جائیں جو بچوں پر جادو کی طرح اثر کرتے ہیں کیونکہ انکاری جملے بچوں پر منفی اثر ڈالتے ہیں اس لیے اس کی بجائے بچوں سے کہیں کہ ،چلو کمرہ صاف کرتے ہیں، جوتے اسٹینڈ پر رکھتے ہیں اور کھلونے الماری میں۔‘ یہ جملے بچے پر مثبت اثر ڈالیں گے اور وہ عمل کرنے لگیں گے۔بچوں کے بہت سے انتخابات پیش کیجئے:روزانہ مائیں بچوں کو یہ کہتی ہیں، ’ جلدی کرو اسکول یونیفارم پہنو،‘ اور یہ جملہ بچوں پر اثر نہیں کرتا اس کی جگہ بچوں کے سامنے بہت سے انتخاب پیش کریں، مثلاً آج اسکول میں کھانے کے لیے کیا لے جاؤ گے یا نیا یونیفارم پہنوگے یا پرانا والا۔ اور بچوں سے اس کو سوالیہ انداز میں پیش کریں اس طرح کے جملے بچوں پر بہت اچھا اثر ڈالتے ہیں۔اسی طرح بچوں کو ہوم ورک کرانے کے لیے بھی چوائس پیش کریں، مثلاً کیا تم پہلے اردو کا کام کروگے یا اپنے ہفتہ وار پروجیکٹ کرنا چاہوگے۔ ان الفاظ سے بچے ذہنی طور پر کام کے لیے تیار ہوجاتے ہیں اسی طرح کھانا کھلانے کے لیے بچوں سے معلوم کرنے کی بجائے ان کے سامنے بہت سے کھانوں کے آپشن رکھیں۔

’’ کب‘‘ کا استعمال:

ماہرین کے مطابق ’’کب‘‘ کا لفظ اگر درست طور پر استعمال کیا جائے تو وہ ایک اہم قوت رکھتا ہے۔ والدین بچوں کے لیے اس لفظ کو درست جگہ استعمال کرکے اہم کام لے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ،تم اپنا ہوم ورک کب ختم کروگے، ہمیں کھانا کھانا ہے یا ، یا جب تم یہ کام کرلوگے تو ہم باہر چکر لگانے چلیں گے۔ اس جملے میں بچے کے لیے ایک کام ہے اور ایک پرکشش تفریح۔ اچھے سیلزمین بھی ان ہی جملوں کو استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح بچوں کو اسکول کا کام کرواتے وقت یہ کہیں کہ ’ جب تم سبق یاد کرلوگے تو تمہیں خود ہی احساس ہوجائے گا کہ یہ کتنا آسان کام تھا۔‘

والدین اور بچوں کے درمیان زبان کا رشتہ:

درست زبان استعمال کرکے اپنے اور بچے کے درمیان سمجھ بوجھ کا ایک مضبوط رشتہ بنائیں۔ بچوں سے اس طرح کے جادوئی جملے کہیں کہ’’ میں تمہاری طرح یہ سمجھ سکتا یا سکتی ہوں کہ کتنے سارے کام ہیں‘‘ یا ’’ تم میرے جیسے ہواور یہ جان سکتے ہوکہ ہوم ورک کرنا کتنا آسان ہے۔‘‘ میرے جیسا یا تمہارے جیسا لفظ بچے کا حوصلہ بڑھاتے ہیں اور وہ کام پر آمادہ ہوتا ہے۔
’شکریہ کا لفظ پہلے ادا کریں نہ کہ بعد میں
بچے اپنے والدین کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور وہ اس کی پذیرائی بھی چاہتے ہیں۔ اس لیے اگلی مرتبہ بچوں کو ہاتھ دھونے، ٹی وی بند کرنے یا پانی دینے سے قبل ’شکریہ‘ کا لفظ کہیں جس سے وہ عمل کی جانب راغب ہوتے ہیں اور کام کرتے ہیں۔
ہر کام کی وجہ بیان کریں:
بچے تجسس رکھتے ہیں اور ہرکام کی وضاحت چاہتے ہیں اس لیے ان میں ایک حد تک کاموں کی سمجھ پیدا کرنا ضروری ہے۔ اسی لیے کوئی بھی کام کروانے سے قبل بچوں کو اس کی مختصر وجہ بیان کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مثلاً اس ماہ کپڑے نہیں خرید سکتے کیونکہ ایک بڑا خرچ سامنے آگیا ہے۔ اس سے بچہ مطمئن ہوجاتا ہے۔
’سنو‘ اور ’اگرسوچو‘ جیسے جملے:
بچوں کو کام کی تحریک دینے والے طاقتور الفاظ میں سے 2 تو الفاظ ہیں ’سنو‘ اور ’ ذرا سوچو تو‘۔ مثلاً سنو ہمیں یہ کام کرنا ہے کیونکہ نہ ہونے کی صورت میں یہ نقصان ہوسکتا ہے یا ’ اگر سوچو توکہ ہوم ورک کرلوگے تو کتنا اچھا ہوگا۔‘ ایسے جملے بچوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اس طرح آپ ان سے کوئی بھی کام کرواسکتےہیں۔
بچوں کا شکایتی لہجہ:
بہت سے بچے والدین سے ہر معاملے کی شکایت کرتے ہیں اس کا ایک حل یہ ہے کہ آپ ان کی وہی شکایت ان پر دوبارہ لوٹا دیں لیکن اس میں اس کا حل ہو اور وہ بھی بہت مؤثر انداز میں پیش کیا جائے۔ اگر بچہ کہے کہ گرمی لگ رہی ہے تو آپ کہیے، ’ اوہ! تو آپ کو قدرے ٹھنڈ چاہیے تو اس کے لیے کھڑکی کھول دیتے ہیں یا اپنی جیکٹ اتار دو۔ ‘ آپ دیکھیں کہ اس طرح بار بار شکایت کرنے والا بچہ مطمئن ہوکر خاموش ہوجائے گا ۔

Wednesday, 20 August 2025

پاکستان کا آخری حفیظ کاردار


یہ کالم پہلی بار 20 اگست 2016 کو پاکستان کے پہلی بار نمبر ون ٹیم بننے کے موقعہ پہ کپتان مصباح الحق کو اخراج عقیدت پیش کرنے کے لیے لکھا تھا آج یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہاہے۔

پاکستان نے 1952 میں انڈیا کے خلاف فیروزشاه کوٹلہ میں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔ پاکستان سے قبل انگلینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز، انڈیا اور ساوتھ افریکا کے پاس  ٹیسٹ کر کٹ کھیلنے کا آئی۔سی۔سی کا پرمنٹ تھا۔ پاکستان اس وقت کرکٹ کے میدان میں بے.بی آف کرکٹ کا درجہ تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے عبدالحفیظ کاردار کو ٹیم کا کپتان مقرر کیا۔ وه اس سے قبل متحده ہندوستان کی طرف سے 1946 میں ٹیسٹ ڈیبو کر چکے تھے۔ ایک ایسی ٹیم جس کے پاس وسائل نہیں تھے, گراونڈز نهیں تھیں  کوچز کو ہائر کرنے کے لیے کوئی پیسے نہیں تھے ۔یہاں تک  کہ کھلاڑی تک پورے نہیں تھے۔ ایک ہی خاندان سے دو تین بھائی کھلا کے کھلاڑی پورے کیے۔ اور ٹیم کو دنیا کے ٹور پہ بھیج دیا۔ اس نئی ٹیم نے انڈیا کو انڈیا میں ہرایا،  انگلینڈ جو کہ کرکٹ کا ہوم ہے اس کے ساتھ اپنے پہلے ہی سیریز میں ایک ایک کے ساتھ برابر کھیلا۔  آسٹریلیا کے خلاف پہلا میچ پہلی سیریز میں نہ صرف جیتا بلکہ سیریز بھی جیت لی۔ ویسٹ انڈیز جس کی طوفانی بولنگ کھیلنا کسی بھی ٹیم کے لیے ڈراونا خواب سے کم نہ ہوتا تھا اسے ویسٹ انڈیز میں ہرا دیا۔

یہ  سب کچھ عبدالحفیظ کاردار کے متحرک نڈر اور جارحانہ قیادت کی بدولت تھا۔ جس میں حنیف محمد، فضل محمود ، نزد محمد، وقار حسن جیسے معمولی کھلاڑی غیر معمولی پرفارمنس دینے لگے۔ جس مقام کو ٹیموں نے کئی عشرے کرکٹ کھیل کر حاصل کیا وه مقام حفیظ کاردار نے پاکستان کو اپنی 6 سالا قیادت میں ممکن کر دیا۔ پاکستان نے اس وقت کی ہر ٹیم کو اپنی پہلی پہلی سیریز میں شکست دے کر ناقابل شکست ریکارڈ بنایا۔

پھر یوں ہوا کہ پاکستان میں کرکٹ پہ پابندی لگ گئی۔ پاکستان کی ٹیم میں سرکردا  کھلاڑی میچ فکسنگ کے جرم میں پانچ سال کے لیے باہر ہو گئے کوئی ایسا کھلاڑی نہیں تھا جس پہ بھروسہ کیا جاتا۔ بورڈنے ایک ایسے کھلاڑی کو کپتان مقرر کر دیا جس ٹیم میں جگہ نہیں تھی۔ جس نے 1999 میں اپنا ڈیبیو کیا اور اسے کھیلتا دیکھ کر دنیاے کرکٹ کے نامور مبصر جیفری بائیکاٹ نے کہا  کہ یہ شخص ایک کروڑ سال بعد بھی کھلنے قابل نہیں ہو سکتا۔

اس ڈی مورالائزڈ ٹیم کی قیادت عبد الحفیظ کی ٹیم کی قیادت سے کچھ مختلف نہ تھی۔ کھلاڑی کھلنے اترتے تو تماشائی انہیں  فکسرز کہتے کوئی عزت دینے کو تیار نہ تھا۔مصباح الحق کی قیادت میں پہلے 6 برسوں میں ایک بار ٹیم کو هوم گراونڈ پہ کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔ مگر اس ٹیم نے آسٹریلیا،  ساوتھ افریقا،  سری لنکا،  نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز،  انگلینڈ  اور بنگلا دیش سمیت ہر ٹیم کو ملک سے باہر ره کر سیریز پہ سیریز ہرائی اور آج 1952 میں عبد الحفیظ کاردار کا شروع کیا ہوا مشن مکمل ہوا۔ کیونکہ  انڈیا ویسٹ انڈیز کا تیسرا میچ بارش کی نظر ہونے پر پاکستان پہلی بار دنیا کی نمبر ون ٹیم ڈیکلیر ہو گی۔  یہ وه ٹیم ہے جس کے پاس فضل محمود ،عمران خان ،سرفراز نواز، وسیم اکرم اور وقار یونس جیسیا بولر نہیں تھا جو مخالف ٹیم کو ہلا کر رکھ دے ۔مصباح کے پاس حنیف محمد، ظہیر عباس، جاوید میانداد اور انضمام جیسا کوئی بیٹسمین بھی نہیں تھا جو مخالف بولز کے سامنے دیوار بن جاتا۔ مصباح نے کامیابی کی نئی تاریخ رقم کی ہے اس ایک ہی اصول ہے رکا رہا،  لگا رہا اور جیت گیا۔ مصباح نے اس سفر میں مسٹر ٹک ٹک کا طعنہ بھی برداشت کیا لیکن اس نے مخالفوں کو جواب زبان سے نہیں دیا بلکہ اپنی کارکردگی سے دیا۔.اس نے ثابت کیا کہ کل جیفری بائیکاٹ بھی غلط تھا اور آج مسٹر ٹک ٹک کہنے والے بھی۔ کامیابی کا ایک ہی اصول ہے لگن محنت اور مستقل مزاجی کامیابی کو آپ تک ضرور آئے گی۔

ویلڈن مصباح  الحق 

نجم سیٹھی آپ کا شکریہ

یہ  کالم پہلی بار 20 جون 2017 کو پاکستان کے ورلڈ چیمپین شپ  جیتنے کے موقعہ پہ فیس بک کے لیے لکھا تھا یہاں نشر مکر ر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔ 

نجم سیٹھی پاکستان کی بہت ہی منفرد شخصیت ہیں جن ک زندگی مختلف نوعیت واقعات سے ایسے بھری ہوئی ہے کہ انسان دنگ راہ جائے۔ وہ ایک کامیاب انسان ہیں ۔وہ اس وقت The Friday Timesکے ایڈیٹر انچیف ہونے کے ساتھ ساتھ جیو نیوز پہ ایک سیاسی پروگرام آپس کی بات بھی ہوسٹ کر رہے ہیں ۔ لیکن اس وقت ان کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے منسلک ہونا ہے۔ وہ پنجاب میں نگران حکومت کے سربراہ بھی رہے جس کی وجہ سے عمران خان نے ان پہ 35پنکچروں کا الزام بھی عائد کیا مگر عدالت میں وہ الزام ثابت نہ ہو سکا ۔ اس کے باوجود عمران خان کی طرف سے نجم سیٹھی کو ہدف تنقید بنانا ایک معمول کی بات ہے۔وہ نجم سیٹھی کو پاکستان کی کرکٹ کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور بار بار یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ کرکٹ کے معاملات کرکٹر کے ہاتھ میں دیے جائیں ۔انڈیا کے خلاف آئی۔ سی۔ سی۔ٹرافی کے پہلے میچ میں شکست کے بعد ایک ٹی وی انٹر ویو میں انھوں نے شکست کی ذمہ داری نجم سیٹھی پہ ڈالتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ نجم سیٹھی سے کہیں کہ خود پیڈز پہن کر کھلنے جائے۔

نجم سیٹھی نے تقریباساڈھے چار برس قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات سنبھالے تو اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ ابتری کی آخری حدوں پہ تھا۔پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کا سوچنا بھی گنا ہ تھا۔ پاکستان کے کھلاڑیوں کا میچ فکسنگ سکینڈل میں ملوث ہونے کے بعد مورال گر چکا تھا۔پاکستان کرکٹ کے تینوں فارمیٹ میں نچلی ترین سطح پہ تھا۔ تمام ممالک میں ٹی -20کرکٹ ٹورنا منٹ کے باعث نئے کرکٹر سامنے آ رہے تھے جس سے کرکٹ کا معیا بلند ہو رہا تھا ۔ آئی پی ایل T-20کے بڑے برینڈ کے طور پہ سامنے آچکا تھا جو کہ انڈٰیا کی تھرڈ کلا س ٹیم میں ویرات کوہلی، اجیکے رائینے، ایشون، جڈیجا جیسے کرکٹر متعارف کرواکر انڈیا کو تینو ں فارمیٹ کی چیمپئین ہونے کا اعزاز بخش چکے ہیں ۔بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کےکھلاڑی بھی ان کی ایسی ہی لیگز سے جنم لیکر ان کی کرکٹ کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔

آج پاکستان آئی ۔سی ۔ سی کی چیمپئن ٹرافی کا فاتح ہے توہر کوئی بھی اسکا کریڈیٹ لینے کی دوڑ میں ہے۔ہر طرف سے تعریفی پیغامات موصول ہو رہے ہیں ۔ پاکستان کی کارکردگی جس طرح کی پورے ٹورنا منٹ میں رہی اس کی مثال دینا ممکن نہ ہے۔فائنل میں پاکستان نے روائتی حریف انڈیا کو تاریح ساز شکست سے دوچا ر کر کے چیمپین ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ آئیے ذرا اس فتح کا تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ یہ فتح کیسے ممکن ہوئی۔پاکستان کی فتح میں جن کھلاڑیوں نے اہم کردار ادا کیا ان میں محمد عامر، حسن علی، فخر زماں، عماد وسیم، بابر اعظم اور شاداب خان شامل ہیں ۔یہ سب کھلاڑی کون ہیں ؟ ان کو یہاں تک لے کر آنے والا کون ہے؟یہ سب وہ کھلاڑی ہیں جو پاکستان سپر لیگ کی دو سیزنوں کی پیداوار ہیں ۔ اور پاکستان میں کرکٹ نئی کروٹ لے رہی ہے۔
وہ ملک جہاں پہ 9 برس سے کرکٹ نہ کھیلی گئی ہو وہاں سے ایسے کھلاڑیوں کا مسلسل پیدا ہونا کسی معجزے سے کم نہیں ۔یہ صرف نجم سیٹھی ہی تھا جس کی انتھک کاوشوں کی بدولت پی۔ ایس۔ایل ایک کامیاب ایونٹ بن رہا ہے۔ جس میں شامل ٹیمز کراچی کنگز اور لاہور قلندرز نے ٹیلنٹ ہنٹ کے تحت ہزاروں نوجوانوں کو موقعہ دیا کہ وہ اپنی قابلیت کے جوہر دیکھا سکیں ۔نئے کھلاڑیوں کو انٹر نیشل پلیئرز کے ساتھ کھیلنے کا موقعہ ملا جس سے وہ سٹارز سے سپر سٹارز کے روپ میں ڈھلنا شروع ہو گئے۔

پاکستان کا چیمپین بننا صرف اور صرف نجم سیٹھی کے پروجیکٹ پی۔ایس۔ایل کی بدولت ممکن ہوا۔ پی ۔ایس۔ ایل کے انعقاد کے وقت ہر بڑے سے بڑا سپر سٹا ر بھی ایک شک کی کیفیت میں تھا کہ پاکستان میں اس کا انعقاد ممکن نہیں ۔ اگر کسی کو یقین تھا تو وہ نجم سیٹھی ہی تھا ۔ پاکستان نجم سیٹھی کی سربراہی ہی میں تاریخ میں پہلی بار ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر 1 ٹیم بنی ۔ اور یہ وہ ٹیم ہے جس نے ایک بھی میچ اپنی سرزمین پہ نہیں کھیلا۔ اس ٹیم کے پاس عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر جیسے بولرز بھی نہیں تھے جو کہ مخالف ٹیم کو کسی بھی ہدف تک محدود رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ نہ ہی اس ٹیم میں ایشین بریڈ مین ظہیر عباس، گولڈ ن آرم مدثر نذر، دی گریٹ میانداد، انضمام الحق اور محمد یوسف جیسے بلے باز موجود تھے جو کسی بھی ٹارگٹ کے تعاقب کی صلاحیت سے مزین تھے۔
نجم سیٹھی نے پی۔ سی۔ بی سے منسلک ہو کر بہت تنقید سہی ہے اب ہمیں چاہیے کہ اس کی خدمات کے اعتراف میں اس کا شکریہ قومی سطح پہ ادا کریں ۔ عمران خان صاحب اداروں کو سیاسی بنانے کا الزام تو لگاتے ہیں اور ساتھ ہی خود اداروں کو سیاست کی نظر بھی کر دیتے ہیں ۔ کیا عمران خان میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ وہ پاکستان کی اس کامیابی کو پی۔ ایس۔ ایل کی مرہون منت قرار دیں ۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا کہ عمران خان صاحب میں کی کرکٹ میں ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں مگر وہ پی۔ ایس۔ ایل کے لاہو ر میں فائنل کو دیکھنے اور نوجوان کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھانے اس لیے نہیں گئے کہ وہ نجم سیٹھی کا پراڈکٹ ہے۔انھوں نے ان کھلاڑیوں کو پھٹیچر تک کہا جو پاکستان جیسے دہشت ذدہ ملک میں کھیلنے کے لیے آئے۔ عمران خان صاحب یہ بھول جاتے ہیں کہ ملکی حالات نجم سیٹھی کی وجہ سے دہشت گردی کی نظر نہیں ہوئے۔اس کے باوجود انٹر نیشنل کرکٹ کی پاکستان میں بحالی کے لیے نجم سیٹھی نے انتھک کام کیا اور زمبابوے کے دورہ پاکستان کو کامیاب بنایا۔ پی۔ ایس۔ ایل کے فائنل کے کامیاب انعقاد کو انٹر نیشنل سطح پہ صراحا گیا۔اور اگر نہیں صراحا گیا تو بس عمران خان کی طرف سے نہیں صراحا گیا۔

یہ مطالبہ کرنا کہ کرکٹ کی بھاگ دوڑکرکٹرز کے ہاتھ میں دے دی جائے تو حالات بہتر ہو جائیں گے تو اس کے لیے صرف اتنی سی گزارش ہے کہ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل اس وقت ہاکی کے پلئیرز کی سربراہی میں چل چل کرہی اس نوبت تک پہنچ چکا ہے کہ جب پاکستان ایک نان کرکٹر نجم سیٹھی کی سربارہی میں انڈیا کو لندن میں چیمپین ٹرافی کے فائنل میں شکست دے رہا تھا اسی وقت انڈیا نے پاکستان کو ہاکی کے عالمی ٹورنامنٹ میں 1 کے مقابلے میں 7گول سے شکست دے رہا تھا۔ یہ بات سمجھنا ہو گی کہ مینجمنٹ اب ایک الگ فیلڈ بن چکی ہے اس کے لیے متعلقہ فیلڈ کا تجربہ ہونا اتنا ضروری نہیں جتنا زیادہ اس میں مینجمنٹ سکلز کا ہونا ہے۔بورڈ کے چیئرمین کے اندر سفارت کاری کے تمام گن ہوے چاہیے ۔ اگر کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے کرکٹر ہونے سے کرکٹ بہتر ہوتی تو آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، انڈیا ،بنگلہ دیش ، ساؤتھ افریقہ ، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے سمیت سبھی ممالک میں کرکٹ ہماری طرح آخری سانسیں لے رہی ہوتی۔ ان تمام ممالک نے کامیاب بزنس مین اور بہترین مینجرز افراد کو کرکٹ کی بھاگ دوڑ تھمائی۔عمران خان اپن سمیت کسی ایک پاکستانی کرکٹر کا نام بتا دیں جو کمیونیکشن سکلز، مینجمنٹ سکلز، سفارت کاری کی مہارت اور بزنس کی بہترین خوبیوں سے مزین ہوں ۔ آج پاکستان کی ہاکی میں انڈیا کے ہاتھوں بدترین شکست کو صر ف اور صرف نجم سیٹھی کی کرکٹ ٹیم کی شاندار فتح نے چھپا دیا ہے اس پر ہمیں یہ ضرور کہنا چاہیے ۔شکریہ نجم سیٹھی۔

Sunday, 17 August 2025

کیاهم نفرت کے بیٹے هیں


نوٹ : یہ آرٹیکل 2017 میں فیس بک پیج کے لیے لکھا گیا تھا یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔

ڈئیر نریندرامودی!

آپ کو اور آپ کے توسط سے سوا ارب ہندوستانیوں کو آزادی کا انہترواں سال مبارک ہو۔ میں آپ  کو مبارک باد اسی جذبے اور خلوص کے ساتھ دے رہا ہوں جیسے کل میں نے اپنی قوم کو دی تھی۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس آزادی کے لیے ہماری مشترکہ  ایک صدی کی جدوجہد ہے ہم کئی صدیوں تک ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک رہے ہیں۔ غلامی کے دِنوں آپ کو یاد ہو گا انگریزی گولی ہندو مسلم کی تفریق کے بغیر چلتی تھی جلیانوالہ  باغ میں وسیع پیمانے پہ خون ریزی میں ہم مشترکہ مظلوم تھے۔ آپ کے آباو اجداد ہماری تحریکوں میں شریک ہوتے تھے ۔خلافت موومنٹ میں گاندھی جی برابر حاضر هوتے تھے ۔اسی طرح عدم تعاون، سودیشی تحریک اگرچہ کانگریس کے پلیٹ فارم سے چلتی تھیں لیکن مسلمان ان کا برابر حصہ ہوتے تھے۔ اس لیے اس آزادی میں آنے والی تکلیفوں میں ہم ساتھ ساتھ تھے۔

مودی جی! سماج کی رسم ہے جب اولاد جوان ہو جائے  تو شادی کرنے کے بعد اگر وه اپنے الگ گھر بنا بھی لیں تب بھی رشتہ  برقرار رہتا ہے۔ یہ ہی توہوا تھا سنہ 47میں ہم نے اسی طرح الگ گھر کا مطالبہ کیا تھا۔ دشمنوں نے ہم میں بہت زہر گھول دیا ہماری گھروں کی دیوار جس کا مقصد چادر چار دیواری تھا اسے نفرت کے گارے سے لیپ دیا گیا تاکہ ہم یہ سوچنے پہ مجبورہو جائیں کہ انگریز سے آزادی کا آباواجداد کا فیصلہ غلط تھا۔ اس نفرت میں دونوں جانب سے اعتدال کا دامن سرکتا نظر آیا اس میں ہم کسی کو دوش دے بھی نھیں سکتے کیونکہ نفرت کی دیکھنے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہوتی ہے۔ہم نے آپ کو دشمن سمجھا اور آپ نے ہمیں. آپ پولیٹیکل سائنیس کے سٹوڈنس ہیں اور حقیقت سے واقف ہیں کہ مستقل دوست اور دشمن توہوتے نہیں تو پھر ہماری دشمنی مستقل نوعیت کی کیوں ہے؟ 

مودی جی ! وقت بدل گیا ہے ہم بھی بدل جائیں۔ عوام کو ایک دوسرے کے قریب آنے دیں۔اگر آپ کی دشمنی کی بنیاد ہمارے ستر سال پہلے کے فیصلے کو غلط ثابت کرنا ہے تو وه بنگلہ دیش بنتے ہی ہو گیا تھا کہ  مذہب کی بنیاد پہ ہم آپ سے الگ ہو رہے ہیں کیونکہ وه مذہب تو ہمیں بھی ایک ساتھ نہ رکھ سکا۔ اگر آپ ہزار سالہ مسلم حکمرانی کا بدلہ آج کے مسلمانوں سے لینا چاه رہے ہیں تو 30کروڑ مسلمان آپ کے زیر اہتمام علاقے میں ره رہے وه بچارے اسی پاداش میں ہی قسم پرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ آپ بڑے بھائی کا درجہ رکھتے ہیں اس لیے  اپنا دل بڑا کیجیے هم بھی دشمنی کے طوق کو پھینک دیتے ہیں۔ ہم جتنا دفاعی بجٹ پہ خرچ کرتے ہیں اگر وه اپنے غریب شہریوں پہ خرچ کریں تو ان بڑی طاقتوں کی ریشہ  دوانیوں سے بھی نجات پا سکتے ہیں جو ہمیں لڑا کر اپنے مفادات کی نگہبانی کر رہےہیں۔ کبھی رات کے وقت سونے سے قبل سوچیے گا کیا ہم نے نفرت کی کوکھ سے جنم لیا ہے؟

مودی صاحب !آپ کبھی خود کو سوچیے گا کانگریس میں نسل در نسل اقتدار منتقل کرنے کی روایت ہے لیکن کیا آپ نہیں چاہیں گے کہ مستقبل میں کسی چائے بنانے والے کا بیٹابھی وزیر اعظم بن سکے۔ آپ نیچے کے طبقے سے اوپر آئے ہیں آپ غریب کا زخم جانتے ہیں اس پہ مرحم رکھیں۔ آپ نے بنگلہ دیش بنا کے ہمیں نقصان پہنچا لیا آپ کا کیا فائده هوا؟ اگر آپ ہمیں اور توڑیں گے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ نئے یونٹ آپ کے دوست ہی ہوں گے۔ اگر نئے یونٹ بھی  آپ کے دشمن ہوئے تو آپ کے فیصلے کا کیا نتیجہ نکلے گا آپ ایک دشمن سے کئی دشمنوں میں گھر جائیں گے۔آپ کو یقینا مسلمانوں سے کوئی ایشو نہیں کیونکہ آپ ایران افغانستان سعودی عرب اور عرب امارات کے ممالک سے بھت دوستانہ تعلقات قائم کر رہے ہیں۔ امید هے آپ ہمیں بھی اپنا اچھا دوست پائیں گے۔آپ لوگوں کو جوڑیں یقین جانیں آپ امر ہو جائیں گے..

میری خدا سے دعا ہے آپ ایسے ہزاروں آزادی کے دن منائیں اور ہم اچھے ہمسائے بنے رہیں۔

آپ کا مخلص دوست

ابوبکر صدیق

 (ایم.فل پولیٹیکل سائینس)

 

Saturday, 16 August 2025

پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی غلطی : خان آف قلات اور 3 جون 1947 پلان


بارہویں جماعت کی سوکس کی درسی کتاب جو کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے شائع کی ہے اس کے صفحہ نمبر 31 پہ 3 جون 1947 کے منصوبے پہ عمل درآمد کے سلسلے میں بلوچستان کے بارے لکھا گیا کہ خان آف قلات نے پاکستان کی حمایت کی تھی۔ ایک ایسا واقعہ جس پہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں 78 برس سے فوجی آپریشن جاری ہے محض سات لفظی جملے میں حقائق کو نہایت غلط انداز میں اور جھوٹ پہ مبنی بیان کیا گیا۔

 ٹیکسٹ بک میں 3 جون 1947 کے منصوبے کے تحت خان آف قلات کے پاکستان سے الحاق کی حمایت کا بیان تاریخی دستاویزات اور معتبر محققین کی شہادتوں کے بالکل منافی ہے۔ 2019 میں سلمان رشید اپنی معرکۃ الآراء کتاب "دی بلوچ اینڈ دیئر ہسٹری" میں واضح کرتے ہیں کہ 15 اگست 1947 کو خان آف قلات میر احمد یار خان نے باقاعدہ طور پر قلات کی آزادی کا اعلان کیا تھا جسے برطانوی راج کے خاتمے کے قانونی تناظر میں درست تسلیم کیا گیا تھا۔ اس کی تصدیق برٹش انڈیا آفس ریکارڈز (لندن، ریفرنس L/PJ/7/12499) سے ہوتی ہے۔ جہاں 11 جولائی 1947 کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے دفتر سے جاری نوٹ میں تسلیم کیا گیا تھا کہ "قلات قانونی طور پر آزاد ہے اور اپنی مرضی سے اپنی حیثیت برقرار رکھ سکتا ہے"۔

 مزید یہ کہ پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے خود 11 اگست 1947 کو خان آف قلات کو لکھے گئے سرکاری خط (دستاویز نمبر F. 7/9/48-Pol، پاکستان نیشنل آرکائیوز) میں صراحت کی تھی: "میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان قلات کو ایک آزاد خودمختار ریاست تسلیم کرتا ہے"۔ یہ خط 1987 میں مورخ ایچ۔ ڈی۔ کرائیگر نے اپنی کتاب "دی پارٹیشن آف انڈیا اینڈ ماؤنٹ بیٹن" (میں بھی درج کیا ہے جو قلات کی ابتدائی آزادی کے پاکستان کی جانب سے تسلیم شدہ ہونے کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔

ڈاکٹر انعام الحق جاوید اپنی تحقیقی کتاب "بلوچستان: سیاسی جدوجہد کا ارتقا" کے صفحہ 142-150 میں ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان نے مارچ 1948 میں قلات پر معاشی ناکہ بندی، فوجی دباؤ اور خان کے خلاف قبائلی بغاوت کو ہوا دے کر ایک جبری الحاق کروایا۔ 27 مارچ 1948 کو پیش کیے گئے اس نام نہاد "الحاق نامے" کی نوعیت خود پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان نے 1948 میں  اپنے اقوام متحدہ کے خط میں "ایک آزاد ریاست کا الحاق" قرار دے کر اس کی آزاد حیثیت کو غیرمستقیم طور پر تسلیم کیا۔

معروف ماہرِ سیاسیات ڈاکٹر عاصم بخشانی نے 2015 میں  اپنے مقالے "پاکستان میں ریاستیں: الحاق کا تنازع" میں لکھتے ہیں کہ قلات کا معاملہ تمام دیگر ریاستوں سے منفرد تھا کیونکہ جناح خود اس کی آزادی کے حق میں تھے مگر بعد ازاں پاکستانی بیوروکریسی کی جارحانہ پالیسیوں نے اسے زبردستی ضم کیا۔ یہی موقف بلوچستان ہائی کورٹ کے 2013ء کے تاریخی فیصلے (آئینی درخواست نمبر 56/2009) میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، جہاں عدالت نے تسلیم کیا کہ قلات کا الحاق "قانونی خامیوں" کا شکار تھا اور خان آف قلات کو اس پر مجبور کیا گیا۔

ان تمام ثبوتوں کے باوجود پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ سوکس کی درسی کتاب میں "3 جون 1947 کے منصوبے کے تحت الحاق" کا بیانیہ نہ صرف غلط ہے بلکہ ایک شعوری تاریخی مسخ شدگی بھی۔ 3 جون کا منصوبہ ریاستوں کو پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کا اختیار دیتا تھا لیکن قلات نے کسی کے ساتھ فوری الحاق سے انکار کر دیا تھا۔ اصل الحاق 27 مارچ 1948 کو ہوا، جو تقسیم کے آٹھ ماہ بعد اور ایک پرتشدد عمل کے نتیجے میں تھا۔ مورخ سید صباح الدین عبدالرحمن اپنی کتاب "پاکستان میں ریاستیں: ایک تنقیدی تاریخ" میں اسے "پاکستانی قوم پرستانہ تاریخ نگاری کا سب سے بڑا تضاد" قرار دیتے ہیں۔ جہاں جناح کے اپنے خط کو نظرانداز کرکے ایک جعلی روایت گڑھ لی گئی۔ اس تاریخی غلطی کا اثر نہ صرف طلبہ کے فہمِ تاریخ پر پڑتا ہے بلکہ بلوچستان کے موجودہ تنازعات کو سمجھنے کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے، جس کی تصحیح اشد ضروری ہے۔

حر تحریک: برطانوی استعمار کے خلاف ایک ناقابلِ تسخیر مزاحمتی تاریخ


یوم آزادی کی تقریب میں حکومت نے آپس میں جتنے تغمے بانٹ لیے ہیں اس کے بعد یہ تغمے کسی کے لیے اعزاز کا باعث نہیں رہیں گے۔ اصل تمغہ وہ ہوتا ہے جو دلوں میں ہمیشہ کے لیے ایک یادگار کے طور پہ محفوظ ہو جائے۔ کتنا ہی اچھا ہوتا کہ آزادی کی تقریب میں ان ہیروز کی داستان سنائی جاتی جنھوں نے گورے حاکموں کے خلاف سربلندی سے جینا اور مرنا سیکھا۔ بیشمار ایسی داستانیں جنھوں نے ثقافت اور کلچر پہ گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ ان میں سے ایک سندھ کی حر تحریک تھی۔ جس کی قیادت موجودہ پیر صاحب آف پیگارا کے دادا صبغت اللہ شاہ کر رہے تھے۔
برطانوی استعمار کے خلاف برصغیر کی مزاحمتی تحریکوں کا جائزہ لیا جائے تو پنجاب کی جنگِ آزادی، خیبر کے قبائلی معرکے اور دہلی و لکھنؤ کی بغاوتیں یقیناً تاریخ کے ماتھے پر درخشاں عنوانات کے طور پر نظر آتی ہیں، مگر سندھ کے دل میں جنم لینے والی ’’حر تحریک‘‘ وہ واحد مزاحمتی طاقت تھی جو نہ تو کسی نیم دل سمجھوتے پر راضی ہوئی نہ ہی وقت کی سیاست نے اسے مرعوب کیا۔ یہ تحریک اپنے مزاج اور روح دونوں اعتبار سے مکمل طور پر سیاسی بھی تھی اور عسکری بھی، اور اس کی قیادت پیر صبغت اللہ شاہ راشدی (ثانی) جیسے ایسی صاحبِ بصیرت بزرگ کر رہے تھے جنہیں انگریز آفیسر آر ہیوز نے ملٹری ڈسپیچز آن سندھ 1945(R.Hughes, Military Dispatches on Sindh, 1945) میں “Born Rebel with Spiritual Authority” قرار دیا تھا۔
تاج محمد عباسی نے تاریخ سندھ میں لکھا کہ حر تحریک کے بیج دراصل انیسویں صدی کے آخر میں بوئے گئے، جب سندھ میں راشدی مشائخ کی خانقاہ عوام کے لیے محض روحانی تربیت کا مرکز نہیں رہی تھی بلکہ آہستہ آہستہ برطانوی ناانصافیوں کے خلاف ایک اجتماعی احتجاجی پلیٹ فارم کی صورت اختیار کرتی گئی۔ 1910ء کے بعد جب انگریزوں نے سندھ کی زرعی زمین کے بڑے حصے بدیسی جاگیرداروں اور وفادار خوانین میں تقسیم کرنا شروع کیے تب پیر پگارا نے اپنے مریدوں کو پہلی مرتبہ ’’استعماری غلامی‘‘ کے تصور کے خلاف باقاعدہ مذہبی بنیاد پر بیدار کرنا شروع کیا۔
ایک جانب انگریز ’’خدمات وفاداری‘‘ کے نام پر مقامی سرداروں کو اعزازات اور جاگیروں سے نواز رہے تھے تو دوسری جانب حر مشائخ مسلسل یہ تبلیغ کر رہے تھے کہ اسلامی نقطۂ نظر سے ظالم اور قابض سلطنت کے ساتھ مصالحت کرنا جائز نہیں۔ بالآخر 1919ء میں پیر صبغت اللہ شاہ نے حیدرآباد کے قریب ایک بڑے اجتماع میں پہلی مرتبہ یہ اعلان کیا کہ “جو انگریز کی فوج میں بھرتی ہوگا وہ حر سلسلہ سے خارج سمجھا جائے گا”۔ یہی وہ لمحہ تھا جب برطانوی حکومت نے حر جماعت کو محض ایک مذہبی جماعت نہیں بلکہ خطرناک ’’نیم عسکری تحریک‘‘ سمجھنا شروع کر دیا۔
1920ء کی دہائی میں حر جماعت نے باقاعدہ طور پر گوریلہ حکمتِ عملی اختیار کرنا شروع کی۔ سندھ کے میدانوں اور ریلوے لائنوں کو اپنا میدانِ کارزار بنا کر، چھوٹے چھوٹے گروہ رات کے وقت ریلوے پلوں کو تباہ کرنے لگے۔ انگریز گورنر سر چارلس ناپیئر براؤن نے 1924ء کی خفیہ رپورٹ میں لکھا:
“حر مریدین نہ مطلوبہ اسلحہ رکھتے ہیں، نہ تربیت، مگر ان کے اندر ایک ایسی مذہبی جنونیت ہے جو باقاعدہ تربیت یافتہ فوجی دستوں کو بھی خوفزدہ کر دیتی ہے"
1930ء میں تحریک نے اپنے عروج کی جانب قدم بڑھایا۔ سندھ کے مختلف اضلاع، خصوصاً نوابشاہ، سانگھڑ، خیرپور اور پیر جو گوٹھ، حر جماعت کے مضبوط گڑھ بن گئے۔ پیر پگارا نے خفیہ طریقے سے چھاپہ مار دستوں کو منظم کیا، اور لوگوں سے قسم لی گئی کہ خوف یا لالچ کی بنیاد پر انگریزوں سے کوئی تعاون نہیں کریں گے۔
1939ء میں دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی۔ برطانوی افواج کے لیے یہ جنگ اس قدر سنگین تھی کہ انہوں نے اندرونِ ملک تمام مزاحتمی سرگرمیوں کو ’’ریڈ الرٹ‘‘ کے زمرے میں رکھا۔ یہی وہ وقت تھا جب حر تحریک کے مجاہدین نے جنگی قافلوں پر حملے شروع کر دیے اور حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پر کئی مرتبہ بارودی کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں کا یہ عالم تھا کہ 1941ء میں انگریزوں نے سندھ میں باقاعدہ مارشل لا نافذ کیا۔ کراؤن پیپر لندن کے مطابق گورنر سر ہیو ڈاؤ نے لندن کو ایک تلخ پیغام ارسال کیا:
“اگر حر تحریک کو اسی طرح چھاپہ مار حملوں کی آزادی حاصل رہی تو ہمیں سندھ میں مکمل شکست تسلیم کرنی پڑے گی”۔
1942ء میں پیر صبغت اللہ شاہ کو گرفتار کر کے حیدرآباد سینٹرل جیل میں رکھا گیا تحریک کے سینکڑوں مجاہدین کو پکڑ کر پیر جو گوٹھ اور سانگھڑ میں سرِعام پھانسیاں دی گئیں۔ یہ پھانسیاں نہ صرف سزا تھیں بلکہ خوف پھیلانے کا باقاعدہ حربہ تھیں۔ مگر یہ حربہ اُلٹا پڑا:
سن 1943ء کے مشہور واقعہ میں جب چار حر مجاہدین کو پیر جو گوٹھ کے وسط میں لٹکایا گیا، تو اس واقعہ کے بارے سندھ کیسے آزاد ہوا میں شیخ عزیز کھوسو نے بیان کیا کہ پھانسی سے قبل ایک انگریز افسر نے میدان میں موجود ہجوم کے سامنے، پہلے سندھی میں اور پھر اردو میں، بلند آواز سے اعلان کیا، جس کے الفاظ سندھ کے استحصال کی تاریخ کا سیاہ باب بن گئے: "جو حر تحریک میں شامل ہوگا، اُس کا انجام بھی یہی ہوگا!"
میجر او برائن کی ملٹری ڈائری کے مطابق قریباً 12 ہزار کے مجمع میں سے ’’کسی ایک شخص نے بھی ان کے خلاف آواز نہیں اٹھائی بلکہ لوگ خاموشی سے ان کے قدموں کی مٹی اٹھا کر آنکھوں سے لگا رہے تھے‘‘۔
اس واقعے کو زندہ جاوید روایت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ بزرگ اسے ایسی تفصیل سے سناتے ہیں گویا یہ کل کی بات ہو۔ اور پھر وہ سندھی فقرہ، جو اس قربانی کے گہرے نفسیاتی اور انقلابی اثر کو نہایت مختصر مگر جامع الفاظ میں سمیٹتا ہے، ضرور دہرایا جاتا ہے:
“دن آیو جَڈھے حر مریدن کے ساڄے میدان میں لٹکائو ویو، تے ہر ونجن وارو دل اندر تھی وڄیو، مَر ویس پر سامراج کھان ہار نہ تھینس”۔
(وہ دن آیا جب حر مریدوں کو سب کے سامنے لٹکایا گیا، ہر گزرنے والے کے دل میں یہ بات اتر گئی کہ چاہے مر جائیں، مگر سامراج کے غلام نہیں بنیں گے)۔
پیر پگارا کو 20 مارچ 1943 کو خفیہ فوجی عدالت میں موت کی سزا سنائی گئی۔ اس فیصلے کا متن برطانوی کمانڈر نے گورنر کو بھیجتے ہوئے لکھا:
“اگرچہ ہم اس مقدمے کو باضابطہ عدالتی کارروائی دکھا رہے ہیں، لیکن اصل مقصد حر تحریک کی روح کو ختم کرنا ہے”۔
تاج محمد عباسی کی تاریخ سند کے مطابق پیر صبغت اللہ شاہ کو خفیہ طور پر حیدرآباد جیل ہی میں پھانسی دی گئی۔ کوئی قبر، کوئی نشانی، کوئی اتا پتا باقی نہ چھوڑا گیا — تاریخِ سندھ کے ریکارڈ میں لکھا ہے: “انگریز انہیں دفن نہیں کرنا چاہتے تھے، وہ کسی مزار کے قیام سے بھی خائف تھے”
لیکن سامراجی سوچ یہ سمجھنے سے قاصر رہی کہ مزاحمتی تحریکیں قبروں سے نہیں، یقین سے جنم لیتی ہیں۔ پیر پگارا کی شہادت کے صرف آٹھ دن بعد سندھ کے مختلف اضلاع میں رات بھر ’’حر زندہ باد‘‘ کے نعرے دیواروں پر لکھ دیے گئے۔ برطانوی ریکارڈ میں اسے "Subversive Graffiti Campaign" کہا گیا۔ اسی سال اگست میں حیدرآباد کی چھاؤنی پر رات کے وقت گوریلہ حملہ ہوا اور ایک اہم برطانوی افسر زخمی ہوا۔ کمانڈر نے حیرت سے کہا
: “We hanged the head, buried the body, but the spirit is still alive…”
1945ء تک حر تحریک میدان میں موجود رہی، حالانکہ اس دوران آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس دونوں ہی سیاسی مذاکرات کی طرف بڑھ رہے تھے۔ جو گوٹھ خانقاہ میں محفوظ ریکاڑ کے مطابق حر مجاہدین نے قائد اعظم محمد علی جناح کو بھی خطوط لکھ کر یقین دہانی کرائی کہ “جب تک انگریزی حکومت رخصت نہیں ہو جاتی، ہم اپنی گوریلہ جدوجہد ترک نہیں کریں گے"
آخرکار 1946ء میں برطانوی حکومت کو حر قیدیوں کے خلاف مارشل لا ختم کرنا پڑا اور انہیں ’’عام معافی‘‘ دینے کا حکم جاری کیا گیا۔ حیدرآباد جیل کے دروازے کھولے گئے وہی لوگ جو سامراج کی نظر میں ’’مجرم‘‘ تھے، اُسی پیر جو گوٹھ کی گلیوں سے گزرتے ہوئے پھولوں اور نعروں کے ساتھ غازی کی حیثیت سے واپس آئے۔
مورخ مسعود الحق لکھتے ہیں: “حر مجاہدین کی مزاحمت نے سندھ کے اجتماعی شعور کو یہ سبق دیا کہ استعمار کے ساتھ صرف مذاکرات اور قراردادیں کافی نہیں ہوتیں، مزاحمت کی وہ چنگاری بھی ضروری ہوتی ہے جسے قومیں بعد میں اپنی آزادی کی آگ میں بدل لیتی ہیں”
اسی لیے آج بھی سندھ کے دیہات میں جب برطانوی سامراج کے خلاف ابتدائی مزاحمت کی بات کی جاتی ہے تو حر تحریک کا ذکر محض ایک ’’ماضی کا واقعہ‘‘ نہیں بلکہ استقلال و آزادی کے مقدس استعارے کے طور پر سامنے آتا ہے۔
چلیں آزادی کے سفر میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے لازوال ہیروز کو اخراج عقیدت پیش کرنے کے لیے میں نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے باقی ارباب اختیار وہی کریتے ہیں جو انہیں مناسب لگتا ہے۔ لیکن ایک مشورہ رکھ لیں آپ نے آنے والے کل میں تاریخ کا حصہ بننا ہے اب یہ آپ پہ ہے کہ لوگ آپ کو کسیے یاد کریں اس کا تعین آپ نے آج کرنا ہے۔

Friday, 15 August 2025

داتا گنج بخش توحید پرست تھے

 

علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش (متوفی 465ھ/1072ء) جنوبی ایشیا میں تصوف کے اولین اور سب سے زیادہ بااثر بزرگوں میں سے ہیں۔۔ ان قبر لاہور میں ہے جہاں سال بھر معتقدین خلاف شریعت نا صرف ان کی قبر کے سامنے جھکتے، بلکہ ان کے سامنے اپنی مرادیں رکھتے، منتیں مانی جاتی نظر اور نیاز کا اہتما بھی کیا جاتا۔ لوگ ان کی قبر پہ اس عقیدے کے ساتھ اپنے وسائل کو خرچ کرتے کہ ہمارے پاس وسائل انہی کے عطا کردہ ہیں اور یہاں وسائل خرچ نہ کرنے سے یہ وسائل باقی نہیں رہیں گے۔
ان کی شہرہ آفاق تصنیف "کشف المحجوب" نہ صرف فارسی زبان میں تصوف کا پہلا منظم رسالہ ہے بلکہ صدیوں سے طالبانِ حق کے لیے روحانی رہنمائی کا سرچشمہ رہی ہے۔ اس کتاب میں داتا صاحب نے توحید الہی یعنی اللہ کی وحدانیت کے موضوع کو مرکزی اور بنیادی حیثیت دی ہے جسے وہ تمام روحانی سفر کی اساس قرار دیتے ہیں۔ یعنی صاحب قبر کی تعلیمات کے برعکس عقیدہ رکھ کر صاحب قبر کو اذیت دینے کانام اس بزرگ سے محبت رکھ دیا ہے۔
داتا گنج بخش کے نزدیک توحید محض زبانی اقرار (لا الہ الا اللہ) سے کہیں زیادہ گہرا اور وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ یہ حقیقی معرفتِ الٰہی کی اساس ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ تمام علوم کی اصل اور غایت معرفتِ الٰہی ہے، اور معرفتِ الٰہی کی بنیاد توحید پر قائم ہے۔
داتا صاحب توحید کو ایک جامد عقیدہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کے کئی مراتب اور درجات بیان کرتے ہیں، جو سالک کی روحانی ترقی کے ساتھ گہرے ہوتے جاتے ہیں۔ سب سے پہلے توحید زبانی (قولی) جس میں صرف زبان سے "لا الہ الا اللہ" کہنا ہے یہ توحید ابتدائی درجہ ہے۔
دوسرے درجے میں توحید قلبی (عقلی/استدلالی) ہے جس میں دل و عقل سے اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھنا شامل ہے انسان اللہ کے وجود، صفات اور افعال میں کسی شریک کا انکار کرتاہے۔ یعنی انسان اللہ کی ذات میں کسی بو شریک نہیں کرتا جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے سیدنا مسیح ابن مریم اور عزیر ؑ کے کیس میں کیا۔ ساتھ ہی اللہ تعالی کی وہ صفات جو اس سے متصف ہیں ان میں کسی کو شریک نہیں کرتا جیسا کہ اولاد دینا اللہ کی صفت ہے جب یہ عقیدہ کسی غیر اللہ کے لیے رکھ لیا جائے تو اللہ کی صفات میں شرک ہو گا۔
تیسرے درجے میں توحید روحانی ہے جسے وہ توحید حقیقی، ذوقی، کشفی بھی کہتے ہیں۔ یہ اعلیٰ ترین درجہ ہے جو صوفیاء اور اہلِ دل کو حاصل ہوتا ہے۔ اس درجے پر سالک کو براہِ راست کشف اور مشاہدہ حاصل ہوتا ہے۔ جس سے وہ ہر شے میں اللہ کی واحدانیت کا براہِ راست ادراک کرتا ہے۔ ہر عمل، ہر وجود، ہر حرکت اسی کی طرف سے اور اسی میں فنا نظر آتی ہے۔ اس درجے پر شرک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
توحید کے تیسرے درجے کو انہوں نے اپنی کتاب میں مرکزی حیثیت دی ہے۔ وہ اس توحید کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ فنا فی اللہ اعلیٰ درجے کی توحید ہے جس میں سالک اپنی انا، اپنی خواہشات، حتیٰ کہ اپنی عبادت کے احساس سے بھی فنا ہو جاتا ہے۔ وہ صرف اللہ کو دیکھتا ہے، صرف اسی کی طرف نسبت کرتا ہے۔ اس کا وجود اللہ کی واحد ذات میں گم ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی وہ بقا باللہ تصور بھی پیش کرتے ہیں کہ فنا کے بعد ہی بقا کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ یہ بقا اللہ کے ساتھ، اللہ کے حکم سے، اللہ کی صفات کے ساتھ متصف ہو کر ہوتی ہے۔ سالک اللہ کی مرضی کے تابع ہو کر ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے۔
توحید کے باب میں انہوں نے توحید اور شرکِ خفی کی نشاندہی بھی کی ہے۔ کیونکہ وہ صرف کھلے شرک (بت پرستی) ہی کی مذمت نہیں کرتے بلکہ شرکِ خفی پر خاص توجہ دیتے ہیں، جسے وہ توحیدِ حقیقی کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھते ہیں۔ شرکِ خفی کی اقسام کی اقسام میں ریاکاری سب سے پہلے آتی ہے جس کے تحت کوئی محض لوگوں کو دکھانے کے لیے عبادت کرتا ہے۔ یہ عبادت میں غیر اللہ کو شریک ٹھہرانا ہے۔ اس کے بعد حبِ دنیا/مال و منصب آتا ہے۔ جس میں دنیاوی لذتوں، مال یا منصب کو اللہ سے بڑھ کر یا اس کے برابر چاہنا شامل ہے۔ یعنی جب کبھی اللہ کا پیغام اور دنیا کی لذتیں مال یا منصب آمنے سامنے آ جائیں اور انسان رب کے پیغام کو پس پشت ڈال دے۔ تیسرا اپنی عبادت پر ناز کرنا ہے۔ جس میں اپنے نیک اعمال کو دیکھ کر فخر محسوس کرنا، گویا یہ اس کی اپنی کوشش کا نتیجہ ہے۔ چوتھا غیر اللہ سے امیدیں وابستہ کرنا ہے مشکلات میں مخلوق سے مشکل کشائی امید رکھنا، اللہ کی مدد پر کامل بھروسہ نہ رکھنا یہ سب شرک خفی ہیں جنہیں عموما نظر انداز کر دیا جاتا ہے لیکن یہ ہمارے ایمان کی جڑ کاٹ رہے ہوتے۔
داتا گنج بخش کی کتاب کا نام ہی "کشف المحجوب" (پوشیدہ چیزوں کا انکشاف) ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ حقیقی توحید ہی وہ کلید ہے جو سالک کے لیے غیب کے پردے اٹھاتی ہے۔ جب دل شرکِ خفی کی تمام آلائشوں سے پاک ہو جاتا ہے اور توحیدِ حقیقی میں ڈوب جاتا ہے، تو اس پر حقائقِ الٰہیہ اور روحانی معانی کا انکشاف ہوتا ہے۔
داتا گنج بخش اپنے توحید کے بیان کی بنیاد قرآن مجید اور احادیث مبارکہ پر رکھتے ہیں۔ وہ بار بار آیاتِ توحید (جیسے سورۃ الاخلاص، آیۃ الکرسی، "لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْءٌ" وغیرہ) اور احادیث (جیسے حدیثِ قدسی "کنت کنزاً مخفیاً..." اور نبی کریم ﷺ کے توحید سے متعلق ارشادات) سے استدلال کرتے ہیں۔
داتا گنج بخش کے نزدیک توحید صرف ایک عقیدہ نہیں، بلکہ پورے صوفی سلوک کی بنیاد اور منزل دونوں ہے۔ سالک اسی عقیدۂ توحید پر ایمان لے کر سفر کا آغاز کرتا ہے۔ روحانی سفر کی انتہا بھی اسی توحیدِ حقیقی کے کامل ادراک، مشاہدے اور اس میں فنا ہو جانے پر ہے۔
کشف المحجوب میں داتا گنج بخش کا بیان کردہ تصورِ توحید ایک گہرا، جامع اور روحانی تصور ہے۔ یہ محض کلمے کا اقرار نہیں، بلکہ دل کی گہرائیوں سے اللہ کی واحدانیت کا ادراک، اس پر کامل یقین، ہر قسم کے ظاہری و باطنی شرک سے پاکی، اور بالآخر اس واحد حقیقت میں فنا ہو کر بقا پانے کا نام ہے۔ یہ توحید ہی معرفتِ الٰہی کی کنجی ہے، صوفی سلوک کی اساس ہے، اور کشف و مشاہدہ کا سرچشمہ ہے۔ داتا صاحب نے شرکِ خفی کے خلاف خصوصی طور پر خبردار کیا ہے، جو عام لوگوں سے لے کر متلاشیانِ حق تک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ کشف المحجوب کا مطالعہ کرنے والا ہر طالبِ علم اس نکتے پر پہنچتا ہے کہ داتا گنج بخش کے نزدیک حقیقی کامیابی اور نجات کا دارومدار توحیدِ خالص کو سمجھنے، اس پر ایمان لانے اور اسے اپنے وجود میں رچانے پر ہے۔ یہی ان کی تعلیمات کا خلاصہ اور ان کے لقب "گنج بخش" (خزانہ عطا کرنے والے) کی حقیقی معنویت ہے۔

Thursday, 14 August 2025

اب Invite نہیں Invent پہ زور دیں

 یہ تحریر 15 اگست 2015 کو فیس بک کے پیج کے لیے لکھی گئی تھی یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کی جا رہی ہے۔

بنگله دیش تھرڈورلڈکا ایک پسمانده ملک هے۔1996 میں ڈاکٹر یونس نے اکنامک ڈیویلپمنٹ په مائیکرو کریڈٹ کی تھیوری پیش کی انھوں نے شکتی گرامین کے نام سے ایک کمپنی بنائی۔یه کمپنی ایک بنک چلاتی تھی یه بنک ان لوگوں کوچھوٹے چھوٹےقرض دیتا تھاجن کو غربت کی وجه سے سارےبنک قرض دینے سے انکار کر دیتے تھے۔ اس سے لوگ اپنے روزگار چلانا شروع هو گئے۔ ڈاکٹریونس نے محض قرض هی نهیں دیا بلکه انھون نے لوگوں کے شروع کیے هوئے کاروبار کو فالو اپ بھی کیا لوگوں کو ٹیکنیکل معاونت بھی دی۔ انھوں نے قرض کی شرائط میں گھر کی صفائی اپنے ماحول کو انسان دوست بنانے کے لیےمختلف اقدامات کرنےپر بھی زور دیا۔ رهن سهن کو بہتر بنانے کے لیے اور گھروں میں واش روم بنانے اور دیگر خفظان صحت کی شرائط بھی قرض کی شرائط میں شامل تھیں۔ بنگله دیش کے ہزاروں گاوں ایسے تھے جهاں یا بجلی تھی نهیں اور اگر تھی تو بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا تھا

ڈاکٹر یونس نے ہر گاوں میں سولر پینل آسان ترین اقساط په مهیا کیے جس سے بجلی کی لوڈشیڈنگ حکومتی مداخلت کے بغیر ختم هو گئی۔ بجلی کی بلا تعطل فراهمی سے معاشی سرگرمی بڑھی ۔انھوں نے ہر دس گاوں کے درمیان ایک سروس سنٹر قائم کیا گھریلوخواتین کو سولر پینل ٹھیک کرنے کا ہنر سیکھایا جس سے وه ہنر مند کارآمد گھر کی افراد بن گئی۔ ڈاکٹر یونس نے مڈل ایسٹ کے ممالک میں جهاں بنگله دیشی تیسرے درجے کے کام کرنے پر مجبور تھے انھیں واپس بلا کر انھیں 6ماه کے ڈپلومے کروائے جس سے وه هنر مند افراد بن گئے انکی انکم میں اضافه هواجس سے سهولیات میں اضافه هوا اور پورا بنگله دیشی معاشره تبدیل هو گیا 2006 میں ڈاکٹر یونس کو نوبل انعام دے کر انکی خدمات کا عالمی سطح په اعتراف کیا گیا۔

دوسری طرف حافظ سعید صاحب هیں وه پوری دنیا میں پاکستان کے ایک مخصوص تشخص کے فروغ کا باعث ہیں۔ وه پاکستان کی سب سے بڑی انجینرنگ یونیورسٹی میں اسلامیات کے استاد تھے جهاں ماں باپ اپنے بیٹوں کو اپنے خوابوں کی تعبیر کی تلاش میں بھیجتے۔ جن په پاکستانیوں کے خون پسینے کا پیسه خرچ ہوتا تا که وه کل کو وطن کی ترقی کا پهیه رواں دواں رکھ سکیں۔ دنیا بھر میں طالب علم یونیورسٹی میں سربلندی کی اقدار سیکھنے جاتے ہیں لیکن افسوس حافظ صاحب نے ایک پوری نسل اپنی خود ساخته جهاد کی تشریح میں کھپا دی۔
حافظ صاحب نے اپنے منصب کی ذمه داریوں سے روگردانی کرتے ہوئے یونیوورسٹی کو جهاد کی نرسری کے طور په استعمال کیا۔ نوجوان نسل کو جنت کے خواب دیکھا کر ان کے لواحقین کے لیے دنیا دوزخ بنا دی، ملکی سرمایه اس آگ میں جھونک دیا، نوجوان نسل کے خواب ویرانوں کی نظر کر دیے. حافظ صاحب کے پر تاثیر واعظ کے باعث لوگ انھیں سالانه اربوں روپے عطیه کرتے ہیں اور پھر خود کو خوش نصیب سمجھتے ہیں که ان کا نذرانه بارگاه عالیه میں شرف قبولیت پا گیا ہے۔ اس پیسے سے حافظ صاحب عظیم "جہاد" کے لیے اپنی پیش قدمی جاری رکھتے ہیں. ایک ایسی منزل کی طرف جس کی کوئی اخیر نهیں. جس کی راه میں اندھیرے ہی اندھیرے ہیں۔
کاش انھوں نے اپنی ذمه داریوں کا ادراک کیا هوتا تو اسلام کے پهلے سبق "اقرا" کی افادیت په زور دیتے اور اپنے جہاد کا رخ جہالت کی طرف کرتے علم کے اجالے سے دنیا کو منور کرتے، غربت په کاری وار کرتے اور گھرون کے چولھے بجھنے سے بچا لیتے۔
ابھی بھی وقت کے دامن میں گنجائش بہت ہے اگر وه متمول افراد کو اسی طرز په جنت کے خواب دیکھاتے رہیں اور عطیے کے اربوں رپوں سے بین الاقوامی معیار کی یونیورسٹیاں قائم کریں جهاں ریسرچ کے چشمیں پھوٹیں۔ ٹیکنیکل کالجز قائم کیے جائیں تاکه هنر مند افراد دنیا بھر میں پاکستان کی نمائندگی کرتے نظر آئیں۔ شہروں ریسرچ انسٹیٹیوٹ کھولیں۔ ڈایاگنوسٹک سینٹز کا ایک نیٹ ورک بچھا دیں جهاں بیماریوں کی تشخیص کے ساتھ ساتھ جدید علاج بھی دریافت هوں۔ اگست 2016 سے جماعت الدعوته کے پلیٹ فارم سے انگلش میگزین invite کے اجراکو ایک بھت بڑی کامیابی سے تعبیر کیا گیا کاش انھوں نے invite کی بجائے invent کے نام سے رساله جاری کیا هوتا جس میں ان کے زیر اهتمام یونیورسٹیوں کے سٹوڈنٹس کے ریسرچ آرٹیکل چھپتے جسکی دنیا بھر میں مانگ ہوتی۔ دنیا بھر سے لوگ اپنے علم کی پیاس بجھانے کے لیے وطن عزیز کا رخ کرتے. وطن کے سوفٹ امیج کو دنیا میں اجاگر کرتے، دنیا میں پاکسانیوں کو دهشت گرد ہونے کی گالی نه سننا پڑتی. هاورڈ اور آکسفورڈ کی بنیاد پڑیں وه بھی ایسے هی جنونی افراد تھے جوان اداروں کی داغ بیل ڈال گئے تھے.اگر ڈاکٹر یونس بے سروسامانی کے عالم میں بنگله دیش کی تنها تقدیر بدل سکتے ہیں تو یقینا حافظ صاحب آپ کے وسائل کی پهنچ تو لامتناهی هے. اپنے پیروکاروں کو حکم دیں که اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ ایک غریب بچے کی تعلیمی ضروریات کی ذمه داری اٹھا لیں جن کوالله نے زیاده توفیق دی هے وه هنر مند افراد کو انکے هنرکے مطابق کاروبار شروع کرنے میں معاونت فراہم کر دیں. حافظ صاحب نسل کی پرورش کریں آپ ہمیشه کے لیے امر ہو جائیں گے۔
خود کو تاریخ کے بے رحم احتساب کے حوالے کرنے سے قبل اپنی سمت بدل لیں اور آنے والی نسل کے اس جملے سے خود کو بچا لیں که کاش ہمارے پاس حافظ سعید کی بجائے ڈاکٹر یونس هوتا۔اس لیے اب انوائٹ کی بجائے انوینٹ په زور دیں.

تقسیم ہندوستان کے وقت وجود میں آنیوالی ریاستوں کے کھوکھلے وعدے

یہ تحریر پہلی بار 16 اگست 2023 کو فیس بک کے پیج کے لیے لکھی گئی تھی یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کی جا رہی ہے۔
ریاستوں کی ترقی کا راز ان وعدوں میں چھپا ہوتا میں جو وہ اپنے قیام کے وقت اپنے ساتھ جڑنے والی اکائیوں اور قوموں کے ساتھ کرتے ہیں۔ شریک سفر کے ساتھ وفاداری، اعتماد اور بھروسہ ریاستوں کی سربلندی کا نمایاں عناصر ہیں۔ریاست ہائے متحدہ امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے۔ جو زندگی کی ہر دوڑ میں دنیا بھر کے لیے ایک رول ماڈل کے طور پہ سامنے آیا ہے۔ امریکہ قیام کے وقت 13 ریاستوں پر مشتمل تھا۔ انہی 13 ریاستوں کے نمائندوں نے دنیا کا بہترین دستور تشکیل دیا جس میں ایک دوسرے سے متعلق کچھ وعدے کیے۔عظیم انقلابی لوگوں نے امریکی عوام کو برطانوی سامراج کی لعنت سے نجات دلانے کے لیے 4 جولائی 1776ء کو ملک کے کونے کونے سے فلاڈلفیا کے مقام پر جمع ہو کر کانگریس کے آئینی کنونشن میں شامل ہوکر اعلان خود مختاری پر دستخط کیے۔ انہوں نے اپنے آرام و آسائش پر آزادی کو ترجیح دی اور یہ عہد کیا کہ
”اس اعلان آزادی و خود مختاری کی تائید کے لیے پروردگار عالم کی قوت حاکمہ کی حفاظت اور مدد پر پورا بھروسا کرتے ہوئے ہم آپس میں یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے حصول مقصد کے لیے اپنی جانوں، اپنی جائیدادوں اور اپنی عزت و ناموس کے ساتھ اس کا تحفظ اور اس کی تائید کریں گے۔“
اس عزم و استقلال کے نتیجے میں انقلابی قیادت کو جن مشکلات اور مصائب کا مقابلہ کرنا پڑا ان کا مختصر بیان اوپر کی سطور میں آ چکا ہے۔ لیکن ان انقلابی قائدین کے سامنے واضح منزل تھی۔ اپنے ملک کی آزادی و خود مختاری۔ وہ اس منزل کی طرف ثابت قدمی سے بڑھتے رہے اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اعلان خود مختاری کے 225 سال بعد ترقی و تعمیر کی تمام منزلیں طے کر کے امریکا دنیا کی سپر طاقت بن چکا ہے۔
ریاستوں کے رقبے اور آبادیوں کے سائز میں بہت نمایاں فرق کے باوجود کسی ریاست کو دوسرے درجے کا شہری ہونے کا احساس نہیں ہوا۔ ان وعدوں پہ اعتبار کرتے ہوئے بعد میں 37 مذید ریاستوں نے اس اتحاد کو جوائن کیا۔ یہ فیڈریشن آج بھی نہایت کامیابی سے چل رہی ہے اور ہر اچھے برے وقت میں چٹان کی طرح مضبوط ثابت ہوئی ہے۔ اس مضبوطی کی وجہ ان ریاستوں کا آپس میں ایک دوسرے کے لیے خلوص اور کیے جانے والے وعدوں کی پاسداری ہے۔
تقسیم ہندوستان کے وقت قائم ہونے والی دونوں ریاستوں پاکستان اور ہندوستان نے اپنے ساتھ جڑنے والی اکائیوں اور قوموں کے ساتھ وعدے کیے۔ انڈیا نے اپنے ہاں رہنے والی غیر ہندو اقوام کے تحفظ کے لیے اپنے آئین کی بنیاد سیکولرزم پہ رکھی۔ جبکہ ریاستوں کے ساتھ وعدوں کو بھی دستوری ضمانت دی گئی۔
پاکستان نے بھی کم و بیش اسی طرح کے وعدوں سے آغاز کیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 کی اسمبلی میں کی جانیوالی تقریر میں غیر مسلم اقوام کو برابر کے شہری حقوق دینے کا وعدہ کیا۔ آپ نے فرمایا:
"پاکستان میں آپ آزاد ہیں ، اپنے مندروں میں جائیں ، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں۔ آپ کا کسی مذہب ، ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو ، کاروبار مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔"
اسی طرح قیام پاکستان کے وقت جو ریاستیں پاکستان کے وفاق کا حصہ بنی ان ریاستوں میں بہاولپور (پنجاب)، قلات، لسبیلہ، خاران، مکران (بلوچستان)، خیر پور (سندھ)، چترال، سوات، اَمب، دیر (خیبر پختونخوا)، ہنزا، نگر (گلگت/ بلتستان) شامل ہیں۔
بھارت اور پاکستان کے ان سیاسی وعدوں کا تجزیہ کیا جائے جو انہوں نے شامل ہونے والی ریاستوں کے ساتھ کیے تھے تو دونوں کے ہاتھ ایک طرح کی میل سے آلودہ ہیں۔ قائد اعظم کے غیر مسلم پاکستانیوں کے ساتھ کیے گئے وعدے کو ان کی وفات کے ساتھ ہی قرار داد مقاصد کے مقدس غلاف میں لپیٹ کر دفن کر دیا گیا جس کے بعد سیاسی اعتبار سے غیر مسلم ایک دوسرے درجے کے شہری قرار پائے۔
پاکستان میں شامل ہونے والی ریاستوں نے شامل ہوتے وقت معاہدہ الحاق میں پاکستان کو اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دی تھی۔ یہ صورتحال ون یونٹ کے قیام تک برقرار بھی رہی۔ لیکن آئین میں تاخیر کی وجہ مشرقی اور مغربی پاکستان میں صوبوں اور آبادی کی صورتحال میں یکسانیت نہ ہونے کے باعث مغربی پاکستان کی وحدت وجود میں ائی۔ جو سانحہ مشرقی پاکستان تک برقرار رہی۔ جب ون یونٹ ٹوٹا صوبے اپنی پرانی حالت میں واپس گئے تو اصولی طور پہ ریاستوں کو بھی اپنی اصل حالت میں بحال ہو جانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہ ہوسکا اور ریاستوں کو صوبوں میں ضم کر دیا گیا۔ جس سے معاہدہ الحاق کو روند ڈالا گیا۔
انڈیا نے اگرچہ ایک لمبے عرصہ تک دنیا کے سامنے خود کو سیکولر ریاست کے لبادے میں دکھائے رکھا لیکن اب یہ صورتحال ہے کہ انڈیا کے 30 کروڑ مسلمانوں کی لوک سبھا کے ساتھ ساتھ راجیا سبھا میں کوئی ایک نمائندگی بھی نہیں ہے۔ 27 صوبوں میں سے کسی ایک صوبے میں مسلمان وزیراعلی منتخب نہیں ہوا ہے۔ صرف ایک صوبے کیرالہ میں مسلمان گورنر عارف محمد خان کا تقرر ہوا ہے۔ اس صورتحال سے زیادہ بری صورتحال کا ہونا شائد ممکن نہیں ہے۔ اس نے سیکولرزم کا پردہ چاک کر دیا ہے اور غیر ہندو اقوام اپنی حالت پہ نوحہ کناں ہیں۔
انڈیا کے آئین کے آرٹیکل 35 اور 370 کو ختم کر کے کشمیر کے الحاق کے وقت کشمیر کو دی جانیوالی دستوری ضمانت ختم کر کے اسے بھارت میں ضم کر لیا گیا ہے۔
انڈیا اور پاکستان آبادی اور رقبہ کے اعتبار سے دنیا کے وسیع ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں لیکن غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد ابھی تک کروڑوں میں ہے۔ پاکستان اپنی پچیسویں سالگرہ سے قبل دو حصوں میں ٹوٹ گیا بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں علیحدگی کی تحریکیں زور پہ ہیں۔ بھارت میں بھی درجن کے قریب علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں جو ایک ٹائم بم کی مانند ہیں جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر وفاق میں شامل یونٹس کی تعداد زیادہ ہونے سے ملک کمزور ہونا ہوتے تو یقینی طور پہ بھارت اب تک ٹوٹ چکا ہوتا جو کہ 8 صوبوں سے سفر شروع کر کے 27 تک پہنچ چکا ہے۔ امریکہ 50 ریاستوں کا ایک اتحاد ہے وہ بھی 225 سال سے زائد وقت تک نہ چل پاتا۔ اس لیے ہمیں تاخیر سے ہی سہی لیکن اپنے صوبوں کی جیوگرافیائی حدود کا ازسر نو تعین کرنا چاہیے۔ اس سے صوبائی دارالحکومت سے دور دراز علاقے اپنے قریب طاقت کے مراکز پا سکیں گے اور سہولیات باہم پہنچانے میں آسانی ہو گی۔ ہم نے برصغیر کی سب سے خوشحال ریاست بہاولپور حاصل کی جو اتنی خوشحال تھی کہ ابتداء میں سارے پاکستان کا بوجھ اٹھائے رکھا لیکن ون یونٹ میں شامل ہونے اور بعد میں پنجاب میں ضم ہونے کے بعد پسماندہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
دوسرا قائد اعظم کے غیر مسلموں سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کے لیے خود کو آمادہ کریں۔ یہ قومیں قیام پاکستان میں ہمارے ساتھ شریک سفر تھیں انہیں دوسرے درجے کا شہری نہ بننے دیا جائے۔ بھارت کو بھی پاکستان کی تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے کہ مذہبی انتہا پسندی کا انجام امن تو ہرگز نہیں۔ آج جو مذہب غیر ہندوؤں کا وجود گوارہ نہیں کر رہا کل کو یہ مخصوص ہندوؤں کے علاؤہ دیگر ہندوؤں کا وجود گوارہ نہیں کرے گا۔
آزادی کے 75 سال پورے ہونے پہ دونوں ریاستیں اپنے ان وعدوں کی طرف واپس لوٹ جائیں جو انہوں نے اپنے قیام کے وقت اپنے ساتھ شامل ہونے والی ریاستوں یا دیگر اقوام کے ساتھ کیے تھے اسی میں فلاح ہے.

Thursday, 7 August 2025

کیا 1930 کی گول میز کانفرنس میں عمران خان کے آباؤ اجداد نے علامہ اقبال اور قائد اعظم کے ساتھ شرکت کی تھی؟

یہ آرٹیکل پہلی بار 8 اگست 2022 کو فیس بک پیج کے لیے لکھا گیا تھا یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔ 

سابق وزیر اعظم عمران خان صاحب نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے کل ایک تصویر شئیر کی جس میں اس بات پہ فخر کیا گیا کہ 1930 کی گول میز کانفرنس میں علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح کے ہمراہ ان کے گرینڈ فادر (نانا یا دادا) کے بھائی زمان خان اور خالو جہانگیر خان بھی شامل تھے۔

یہ تصویر کافی زیادہ وائرل ہو رہی ہے لیکن اس میں تھوڑی بہت توصیح ہونا لازمی ہے۔ لوگ اسے عمران خان کی شئیر کردہ تصویر سمجھ کر شئیر کر رہے ہیں لیکن یہ تاریخی طور پہ کنفیوژن پیدا کر رہا ہے۔

پہلی بات یہ کہ قائد اعظم اور علامہ اقبال نے جو کانفرنس میں ایک ساتھ شرکت کی تھی وہ 1931 کی دوسری کانفرنس تھی۔ پہلی کانفرنس جو کہ 10 نومبر 1930 سے 10 جنوری 1931 تک جاری رہی اس میں علامہ اقبال کو پنجاب میں یونینسٹ پارٹی کے وزیر اعلیٰ سر فضل حسین کی مخالفت کے باعث مدعو ہی نہیں کیا گیا تھا۔

دوسرا یہ وہ ہی دورانیہ ہے جب وہ مسلم لیگ کے صدر بنے اور مشہور خطبہ آلہ باد دیا جو پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے مطابق تصور پاکستان کے ظہور کا باعث بنا۔ علامہ اقبال نے یہ خطبہ 29 دسمبر 1930 بروز سوموار دیا تھا جب برطانیہ میں پہلی گول میز کانفرنس چل رہی تھی۔ اسی سال کا حوالہ سابق وزیر اعظم نے اپنی پوسٹ میں دیا ہے۔

دوسری گول میز کانفرنس 7 ستمبر 1931 سے یکم دسمبر 1931 کو منعقد ہوئی۔ یہ وہ کانفرنس تھی جس میں علامہ اقبال بھی مدعو تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی تھی اور شئیر کی جانیوالی تصویر بھی اسی دورانیہ کی ہے جب اقبال دوسری کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے تھے۔

اب رہی بات کہ کیا عمران خان کے گرینڈ فادر کے بھائی زمان خان اور خالو جہانگیر خان نے گول میز کانفرنس میں شرکت کی تھی یا نہیں۔ اس کے جواب کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ گول میز کانفرنس میں انہی شراکا کو شرکت کی اجازت تھی جنہیں حکومت برطانیہ نے مدعو کیا تھا۔

برطانوی حکومت نے آئینی اصلاحات کے لیے انڈیا میں بھرپور کوشش کی لیکن ہندوستانیوں کو کسی حل پہ متفق نہیں کیا جا سکا تھا۔ سائمن کمیشن کا بائیکاٹ، نہرو رپورٹ، دہلی تجاویز، قائد اعظم کے 14نکات اسی سلسلے کی کڑی تھیں۔ آخر کار برطانیہ نے ہندوستانی نمائندوں کو لندن بلا کر انہیں کسی متفقہ حل پہ قائل کرنے کی کوشش کی۔ گول میز کانفرنس کے تین سیشن ہوئے جس میں پہلا 1930 دوسرا 1931 جبکہ تیسرا 1932 کو ہوا۔

دوسری گول میز کانفرنس میں حکومت برطانیہ نے ہر سیاسی جماعت اور ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو بلایا۔ سٹیفن لیگ کی کتاب امپیریل انٹرنیشنل ازم : دی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس اینڈ میکنگ آف انڈیا ان لندن 1930-32

(Imperial Internationalism: The Round Table Conference and the Making of India in London, 1930–1932)

ایک مستند حوالا ہے جس میں انڈیا سے مدعو کیے جانیوالے افراد کی ایک طویل فہرست شام کی گئی ہے جس کے مطابق

گورنمنٹ انڈیا کی نمائندگی س۔پی۔راما سوامی ائیر، نریندرا ناتھ لا، رام چندرا راؤ نے کی۔ انڈین نیشنل کانگریس کی طرف سے واحد شریک مہاتما گاندھی صاحب تھے۔

مسلمانوں کی طرف سے شامل نمائندے یہ تھے۔سر آغا خان سوئم، مولانا شوکت علی خان، محمد علی جناح، اے۔کے۔فضل الحق، سر محمد اقبال، محمد شفیع، محمد ظفر اللہ خان ، سر سید علی امام، مولوی محمد شفیع داودی، راجہ شیر محمد آف ڈومیلی، اے۔ایچ غزنوی، حافظ ہدایت حسین، سید محمد بادشاہ صاحب بہادر، ڈاکٹر شفقت احمد خان، جمال محمد روتھر، خواجہ میاں روتھر، نواب صاحبزادہ سید محمد مہر شاہ

ہندؤں کی نمائندگی (کانگریس کے علاؤہ) ایم۔ آر جیاکر، بی۔ایس مونجی، دیوان بہادر راجہ ناریندرا ناتھ جبکہ لبرل انڈین میں سے جے۔این باسو، سی۔وائی چینتامانی، تیج بہادر سپرو، وی۔ایس سری نیواسا ساستری، چمن لعل ہرییال نے کی۔

جسٹس پارٹی آف انڈیا کی نمائندگی راجہ آف بوبیلی، راماسامے مدالیار، سر آئے پی پٹرو، بھاسکر راؤ نے کی۔ نچلی ذات کے ہندوؤں کی نمائندگی امبیڈکر، ریٹاملائی سری نیواسن اور

سکھوں کی نمائندگی سردار اوجھل سنگھ، سردار سمپورن سنگھ نے کی۔

پارسی قوم کی نمائندگی کاؤس جی جہانگیر، ہومی مودی، پیروز سیٹھنا، انڈین عیسائی باشندوں کی نمائندگی سوریندر کمار دتا، اے ٹی پانیرسویلم نے کی۔ انڈین یورپی باشندوں کی نمائندگی ای۔سی بینتھال، سر ہوبرٹ کار، ٹی ایف گیون جونز، سی۔ای ووڈ

اینگلو انڈین باشندوں کی نمائندگی ہینری گڈنی نے کی۔

خواتین شرکا میں سروجنی نائیڈو ، بیگم جہاں آراء شاہنواز، رادھا بائی سبروان شامل تھے۔

جاگیرطبقے کی نمائندگی کے لیے یوپی کے محمد احمد سعید خان چھتاری، بہار کے علاقے دربھنگا سے تعلق رکھنے والے کمیشور سنگھ، اڑیسہ سے سر پروواش چندرا متر کو مدعو کیا گیا۔

صنعت کاروں میں سے گھن شیام داس برالا، سر پورش اوتمداس تھاکر داس، مانک جی دادا بھائی ، جبکہ مزدور طبقے کی نمائندگی کے لیے این۔ایم جوشی، بی۔ شیوا راؤ ، وی۔وی۔گری بلایا گیا۔

یونیورسٹیز کی نمائندگی کے لیے سید سلطان احمد، بیشوار دیال سیٹھ کو دعوت نامی آیا۔ ان کے علاؤہ برما کی نمائندگی کے لیے پدما جی گنوالا، سندھ سے سر شاہنواز بھٹو، غلام حسین ہدایت اللّٰہ ، آسام سے چندردھر باروا ، صوبہ سرحد سے صاحبزادہ عبدالقیوم خان، صوبہ سی۔پی سے ایس بی ٹیمب کو بلایا گیا تھا۔

ان احباب کے علاؤہ کسی انڈین کو دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے دعوت نامی موصول نہیں ہوا تھا۔ اور یہ کوئی سیاسی جلسہ بھی نہیں تھا جس میں ہر کوئی جا سکتا تھا۔اب اگر عمران خان صاحب کا اسرار ہے کہ ان کے خالو جہانگیر خان اور گرینڈ فادر کے بھائی زمان خان بھی مسلمانوں کی نمائندگی کے لیے مدعو تھے تو انہیں کوئی ٹھوس تاریخی شہادت دینی چاہیے۔ محض تصویر شئیر کرنا اور اس میں نشاندھی کرنا گول میز کانفرنس میں شرکت کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔

اس ضمن میں زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ برطانیہ میں مقیم ہندوستانیوں کی جانب سے ہندوستانی شراکا کو دیے جانیوالے کسی ظہرانے کے دوران یہ تصویر لی گئی ہو گی۔ کیونکہ اس تصویر میں نظر آنے والے احباب کی تعداد اس تعداد سے بہت کم ہے جو اس میں شریک تھے ۔

Monday, 4 August 2025

قرآن مجید کے تراجم کے مسائل اور ریاستی ذمہ داری

 

یہ آرٹیکل سب سے پہلے 4 اگست 2024 کو فیس بک پیج کے لیے لکھا گیا تھا یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔

قرآن مجید کے ترجمہ کو لیکر مسائل بہت قدیمی ہیں۔ کئی صدیوں تک علما اس بات پہ بضد رہے کہ اس کا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن جب برصغیر میں شاہ ولی اللہ جیسی بڑی اور قد آور شخصیت نے اس ٹیبو کو توڑ ڈالا تو پھر جس کی کہیں نہیں چلی اس نے قرآن پہ طبع آزمائی کی اور کئی تراجم مارکیٹ میں آ گئے۔ قرآن مجید کے تراجم میں فرق پہ اختلاف پہلے فکری نوعیت کا تھا کیونکہ انگریز سرکار کسی کو مذہب کی بنیاد پہ قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتی تھی بس آپ کتاب کے بدلے کتاب لکھ کر اعتراض کر سکتے تھے۔ تب کے علما بھی بہت قانون پسند ہوا کرتے تھے۔ مجال ہے کسی کو گستاخی پہ جان سے سے مار دینے کا کوئی فتویٰ جاری کیا ہو۔ پھر انگریز سے آزادی مل گئی اور علما بھی آزاد ہو گئے اب تراجم میں دوسروں کے ایمان کا جائزہ لینے کا رواج بھی پانے لگا۔

پاکستان میں بریلوی مسلک کے رجحان رکھنے والے افراد کثرت سے پائے جاتے ہیں جو اپنے لیے ایک صدی قبل کی علمی شخصیت احمد رضا خان بریلوی کی کتب کو حرف آخر کے طور پہ لیکر چلتے ہیں۔ احمد رضا خان بریلوی نے کنزالایمان کے نام سے قرآن مجید کا ترجمہ کیا جو آج تک ان کے ہاں معتبر ترین قرآن کا فہم سمجھا جاتا ہے۔

احمد رضا خان بریلوی صاحب کے ترجمہ قرآن کے آخر پہ اس ترجمے کا دیگر کئی دوسرے تراجم کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے۔ جس کا ایک مقصد کنزالایمان کا امتیاز ثابت کرنا ہے وہیں پہ دوسرے تراجم کا غیر معیاری، قرآن و سنت کے برعکس اور گستاخی پہ مبنی ثابت کرنا بھی ہے۔ 

دوسرے مکاتب فکر نے بھی کئی ایسی کتب تحریر کیں جن میں یہ ثابت کیا گیا کہ کنزالایمان دراصل قرآن مجید میں تحریف کی ایک گھناؤنی سازش ہے۔ مخالف فرقے کے لوگوں نے جو کنزالایمان پہ اعتراضات عائد کیے ان میں اس کا ظاہر نظم قرآنی سے ہٹ کر ہونا، شان نزول سے مطابقت نہیں رکھتا، وحی الٰہی، فہم رسول ﷺ اور فہم صحابہ کے خلاف ہونا، عربی گرائمر کے اعتبار ترجمہ کا غلط ہونا، احادیث صحیحہ کے خلا ف ہونا، ۔ترجمے کا عقلاً مخدوش ہونا، ہر اعتبار سے نامناسب ہونا، قرآن مجید میں اس کی کسی گنجائش کا  نہ ہونا، ترجمے کا ضعیف ہونا، سیاق و سباق کے خلاف ہونا، ترجمہ کا دشوار ہونا، برصغیر کی عوام کو سمجھ سے بالاتر ہونا اور پرانی اردو پر مشتمل ہونا جیسے سنگین اعتراضات شامل ہیں۔  

اسطرح وہ قرآن جو اپنی ٹیکسٹ کے اعتبار سے واحد چیز ہے جو امت میں مشترک ہیں وہ تراجم کی صورت میں مختلف فیہ ہو گئی۔ جس سے اس کا پیغام اپنے معنویت کھو بیٹھا۔ قرآن مجید منتشر معاشرے کو یکجا کرنے کے لیے نازل ہوا ہے اس لیے اگر اس کے تراجم کی بنیاد پہ امت میں تفریق پیدا ہوتی ہے تو ایسے تراجم نظر آتش کر کے واپس اس کی اصل کی طرف آنا چاہیے۔

قرآن مجید کا قریب قریب ہر زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے اور اس کے کئی مترجمین ایسے بھی ہیں جو مسلمان بھی نہیں ہیں بلکہ محض عربی زبان میں مہارت حاصل کرنے کے بعد اسے اپنی زبان میں عام فہم بنا لیا۔ قرآن مجید کا سب سے پہلے ترجمہ بھی عیسائیوں نے کیا تھا۔

ریاست کو اس ضمن میں ایک درجہ آگے آنے کی ضرورت ہے۔ قرآن کو سرکاری دستاویز قرار دے کر ہر فرد کو اس کا ترجمہ کرنے اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ بلکہ عربی زبان میں بہترین مہارت رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد میں ایک کمیٹی بنا کر قرآن کے الفاظ کو عام فہم بنانے کے لیے سرکاری سطح پہ ترجمہ کر کے چھاپ دیا جائے جسے ہر کوئی پڑھ کر مستفید ہو سکے۔ 

اس ضمن میں اہل عرب میں جو قدیم عربی کے ماہرین ہیں ان سے معاونت بھی لی جا سکتی ہے تاکہ مختلف اصطلاحات اور محاوروں کا درست معنی نکالا جا سکے۔اس کے بعد اگر کوئی گروہ اس ترجمے کے برعکس ترجمہ کرے تو ریاست اپنی حدود میں وہ سزا دے جو ریاستی قوانین کے تحت تجویز کی گئی ہے۔

حضرت عثمان غنی کو جامع القرآن کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے امت کو ایک قرآن پہ جمع کیا۔ ڈاکٹر حمیداللہ کے مطابق حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جامع القرآن کہا جاتا ہے اس کے معنی یہ نہیں کہ انہوں نے قرآن کو جمع کیا۔ اس کی تاویل ہمارے مورخوں نے یہ کی ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو ایک ہی قرآن پر جمع کیا۔ جو اختلاف بولیوں میں پایا جاتا تھا اس سے ان کو بچانے کے لیے مکہ معظمہ کے تلفظ والے قرآن کو انہوں نے نافذ کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر یہ اجازت دی تھی کہ مختلف قبائل کے لوگ مختلف الفاظ کو مختلف انداز میں پڑھ سکتے ہیں تو اب اس کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی کیونکہ مکہ معظمہ کی عربی اب ساری دنیائے اسلام میں نافذ اور رائج ہو چکی ہے۔ اس طرح حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمانوں کو ایک قرآن مجید پر جمع کیا۔ خدا ان کی روح پر اپنی برکات نازل فرمائے۔ 

اس لیے ریاست بزور طاقت پہلے ایک ترجمہ پہ قوم کو جمع کرے پھر اس انحراف کی صورت میں سزا پہ عمل درآمد ممکن ہوگا۔ ایسے میں جب پہلے سے موجود تراجم پہ اعتراضات موجود ہیں تو پھر کسی نئے ترجمے پہ اعتراضات بھی اسی نوعیت سے سمجھے جائیں گے جو پہلوں پہ ہیں۔